Column

حلق، سکہ اور ریاستی مہارت

حلق، سکہ اور ریاستی مہارت
تحریر : شکیل امجد قادق
ایک لڑکا دو روپے کا سکہ ہوا میں اچھال کر دانتوں سے پکڑنے کا کھیل کھیل رہا تھا۔ یہ محض ایک معصوم کرتب تھا، ایک ہلکی سی شرارت، جیسے ایک عام آدمی اپنی محدود آمدنی کے ساتھ زندگی گزارنے کی کوشش کرتا ہے۔ ہر بار سکہ اچھلتا، فضا میں ایک لمحے کو چمکتا اور پھر دانتوں میں آ کر رک جاتاجیسے مہینے کی تنخواہ چند دنوں کے لیے سکون کا دھوکہ دے دیتی ہے۔ مگر کھیل ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا۔ ایک لمحہ ایسا بھی آیا جب سکہ غلط زاویے سے گرا اور سیدھا حلق میں جا پھنسا۔ سانس رک گئی، چہرہ نیلا پڑنے لگا، آنکھوں میں خوف تیرنے لگا۔ یہی وہ لمحہ تھا جہاں کھیل ختم ہوا اور حقیقت نے اپنا چہرہ دکھایا۔
یہ منظر کسی ایک لڑکے کا نہیں، ایک پوری قوم کا عکس ہے۔ یہاں ہر شہری کسی نہ کسی سکہ بازی میں مصروف ہے، کوئی بجلی کے بل کے ساتھ، کوئی پٹرول کی قیمت کے ساتھ، کوئی ٹیکس کی نئی قسط کے ساتھ۔ سب اپنے اپنے سکے سنبھالنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر اکثر وہی سکہ حلق میں جا اٹکتا ہے۔ پھر سانس رکتی ہے، زندگی بوجھ بن جاتی ہے، اور انسان بے بسی سے اردگرد دیکھتا ہے کہ کوئی اسے بچانے آئے۔ لڑکے کا باپ چیخ رہا تھا، مدد کے لیے پکارتا ہوا۔ یہ چیخ صرف ایک باپ کی نہیں تھی، یہ اس معاشرے کی اجتماعی آواز تھی جو ہر بحران میں بلند ہوتی ہے۔ کبھی آٹے کے لیے قطاریں لگتی ہیں، کبھی چینی کے لیے، کبھی دوائی کے لیے، اور کبھی انصاف کے لیے۔ مگر ہر بار آواز گونجتی ہے اور دیواروں سے ٹکرا کر واپس آ جاتی ہے۔ اس دوران نظام کہیں نہ کہیں خاموشی سے تماشا دیکھ رہا ہوتا ہے، جیسے یہ سب اس کے لیے ایک معمول کی مشق ہو۔ پھر ایک کردار نمودار ہوتا ہے بھورے رنگ کے سوٹ میں ملبوس، درمیانی عمر کا ایک شخص۔ اس کے چہرے پر اعتماد ہے، چال میں ٹھہرا، اور انداز میں وہی بے نیازی جو اختیار کے ایوانوں میں پلتی ہے۔ وہ آگے بڑھتا ہے، لڑکے کا حلق پکڑتا ہے، اور اس کی کمر تھپتھپانا شروع کرتا ہے۔ پہلے ہلکے ہاتھ سے، جیسے کوئی نرم پالیسی متعارف کروائی جا رہی ہو۔ پھر زور سے، جیسے اچانک سخت فیصلے نافذ کر دئیے گئے ہوں۔ یہ تھپکیاں محض طبی امداد نہیں تھیں، یہ وہی معاشی جھٹکے تھے جو عوام کو دئیے جاتے ہیں پہلے تسلی، پھر دبا، اور آخرکار مکمل نچوڑ۔
لڑکا تڑپتا ہے، کھانستا ہے، اور بالآخر الٹی کر دیتا ہے۔ سکہ باہر آ جاتا ہے۔ تماشائی سکون کا سانس لیتے ہیں، جیسے کسی بحران پر قابو پا لیا گیا ہو۔ باپ کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں، وہ بیٹے کو گلے لگا لیتا ہے اور اس اجنبی کو عقیدت سے دیکھتا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں حقیقت اور طنز ایک دوسرے میں گھل جاتے ہیں۔ باپ پوچھتا ہے، ’’ کیا آپ ڈاکٹر ہیں؟‘‘، یہ سوال سادہ ضرور ہے مگر اس کے پیچھے پوری قوم کی نفسیات چھپی ہوئی ہے، ہم ہر اس شخص کو نجات دہندہ سمجھ لیتے ہیں جو ہمیں وقتی طور پر بچا لے۔
مگر جواب آتا ہے، ’’ نہیں بھائی، میں وزیر خزانہ ہوں‘‘ اور یہ میری تربیت کا حصہ ہے کہ کس طرح عوام کے حلق سے پیسہ نکالنا ہے۔ یہ جملہ کسی خنجر کی طرح دل میں اترتا ہے۔ اچانک سارا منظر واضح ہو جاتا ہے۔ یہ کوئی امدادی کارروائی نہیں تھی، یہ ایک تربیتی مشق تھی۔ یہ بچائو نہیں تھا، یہ نچوڑنے کا ہنر تھا۔ اور سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ جسے بچایا گیا، وہی شکر گزار بھی ہے۔ یہاں سکہ محض دو روپے کا نہیں رہتا، یہ پورے معاشی نظام کی علامت بن جاتا ہے۔ یہ وہ ٹیکس ہے جو ہر چیز پر لگتا ہے، وہ بل ہے جو ہر ماہ بڑھتا ہے، وہ مہنگائی ہے جو ہر دن نئی حد پار کرتی ہے۔ عوام اسے نگلنے کی کوشش کرتے ہیں، برداشت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر وہ حلق میں اٹک جاتا ہے۔ پھر یہی ماہرین آتے ہیں، کمر تھپتھپاتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ ہم مسئلہ حل کر رہے ہیں، جبکہ درحقیقت وہ صرف سکہ نکال کر اپنی جیب میں ڈال رہے ہوتے ہیں۔
یہ ایک ایسا ملک ہے جہاں حکمران خود کو خادم کہتے ہیں، مگر ان کی زندگی بادشاہوں جیسی ہوتی ہے۔ ان کے لیے بجلی مفت، پٹرول مفت، علاج مفت، رہائش مفت، اور عوام کے لیے ہر چیز مہنگی سے مہنگی تر۔ یہاں خادم وہ ہے جو سب کچھ لے جائے اور مالک وہ ہے جو سب کچھ دے کر بھی خاموش رہے۔ یہ تضاد محض ایک حادثہ نہیں، یہ ایک سوچ ہے، ایک نظام ہے، جو برسوں سے پروان چڑھ رہا ہے۔
وزیر خزانہ کا کردار یہاں صرف ایک فرد نہیں، ایک پورا ادارہ، ایک مکمل ذہنیت ہے۔ یہ وہ سوچ ہے جو معیشت کو صرف اعداد و شمار میں دیکھتی ہے، انسانوں میں نہیں۔ جس کے لیے کامیابی کا مطلب یہ ہے کہ خزانہ بھر جائے، چاہے عوام کا سانس ہی کیوں نہ رک جائے۔ یہ وہ فلسفہ ہے جس میں ترقی کا پیمانہ عوام کی خوشحالی نہیں بلکہ سرکاری رپورٹوں کی خوبصورتی ہوتی ہے۔
اس کہانی میں سب سے تلخ پہلو یہ ہے کہ باپ شکر گزار ہے۔ وہ اس شخص کو دعا دے رہا ہے جس نے اس کے بیٹے کے حلق سے سکہ نکالا، مگر اسے یہ احساس نہیں کہ یہ سکہ نکالنے والا ہی وہ نظام ہے جو روزانہ لاکھوں لوگوں کے حلق میں یہی سکہ پھنساتا ہے۔ ہم اسی غلط فہمی میں زندہ ہیں کہ ہمیں بچایا جا رہا ہے، حالانکہ ہمیں صرف اگلے مرحلے کے لیے تیار کیا جا رہا ہوتا ہے۔
یہ کھیل کبھی ختم نہیں ہوتا۔ ہر روز ایک نیا سکہ اچھالا جاتا ہے، ہر روز کوئی نہ کوئی اس کا شکار بنتا ہے، اور ہر روز کوئی نہ کوئی ’’ ماہر‘‘ آ کر اپنی مہارت دکھاتا ہے۔ عوام سانس کھوتے ہیں، نظام اپنی کارکردگی دکھاتا ہے، اور تاریخ ایک اور طنزیہ باب لکھ دیتی ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ سکہ کہاں گیا، بلکہ یہ ہے کہ یہ کھیل کب رکے گا۔ کب عوام یہ سمجھیں گے کہ ہر تھپکی مدد نہیں ہوتی، کچھ تھپکیاں صرف اس لیے دی جاتی ہیں کہ آخری سکہ بھی باہر نکل آئے۔ کب ہم یہ فیصلہ کریں گے کہ اپنے حلق کو خود بچانا ہے، نہ کہ ہر بار کسی ’’ ماہر‘‘ کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا ہے۔
جب تک یہ شعور پیدا نہیں ہوتا، تب تک یہ کہانی دہرائی جاتی رہے گی۔ سکہ اچھلتا رہے گا، حلق میں پھنستا رہے گا، اور کوئی نہ کوئی وزیر خزانہ اپنی تربیت مکمل کرتا رہے گا۔ اور ہم؟ ہم ہر بار اسی طرح آنسو بہا کر شکر ادا کرتے رہیں گے کہ ہمیں بچا لیا گیا، حالانکہ حقیقت میں ہم صرف ایک اور کامیاب آپریشن کا حصہ بن چکے ہوں گے۔

جواب دیں

Back to top button