Column

ٔقربانی کا جانور: عقیدت، احتیاط اور بیوپاریوں کی فنکاری

ٔقربانی کا جانور: عقیدت، احتیاط اور بیوپاریوں کی فنکاری
تحریر : رفیع صحرائی
ٔعیدِ قربان کی آمد میں اب ایک ماہ سے بھی کم عرصہ باقی ہے۔ گلی کوچوں میں قربانی کے جانوروں کی آمد اور منڈیوں کی گہما گہمی کا آغاز ہو چکا ہے۔ آئندہ چند روز میں آپ کو ہر طرف جانور ہی جانور نظر آئیں گے۔ قربانی محض ایک مذہبی فریضہ نہیں بلکہ سنتِ ابراہیمی کی وہ یادگار ہے جسے ہر صاحبِ استطاعت مسلمان بڑے ذوق و شوق سے ادا کرتا ہے۔ اس عبادت کا اصل جوہر ’’ گوشت خوری‘‘ نہیں بلکہ ’’ تقویٰ‘‘ ہے، اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ اپنی حیثیت سے بڑھ کر خوبصورت اور تندرست جانور کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں۔
لیکن یاد رکھیے! جہاں یہ ایام اللہ کی رضا کے حصول کا ذریعہ ہیں، وہیں کچھ بددیانت عناصر کے لیے یہ ’’ سیزن‘‘ دولت سمیٹنے کا موقع بن جاتا ہے۔ عقیدت جب سادگی کے ساتھ ملتی ہے تو اکثر بیوپاریوں کے دھوکے کا شکار ہو جاتی ہے۔ قربانی کا جانور خریدتے وقت جہاں آپ کا دل مطمئن ہونا چاہیے، وہاں آپ کی آنکھ کا بصیر بھی بیدار ہونا ضروری ہے۔
محکمہ لائیو سٹاک پنجاب کے اصولوں کے مطابق قربانی کا جانور خریدتے وقت سب سے پہلے اس کی عمر اور صحت پر توجہ دیں۔ گائے یا بیل کے لیے کم از کم عمر 2سال اور بکری یا دنبے کے لیے 1سال ہونا ضروری ہے۔ عمر کی پہچان کا سب سے معتبر طریقہ دانت ہیں۔ جانور کے سامنے والے دو مستقل دانت نکلے ہوئے ہونے چاہئیں۔ آج کل بیوپاری کم عمر جانوروں کو قربانی کا اہل دکھانے کے لیے مصنوعی دانت بھی لگا دیتے ہیں اس لیے دانتوں کو ہلا کر اور بغور دیکھ کر تسلی کر لیں۔ جہاں تک جانور کے جسمانی خدوخال کا تعلق ہے تو جانور نہ بہت دبلا ہو اور نہ ہی ایسا غیر فطری موٹا کہ چلنے سے قاصر ہو۔ اس کی جلد چمکدار ہو، آنکھیں روشن اور صاف ہوں اور ناک سے پانی یا جھاگ نہ نکل رہا ہو۔
ٔبدقسمتی سی ہمارے معاشرے میں ’’ مقدس کاموں‘‘ میں بھی ملاوٹ آ چکی ہے۔ بیوپاری حضرات جانور کو پرکشش بنانے کے لیے اس پر پینٹ کر دیتے ہیں یا مصنوعی سینگ لگا دیتے ہیں۔ بعض اوقات جانور کو نمک والا پانی پلایا جاتا ہے تاکہ وہ زیادہ وزنی اور پھولا ہوا نظر آئے۔ اگر آپ اناڑی ہیں تو تنہا منڈی جانے کی غلطی ہرگز نہ کریں، بلکہ کسی ایسے سمجھدار دوست یا بزرگ کو ساتھ لے جائیں جو بیوپاریوں کی ان ’’ فنکاریوں‘‘ سے واقف ہو۔
جدید دور میں فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جانوروں کی تصاویر لگا کر لوگوں کو راغب کیا جاتا ہے۔ سستے جانور کا لالچ دے کر معصوم خریداروں کو نامعلوم مقامات پر بلایا جاتا ہے، جہاں اکثر اغوا برائے تاوان اور لوٹ مار کی وارداتیں رپورٹ ہوئی ہیں۔
یاد رکھیے! قربانی کا جانور دیکھ بھال کر اور خود جا کر خریدنے کی چیز ہے۔ سوشل میڈیا کے ’’ کلو کے حساب سے سستا جانور‘‘ کے اشتہارات اکثر ایک بڑے جال کا حصہ ہوتے ہیں۔ جانور خریدنے کے لیے کسی دور دراز اور نامعلوم جگہ کا سفر اختیار مت کریں۔
ٔجانور خریدنے کے بعد آپ کی ذمہ داری ختم نہیں ہوتی۔ جانور کو متوازن غذا دیں، کوڑا کرکٹ یا پلاسٹک کی تھیلیاں ہرگز نہ کھانے دیں۔ اس بات کی تسلی کر لیں کہ جانور ویکسین شدہ ہو، خاص طور پر ’’ گل گھوٹو‘‘ اور ’’ منہ کھر‘‘ جیسی بیماریوں سے بچائو کی تدابیر مکمل ہوں۔ خریداری کے بعد منڈی سے گھر لانے کے لیے جانور کو ٹرانسپورٹ کرتے وقت اسے تکلیف نہ دیں اور گھر لانے کے بعد اسے سایہ دار جگہ اور صاف پانی فراہم کریں۔
ٔقربانی ایک ایثار کا نام ہے، لیکن اس ایثار میں عقل و فہم کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔ مستند مویشی منڈیوں یا قابلِ اعتماد فارمز کا انتخاب کریں۔ آپ چاہے ملک کے کسی بھی حصے میں ہوں اگر جانور کے معاملے میں کوئی شک ہو تو حکومتِ پنجاب کی ہیلپ لائن 08000-9211پر رابطہ کر کے مفت مشورہ لیا جا سکتا ہے۔ یاد رکھیے! آپ کا ایک محتاط فیصلہ نہ صرف آپ کو مالی نقصان سے بچائے گا بلکہ آپ کی قربانی کو سنت کے عین مطابق تندرست اور عیب سے پاک جانور کی صورت میں یقینی بنائے گا۔

جواب دیں

Back to top button