تازہ ترینخبریںدنیاسپورٹسپاکستان

لندن میراتھن 2026: امین مکاتی کی تاریخی پیش قدمی، ‘سکس اسٹار’ اعزاز سے محض دو قدم دور

*لندن میراتھن 2026: امین مکاتی کی تاریخی پیش قدمی، ‘سکس اسٹار’ اعزاز سے محض دو قدم دور*

لاہور: دنیا کے کٹھن ترین کھیلوں میں شمار ہونے والی طویل فاصلے کی دوڑ ‘میراتھن’ میں پاکستان کے نامور ایتھلیٹ امین مکاتی ایک ایسی تاریخی کامیابی کی دہلیز پر پہنچ گئے ہیں جو انہیں تمام چھ ‘ورلڈ میراتھن میجرز’ مکمل کرنے والا پہلا پاکستانی بنا دے گی۔

لندن میں منعقدہ عالمی میراتھن میں کراچی سے تعلق رکھنے والے امین مکاتی نے پیشہ ورانہ مہارت اور غیر معمولی ذہنی ہم آہنگی کا ثبوت دیتے ہوئے 2:45:02 کے ریکارڈ وقت میں فنش لائن عبور کی۔ ماہرین کے مطابق یہ کارکردگی محض ایک انفرادی فتح نہیں بلکہ اس معتبر ‘سکس اسٹار’ میڈل کی جانب ایک فیصلہ کن قدم ہے جو دنیا کے چھ بڑے میراتھن مقابلوں کو کامیابی سے مکمل کرنے والے ایتھلیٹس کو تفویض کیا جاتا ہے۔

امین مکاتی اس سے قبل برلن، شکاگو، بوسٹن اور استنبول جیسے معتبر عالمی مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی کر چکے ہیں۔ اب ان کے تاریخی ہدف کی تکمیل میں صرف نیویارک اور ٹوکیو میراتھن کی رکاوٹ باقی ہے۔ امین کا عزم ہے کہ وہ تمام چھ بڑی میراتھن ‘سب تھری’ (تین گھنٹے سے کم وقت) میں مکمل کر کے بین الاقوامی افق پر پاکستان کا پرچم سربلند کریں۔

لندن کی مشکل ترین گزرگاہوں پر امین نے انتہائی نظم و ضبط پر مبنی حکمتِ عملی اپنائی۔ انہوں نے دوڑ کا آغاز محتاط انداز میں کیا، جہاں پہلے 5 کلومیٹر کا فاصلہ 19:08 منٹ اور نصف فاصلہ 1:21:43 میں طے کیا۔ میراتھن کے وہ آخری کلومیٹر جہاں بڑے بڑے رنرز ہمت ہار جاتے ہیں، امین نے وہاں اپنی رفتار میں کمی نہیں آنے دی اور ثابت قدمی کے ساتھ اپنی منزل مقصود تک پہنچے۔

لندن میراتھن 2026 پاکستانی رننگ کمیونٹی کے لیے مجموعی طور پر خوش آئند ثابت ہوئی۔ برطانیہ میں مقیم پاکستانی رنر عبداللہ محمد اطہر نے 2:39:53 کا وقت نکال کر تیز ترین پاکستانی ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ خواتین کے زمرے میں سارہ طہور لودھی نے 3:25:02 میں دوڑ مکمل کر کے اپنی بہترین جسمانی فٹنس اور پیشہ ورانہ عزم کا مظاہرہ کیا۔

امین مکاتی اپنی اس مسلسل کامیابی کا کریڈٹ اپنے کوچ ڈاکٹر رضوان آفتاب احمد اور معاون ادارے ‘ACTIVIT’ کے فراہم کردہ اسٹرکچرڈ سپورٹ سسٹم کو دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عالمی سطح کے مقابلوں میں کامیابی کے لیے سائنسی بنیادوں پر ترتیب دی گئی غذا، بروقت ریکوری اور مالی سرپرستی بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔

امین مکاتی کا یہ سفر محض ذاتی سنگ میل نہیں بلکہ پاکستان میں اینڈورینس اسپورٹس کے نئے دور کا آغاز ہے۔ ان کی یہ ممکنہ تاریخی کامیابی مستقبل کے نوجوان پاکستانی ایتھلیٹس کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوگی۔

جواب دیں

Back to top button