ColumnImtiaz Ahmad Shad

سوشل میڈیا ایک دو دھاری تلوار 

سوشل میڈیا ایک دو دھاری تلوار

تحریر : امتیاز احمد شاد

سوشل میڈیا آج کے دور میں انسانی زندگی کا ایک لازمی حصہ بن چکا ہے، خصوصاً پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاں نوجوان آبادی کا تناسب بہت زیادہ ہے۔ فیس بک، ٹوئٹر ( ایکس)، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک جیسے پلیٹ فارمز نے نہ صرف لوگوں کے آپس میں رابطے کو آسان بنایا ہے بلکہ معلومات کے حصول اور ترسیل کے طریقوں کو بھی مکمل طور پر بدل دیا ہے۔ تاہم اس کے اثرات یکساں طور پر مثبت نہیں بلکہ اس کے کئی منفی پہلو بھی سامنے آئے ہیں، خاص طور پر نوجوان نسل پر اس کے اثرات بہت گہری اور دور رس ہیں۔ نوجوان، جو کسی بھی قوم کا مستقبل سمجھے جاتے ہیں، سوشل میڈیا کے ذریعے نہ صرف دنیا بھر کے رجحانات سے جڑتے ہیں بلکہ اپنی شناخت، سوچ اور رویوں کو بھی اسی کے مطابق ڈھالنے لگتے ہیں۔ ایک طرف سوشل میڈیا نوجوانوں کو اظہارِ رائے کی آزادی دیتا ہے، انہیں اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقع فراہم کرتا ہے اور دنیا بھر کی معلومات تک رسائی آسان بناتا ہے، تو دوسری طرف یہ ان کی ذہنی صحت، تعلیمی کارکردگی اور سماجی رویوں پر منفی اثرات بھی مرتب کر رہا ہے۔

پاکستان میں نوجوانوں کی بڑی تعداد سوشل میڈیا کو تفریح، معلومات اور رابطے کے لیے استعمال کرتی ہے، لیکن اس کا حد سے زیادہ استعمال ان کی روزمرہ زندگی میں عدم توازن پیدا کر رہا ہے۔ کئی نوجوان گھنٹوں موبائل فونز پر مصروف رہتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں اور وہ حقیقی زندگی کے تعلقات سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر دکھائی جانے والی مصنوعی اور مثالی زندگیوں کو دیکھ کر نوجوانوں میں احساسِ کمتری، بے چینی اور ڈپریشن جیسے مسائل بھی پیدا ہو رہے ہیں۔ خاص طور پر وہ نوجوان جو اپنی زندگی کو دوسروں سے موازنہ کرتے ہیں، اکثر ذہنی دبائو کا شکار ہو جاتے ہیں۔ مزید یہ کہ سوشل میڈیا پر غیر اخلاقی مواد، نفرت انگیز تقاریر اور منفی رجحانات بھی نوجوانوں کے ذہنوں کو متاثر کر رہے ہیں، جس سے ان کی شخصیت کی تشکیل پر منفی اثر پڑتا ہے۔

سوشل میڈیا کا ایک نہایت اہم اور تشویشناک پہلو فیک نیوز یعنی جھوٹی خبروں کا پھیلا ہے، جو پاکستان سمیت دنیا بھر میں ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ فیک نیوز ایسی معلومات پر مشتمل ہوتی ہے جو یا تو مکمل طور پر غلط ہوتی ہیں یا پھر انہیں سیاق و سباق سے ہٹا کر پیش کیا جاتا ہے تاکہ لوگوں کو گمراہ کیا جا سکے۔ پاکستان میں سوشل میڈیا صارفین کی ایک بڑی تعداد بغیر تصدیق کے معلومات کو آگے شیئر کر دیتی ہے، جس کی وجہ سے جھوٹی خبریں تیزی سے پھیل جاتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف عوام میں غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں بلکہ بعض اوقات یہ خبریں معاشرتی انتشار، خوف اور بداعتمادی کو بھی جنم دیتی ہیں۔ مثال کے طور پر کسی واقعے کی غلط رپورٹنگ یا کسی شخصیت کے بارے میں جھوٹی خبر عوامی ردعمل کو بھڑکا سکتی ہے اور امن و امان کی صورتحال کو خراب کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ سیاسی مقاصد کے لیے بھی فیک نیوز کا استعمال کیا جاتا ہے، جس سے عوام کی رائے پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی جاتی ہے۔

فیک نیوز کے پھیلائو کی ایک بڑی وجہ میڈیا لٹریسی یعنی معلومات کو پرکھنے کی صلاحیت کا فقدان ہے۔ بہت سے نوجوان اور دیگر صارفین اس بات سے آگاہ نہیں ہوتے کہ کون سی خبر مستند ہے اور کون سی نہیں، جس کی وجہ سے وہ غیر ارادی طور پر غلط معلومات کے پھیلائو کا حصہ بن جاتے ہیں۔ اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ تعلیمی اداروں میں میڈیا لٹریسی کو فروغ دیا جائے تاکہ نوجوان معلومات کو تنقیدی نظر سے دیکھنا سیکھیں اور کسی بھی خبر کو شیئر کرنے سے پہلے اس کی تصدیق کریں۔ حکومت اور سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی چاہیے کہ وہ فیک نیوز کے خلاف موثر اقدامات کریں اور ایسے مواد کی نشاندہی اور روک تھام کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کریں۔

اگر سوشل میڈیا کے مثبت استعمال کی بات کی جائے تو یہ ایک نہایت طاقتور ذریعہ ہے جو افراد اور معاشرے کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ پاکستان میں بہت سے نوجوان سوشل میڈیا کو تعلیم، کاروبار اور سماجی خدمات کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ آن لائن لرننگ پلیٹ فارمز، تعلیمی ویڈیوز اور ڈیجیٹل کورسز کے ذریعے نوجوان گھر بیٹھے علم حاصل کر سکتے ہیں۔ اسی طرح فری لانسنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور ای کامرس جیسے شعبوں میں بھی سوشل میڈیا نے نئے مواقع پیدا کیے ہیں، جس سے نوجوان خود مختار بن رہے ہیں اور ملکی معیشت میں حصہ ڈال رہے ہیں۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا سماجی مسائل کو اجاگر کرنے اور عوامی شعور بیدار کرنے کا بھی ایک موثر ذریعہ ہے۔ مختلف سماجی مہمات، فلاحی سرگرمیاں اور آگاہی پروگرام سوشل میڈیا کے ذریعے وسیع پیمانے پر پھیلائے جا سکتے ہیں، جس سے مثبت تبدیلی لانے میں مدد ملتی ہے۔

اس کے برعکس سوشل میڈیا کا منفی استعمال کئی سنگین مسائل کو جنم دے رہا ہے۔ وقت کا ضیاع، سائبر بُلنگ، آن لائن ہراسانی اور جھوٹی معلومات کا پھیلائو اس کے نمایاں منفی پہلو ہیں۔ نوجوان اکثر سوشل میڈیا پر غیر ضروری مباحثوں، تنازعات اور منفی سرگرمیوں میں الجھ جاتے ہیں، جس سے ان کی توانائیاں ضائع ہوتی ہیں اور وہ تعمیری کاموں سے دور ہو جاتے ہیں۔ سائبر بُلنگ خاص طور پر ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے، جس میں افراد کو آن لائن پلیٹ فارمز پر تنگ کیا جاتا ہے، ان کی تضحیک کی جاتی ہے یا انہیں دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں متاثرہ افراد شدید ذہنی دبائو اور خوف کا شکار ہو سکتے ہیں۔ مزید یہ کہ سوشل میڈیا پر ذاتی معلومات کا بے احتیاطی سے اشتراک بھی سکیورٹی خطرات کو بڑھا دیتا ہے، جس سے فراڈ اور دیگر جرائم کے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔

سوشل میڈیا ایک دو دھاری تلوار کی مانند ہے جس کا استعمال انسان کے اپنے ہاتھ میں ہے۔ اگر اسے مثبت اور تعمیری مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ ترقی، تعلیم اور آگاہی کا ایک موثر ذریعہ بن سکتا ہے، لیکن اگر اس کا غلط استعمال کیا جائے تو یہ فرد اور معاشرے دونوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ پاکستان کے نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ سوشل میڈیا کے استعمال میں اعتدال سے کام لیں، اپنے وقت کا بہتر انتظام کریں اور معلومات کو شیئر کرنے سے پہلے اس کی تصدیق کریں۔ اسی طرح والدین، اساتذہ اور حکومت کو بھی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہوگا اور نوجوانوں کی رہنمائی کرنی ہوگی تاکہ وہ اس جدید ٹیکنالوجی سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں اور اس کے منفی اثرات سے محفوظ رہیں۔

جواب دیں

Back to top button