ColumnImtiaz Aasi

سیاسی جماعتوں کو استحکام پارٹی کی تقلید کرنی چاہیے

سیاسی جماعتوں کو استحکام پارٹی کی تقلید کرنی چاہیے
نقارہ خلق
امتیاز عاصی
ملک وجود میں آنے سے قبل کچھ سیاسی جماعتیں منصہ ظہور پر آچکی تھیں، پھر وقت گزرنے کے ساتھ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ نون اور پی ٹی آئی کے علاوہ دیگر علاقائی جماعتیں منظر عام پر آ گئیں۔ پیپلز پارٹی کی وجہ تسمیہ ایوب خان کے ساتھ ذوالفقار علی بھٹو کے تعلقات کشیدہ ہوئے تو بھٹو نے وزارت چھوڑ کر سیاسی جماعت بنا لی۔ بھٹو کی پھانسی کے بعد طاقتور حلقوںکو پیپلز پارٹی کے مقابل کسی سیاسی جماعت کی اشد ضرور ت تھی۔ چنانچہ قرعہ فال میاں نواز شریف کے نام نکلا اور وہ میدان سیاست میں آگئے۔ بعض حلقے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون سے نالاں ہوئے تو انہیں ایک نئی سیاسی جماعت کی ضرورت پڑ گئی جیسا کہ آج کل نئی نئی سیاسی جماعتیں مارکیٹ میں آرہی ہیں۔ درمیانی عرصہ میں نواز شریف اور بھٹو کی بیٹی نے کئی بار راج کیا اور کئی مرتبہ اقتدار سے علیحدہ ہونا پڑا۔ بے نظیر بھٹو کی شہادت نے پیپلز پارٹی کی کمر توڑ دی کیونکہ عوام بھٹو کے بعد اس کی بیٹی کو اقتدار میں دیکھنا چاہتے تھے۔ ایک وقت آیا جب وہ جلاوطنی کے بعد وطن لوٹیں تو کراچی میں سانحہ کارساز پیش آیا جس میں وہ محفوظ رہیں مگر آن دیدہ ہاتھ بی بی کے درپے تھے، بِالْآخِر لیاقت باغ کے جلسہ میں ایک بڑی خاتون لیڈر کو شہید کر دیا گیا۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ پر نظر ڈالیں تو سیاست دانوں کے اقتدار کا مرکز طاقتور حلقے رہے ہیں۔ محمد خان جونیجو، بے نظیر بھٹو، نواز شریف اور عمران خان انہی حلقوں کی آشیرباد سے اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ یہ علیحدہ بات ہے عمران خان باغی نکلا اور اپنے محسنوں کی خواہشات پر پورا اترنے میں ناکام رہا جس کی پاداش میں اسے اقتدار سے محروم ہونا پڑا۔ جہاں تک میری ناقص رائے ہے عمران خان اقتدار سے ہٹائے جانے کی بعد اپوزیشن میں رہتا تو شائد آج وہ قید وبند میں نہیں ہوتا۔ ایک بات ضرور ہے خان نے قید و بند میں رہتے ہوئے جتنی مقبولیت حاصل کی وہ اسی کا مقدر ہے۔2024ء انتخابات میں بعض نئی نئی سیاسی جماعتیں منظر عام ہر آنا شروع ہوئیں۔ ایک ایسا گروپ جو کبھی عمران خان کا دست و بازو رہا تھا نے پی ٹی آئی کے مقابلے میں ایک نئی سیاسی جماعت کی بنیاد رکھی۔ جی یہ وہی لوگ تھے جو کبھی عمران خان سے وفا داری کا دم بھرا کرتے تھے لیکن عمران خان کے وزارت عظمیٰ پر آنے کے بعد وہ لوگ جنہیں خان سے بہت سی امیدیں وابستہ تھیں وہ دم توڑ گئیں جس کے بعد ان حلقوں نے پی ٹی آئی سے علیحدگی اختیار کر لی۔ حالات نے کروٹ بدلی جس کے نتیجہ میں پاکستان استحکام پارٹی کی بنیاد رکھنا پڑی۔ جہانگیر ترین اور حلیم خان کبھی عمران خان کے دست و بازو تھے۔ بعض حلقوں نے علیم خان کو پنجاب کا وزیراعلیٰ بنانے کی خواہش کی تو عمران خان بزدار کو ہٹانے کے لئے رضامند نہیں ہوا۔ درحقیقت عمران خان اور ان کے درمیان تنازعے کا آغاز یہیں سے ہوا۔ یہ اور بات ہے خان کو اقتدار سے ہٹانے کیلئے کچھ بیرونی طاقتوں نے بھی حصہ ڈالا مگر اصل تنازعہ وزیراعلیٰ کے منصب کی تبدیلی سے شروع ہوا۔ عمران خان جو احتساب کا بڑا داعی تھا وزارت عظمیٰ کے دوران وہ بھی نہیں کر سکا، بلکہ اقتدار سے علیحدہ کئے جانے کے بعد نجی چینلوں پر اسے کہتے سنا وہ احتساب کرنے کا خواہاں تھا مگر اسے کرنے نہیں دیا گیا۔ بہرکیف وقت گزرنے کے ساتھ بعض حلقوں نے پی ٹی آئی کا توڑ کرنے کے لئے استحکام پارٹی کی بنیاد رکھی جس کے روح رواں علیم خان ہیں۔ وفاقی وزیر مواصلات ہیں، گلگت بلستان کے حالیہ الیکشن میں پاکستان استحکام پارٹی نے مقبولیت کا جو ریکارڈ توڑا وہ اپنی مثال آپ ہے۔ اب دیکھتے ہیں آزاد کشمیر میں کیا ہوتا ہے پاکستان استحکام پارٹی نے تیس سے زیادہ امیدوار کھڑے کر دیئے ہیں۔ پارٹی کے ایک سنیئر رہنما کا چند روز قبل بیان تھا استحکام پارٹی آزاد کشمیر میں سپرپرائز دے گی۔ سوال ہے بھلا سرپرائز کیوں نہیں دے گی۔ جو پارٹی چند گھنٹوں میں امیدوار کھڑے کر سکتی ہے۔ گلگت بلستان اور آزاد کشمیر میں دفاتر نہ ہونے باوجود سیٹیں لے سکتی وہ اس کے لئے آزاد کشمیر کے الیکشن میں اپنے امیدواروں کو کامیاب کرانا بھلا کون سا مشکل ہے۔ ہم تو یہیں کہیں گے بانی پی ٹی آئی سے بہت بڑی غلطی سرزد ہوئی جس کی پاداش میں وہ جیل میں ہے۔ جے یو آئی کے امیر مولانا فضل الرحمن نے کسی کا ہزار اختلاف ہو سکتا ہے مگرا یک بات ضرور ہے وہ کھری اور سچی باتیں کرتے ہیں جیسا کہ انہوں نے کئی موقعوں پر یہ بات کہی کہ انہیں سابق آرمی چیف نے عمران خان کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کرنے کو کہا تھا جس پر من و عن سیاست دانوں نے عمل کیا۔ مجھے سمجھ نہیں آیا درمیان میں یہ سائفر والا معاملہ کیسے آگیا۔ عمران خان کے ساتھ ایک حادثہ یوں بھی ہوا اس کے بعض ساتھی اچھے وقت میں ساتھ رہنے اور مشکل گھڑی میں چھوڑ جانے والے تھے۔ جن جن لوگوں پر اس نے مہربانیاں کیں اور جن جن سے اسے امیدیں وابستہ تھیں وہی اسے چھوڑ گئے۔ بقول شاعر جن پتوں پر تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے والی بات ہوئی۔ پی ٹی آئی کے بانی کی ایک بات قابل تعریف ضرور ہے وہ مضبوط اعصاب کا مالک ہے۔ ایک جیلر نے میرے سوال پر بتایا تھا کہ اس نے اپنی ملازمت کے دوران دو سیاست دانوں کو دلیری سے جیل کاٹتے دیکھا ہے ایک رانا ثناء اللہ اور دوسرا عمران خان۔ بلا شبہ عمران خان بعض حلقوں سے ڈیل کرکے بیرون ملک چلا جاتا تو نواز شریف اور عمران خان میں کوئی فرق نہیں رہتا۔ گو عمران خان جیل میں ہے نہ جانے اسے کتنے برس ابھی جیل میں رہنا ہے مگر قیدوبند اس کے عزم میں تبدیلی نہیں لا سکی بلکہ وہ پہلے سے زیادہ حوصلے میں ہے۔ ہاں عمران خان کی جگہ جہاں اسے رکھا گیا ہے میاں نواز شریف ایک دن قیام نہیں کر سکتا تھا۔ ہم عمران خان کے حوصلے کی داد دیتے ہیں مگر ایک بات ضرور ہے اس نے طاقت ور حلقوں سے ٹکر لے کر اپنے سمیت اپنے حامیوں کو مایوس کیا۔ آخر میں ہمیں پاکستان استحکام پارٹی اور اس کے قائد کو داد دینی چاہیے اتنے تھوڑے وقت میں پارٹی کو مقبولیت کی عروج پر پارٹی کو پہنچا دیا۔

جواب دیں

Back to top button