Column

اہلِ حق: ابتلا، استقامت اور کامیابی

اہلِ حق: ابتلا، استقامت اور کامیابی
شہر خواب ۔۔۔
صفدر علی حیدری ۔۔۔
تاریخ کا دامن صاحبان حق کے خون سے تر ہے ۔ کبھی کبھی تو لگتا ہے تاریخ لکھنے میں اہل حق کے خون کی روشنائی کام آئی ہے۔ یہ حقیقت ابدی ہے کہ حق کا راستہ کبھی آسان نہیں رہا۔ جو بھی سچائی، انصاف اور اللہ کی رضا کے لیے کھڑا ہوا، اسے مخالفت، طعن، محرومی، قید، جلاوطنی اور قربانی جیسے مراحل سے گزرنا پڑا۔ جب کہ باطل ہمیشہ طاقت، دولت اور ظاہری شان و شوکت کے ساتھ جلوہ گر ہوا۔
مگر تاریخ کا فیصلہ یہی رہا کہ باطل کی عمر خواہ کتنی ہی طویل محسوس ہو، اس کا انجام زوال ہے اور حق آزمائشوں کی آگ میں تپ کر مزید نکھر کر آنے والی نسلوں کے لیے مینارہ نور بن جاتا ہے۔
دنیا کی سب سے بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ لوگ حق کو آسانیوں، اقتدار یا کامیابی کے ترازو میں تولتے ہیں۔ اگر دولت مل جائے تو اسے اللہ کی رضا اور اگر مصیبت آ جائے تو اسے ناکامی تصور کر لیا جاتا ہے۔ حالاں کہ قرآن اس دنیا کو جزا کی نہیں بلکہ امتحان کی جگہ قرار دیتا ہے جہاں ایمان، کردار، صبر اور استقامت کو جانچا جاتا ہے۔
اس لیے حق کا سفر پھولوں کی سیج نہیں کانٹوں بھرا راستہ ہے ۔ صبر و قربانی کی راہ ہے۔
حق کی پہچان مصیبت نہیں بلکہ قرآن، سنت، عدل، تقویٰ اور حسنِ اخلاق ہے۔ جو شخص ان اصولوں پر ثابت قدم رہتا ہے وہی اہلِ حق کے قافلے میں شمار ہوتا ہے۔
حضرت نوح علیہ السلام کی زندگی پر نظر ڈالیے ۔ صدیوں دعوت دی، قوم نے مذاق اڑایا اور انہیں دیوانہ کہا، مگر طوفان میں وہی کامیاب رہی اور اپنی طاقت پر نازاں لوگ تاریخ کا حصہ بن گئے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے تنہا باطل عقائد کو چیلنج کیا، جواب میں انہیں آگ میں ڈالا گیا مگر اللہ نے آگ کو سلامتی کا گہوارہ بنا دیا۔ پھر ہجرت، تنہائی اور اپنے لختِ جگر کی قربانی کا امتحان آیا مگر انہوں نے ہر مرحلے پر ثابت کیا کہ اللہ پر یقین رکھنے والا اپنے رب کے وعدے کا محتاج نہیں ہوتا۔
حضرت یوسف علیہ السلام کی پوری زندگی آزمائشوں کی داستان ہے۔ بھائیوں کی سازش، کنویں کی تاریکی، غلامی، کردار پر حملہ اور برسوں کی قید۔ اگر دنیاوی پیمانے سے دیکھا جائے تو ناکامی دکھائی دیتی ہے، مگر اللہ نے انہی آزمائشوں کو عزت اور اقتدار کا ذریعہ بنا دیا۔ قید سے نکلنے والا وہی قیدی مصر کا خزانوں کا امین بنا۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقابل فرعون تھا جو خدائی کا دعویدار تھا۔ ایک عظیم سلطنت کا حامل تھا ۔ دوسری طرف موسی علیہ السلام تھے، جن کے پاس نہ لشکر تھا نہ خزانہ ۔ مگر جب حق اللہ کی تائید کے ساتھ کھڑا ہو تو ظاہری وسائل فیصلہ کن نہیں رہتے۔ بالآخر وہی سمندر جو راستہ روک رہا تھا راستہ بن گیا اور فرعون اپنی فوج سمیت موجوں کے نیچے دفن ہو گیا۔
اگر انبیائے کرام کی آزمائشوں کا عروج کسی ایک ہستی میں ہے تو وہ رحمت للعالمین حضرت محمدؐ کی ذات ہے۔اعلانِ نبوت کے ساتھ ہی مخالفت کا طوفان اٹھا: آپ کو جادوگر اور شاعر کہا گیا، راستوں میں کانٹے بچھائے گئے، گندگی پھینکی گئی۔ شعبِ ابی طالب میں معاشی بائیکاٹ ہوا۔ طائف میں پتھروں سے لہولہان کر دیا گیا۔ چچا حمزہ کی شہادت دیکھی۔ صحابہؓ کو اذیتیں سہتے پایا، مگر کبھی انتقام اور مایوسی کو دل میں جگہ نہ دی۔ پھر وہ وقت آیا جب مکہ آپ کے سامنے سرنگوں تھا، اگر چاہتے تو برسوں کے ظلم کا بدلہ لے سکتے تھے مگر فاتحِ مکہ نے عفو و درگزر کا راستہ اختیار کیا۔
یہی اہلِ حق کا امتیاز ہے کہ طاقت ملنے پر بھی انصاف، رحم اور اخلاق کا دامن نہ چھوڑیں۔
انبیائے کرامٌ کے بعد اہل بیت اطہار اور صحابہ کرامؓ نے حق کی خاطر سب سے زیادہ قربانیاں دیں۔ ہجرت کی رات حضرت علیؓ نے جان کی پروا کیے بغیر رسولؐ کے بستر پر سونا قبول کیا۔ حضرت فاطمہؓ نے سادگی اور خدمت کا نمونہ پیش کیا۔ امام حسنؓ نے امت کی خاطر خلافت چھوڑ دی۔ کربلا کا دردناک باب۔ جہاں امام حسینؓ نے اصول، انصاف اور حق کے تحفظ کے لیے قربانی دی۔
کربلا کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ حق کا سودا کسی قیمت پر نہیں کیا جا سکتا۔
حضرت بلال حبشیؓ۔ تپتی ریت پر لٹایا گیا اور سینے پر پتھر رکھے گئے مگر زبان پر صرف ’’ احد، احد‘‘ تھی۔
حضرت سمیہ اور حضرت یاسر۔ نے ایمان کی قیمت جان دے کر ادا کی۔
حضرت صہیب رومی۔ نے ہجرت کے لیے سارا مال چھوڑ دیا۔
غزوہ اُحد ۔ میں ستر جان نثار شہید ہوئے۔
رسولؐ اللہ کے بعد آئمہ دین، محدثین اور ربانی علماء نے بھی اسی قافلہ حق کی امانت کو علم، کردار اور قربانی سے محفوظ رکھا:۔
امام ابوحنیفہ کو منصب کی پیشکش ہوئی مگر حق گوئی متاثر ہونے کے خدشے پر انکار کر دیا اور قید کی صعوبتیں برداشت کیں۔
امام مالک کو سر عام کوڑے مارے گئے مگر علم و دیانت سی پیچھے نہ ہٹے۔
امام احمد بن حنبل نے دورِ آزمائش میں صبر و استقامت کی مثال قائم کی۔
امام بخاری نے حدیث کی خدمت میں پوری زندگی کھپا دی، ہزاروں میل کے سفر کیے، مگر مخالفت، غلط فہمیوں اور جلاوطنی کا سامنا کرنا پڑا۔
امام نسائی محبت علی میں بھرے مجمع میں شدید زد و کوب کیے گئے اور اسی وجہ سے شہید ہو گئے
آزمائش اللہ کی ناراضی نہیں، اگر ایسا ہوتا تو سب سے زیادہ آزمائشیں انبیاٌ پر نہ آتیں۔
حقیقت یہ ہے کہ آزمائش ایمان کو نکھارتی ہے، کردار کو سنوارتی ہے، انسان کو رب کے قریب کرتی ہے، سونا آگ میں تپ کر خالص ہوتا ہے، اسی طرح مومن مشکلات میں ثابت قدم رہ کر روحانی بلندی حاصل کرتا ہے، آزمائش حق اور باطل میں فرق نمایاں کرتی ہے۔
آج کا مسلمان اگر اپنی زندگی پر نظر ڈالے تو آزمائشوں کی نوعیت بدل گئی ہے مگر حقیقت نہیں بدلی۔ پہلے تلواروں کا سامنا تھا، آج فکری انتشار، اخلاقی انحطاط، مادہ پرستی، جھوٹ اور تعصب جیسے چیلنجز ہیں۔
اس دور کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے حق کو اپنے گروہ، مسلک یا شخصیت کے ساتھ وابستہ کر لیا ہے حالاں کہ حق کسی کی جاگیر نہیں۔
حق وہی ہے جو اللہ اور اس کے رسولؐ نے حق قرار دیا۔
اہل حق کی پیچان ہے کہ وہ انصاف کا دامن اس وقت بھی نہ چھوڑیں جب فیصلہ ان کے خلاف ہو۔ سب سے بڑا سرمایہ امید ہے۔ حالات سے مایوس نہیں ہوتے کیونکہ اللہ کے وعدوں پر یقین ہے۔ علم، اخلاق، عدل اور دیانت ان کی اصل قوت ہے۔ شور یا طاقت ان کا وصف نہیں۔
تاریخ کا غیر متبدل اصول یہ ہے کہ باطل کبھی ہمیشہ غالب نہیں رہتا۔ فرعون کے محلات آج کھنڈرات ہیں ۔ ابو جہل کا نام عبرت کی علامت ہے، جبکہ انبیاٌ، اوصیائ، صحابہؓ، اولیائ، صلحاء و شہدا کے نام عقیدت کے ساتھ لیے جاتے ہیں،ہمیں علم کو جذبات پر، کردار کو نعروں پر، عدل کو تعصب پر اور اخلاص کو مفاد پر غالب کرنا ہوگا۔
اہلِ حق کا راستہ آسان نہیں مگر یہی راستہ اللہ کی رضا تک پہنچاتا ہے۔ یہ کبھی آنسو مانگتا ہے، کبھی صبر اور کبھی قربانی۔ لیکن اس کا ہر قدم اللہ کے ہاں محفوظ ہے۔
دنیا کی کامیابیاں وقتی ہیں مگر حق پر استقامت کی کامیابی ابدی ہے۔
انسان کی اصل کامیابی یہ نہیں کہ وہ ہر آزمائش سے بچ جائے بلکہ یہ ہے کہ آزمائش کے ہر مرحلے میں ایمان، اصول اور رب سے وابستگی برقرار رکھے۔
نوابزادہ نصر اللہ خان یاد آئے
پھر شورِ سلاسل میں سرورِ ازلی ہے
پھر پیشِ نظر سنّتِ سجادِ ولی ہے
غارت گری اہلِ ستم بھی کوئی دیکھے
گلشن میں کوئی پھول، نہ غنچہ، نہ کلی ہے
دو حق و صداقت کی شہادت سرِ مقتل
اٹھو! کہ یہی وقت کا فرمانِ جلی ہے
ہم راہ روِ دشتِ بلا روزِ ازل سے
اور قافلہ سالار حسین ابنِ علی ہے
آخر میں خداوند متعال سے دعا ہے کہ وہ ہمیں حق کو حق سمجھ کر اس کی پیروی کرنے، باطل سے بچنے، آزمائشوں میں صبر کرنے اور کردار سے حق کا سچا نمائندہ بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین بجاہ النبی الامین۔

جواب دیں

Back to top button