قومی سلامتی، دہشت گردی کے چیلنجز اور قومی اتحاد کی ضرورت

قومی سلامتی، دہشت گردی کے چیلنجز اور قومی اتحاد کی ضرورت
تحریر: رفیع صحرائی
پاکستان میں گزشتہ کئی دہائیوں سے سلامتی کے چیلنجز مسلسل تبدیل ہوتے رہے ہیں۔ کبھی روایتی جنگ کا خطرہ درپیش رہا، کبھی دہشت گردی نے ملک کے امن و استحکام کو نشانہ بنایا اور اب ہائبرڈ جنگ، سائبر حملوں، اطلاعاتی یلغار اور گمراہ کن پراپیگنڈے نے قومی سلامتی کے تصور کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایسے حالات میں ریاستی اداروں، بالخصوص مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عوام کے درمیان اعتماد، تعاون اور یکجہتی کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
حال ہی میں منعقد ہونے والی 276ویں کور کمانڈرز کانفرنس میں ملکی سلامتی، دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیوں، سرحدی صورتحال، خطے کی مجموعی سکیورٹی اور قومی خودمختاری سے متعلق متعدد اہم امور پر غور کیا گیا۔ کانفرنس میں شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان کی آزادی، سلامتی اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ یہ پیغام صرف عسکری حلقوں تک محدود نہیں بلکہ پوری قوم کے لیے اس امر کی یاددہانی بھی ہے کہ قومی سلامتی ایک مشترکہ ذمہ داری ہے، جس میں ریاست اور عوام دونوں کا کردار یکساں اہم ہے۔
پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے شمار قربانیاں دے چکا ہے۔ ہزاروں فوجی افسران، جوان، پولیس اہلکار، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار اور عام شہری اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ ان قربانیوں کی بدولت ملک میں امن و امان کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی، تاہم حالیہ برسوں میں دہشت گردی کے بعض واقعات نے ایک مرتبہ پھر اس خطرے کی سنگینی کو اجاگر کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ریاست دہشت گردی کے خلاف انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں اور جامع حکمت عملی پر مسلسل زور دے رہی ہے تاکہ انتہا پسند عناصر کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع نہ مل سکے۔
پاکستان کا سرکاری موقف یہ رہا ہے کہ سرحد پار موجود بعض دہشت گرد گروہ اور ان کے سہولت کار ملکی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔ اسلام آباد متعدد مواقع پر یہ مطالبہ بھی کرتا رہا ہے کہ افغان سرزمین کسی بھی ایسے گروہ کے استعمال میں نہ آئے جو پاکستان کے خلاف کارروائیاں کرتا ہو۔ دوسری طرف افغان حکام ایسے الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔ اس اختلافِ رائے کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ برقرار ہے کہ دونوں ہمسایہ ممالک کا امن ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے۔ سرحدی تعاون، انٹیلی جنس کے تبادلے، باہمی اعتماد اور سفارتی روابط ہی ایسے مسائل کا پائیدار حل فراہم کر سکتے ہیں۔ الزام تراشی سے زیادہ ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں ممالک مشترکہ خطرات کا ادراک کرتے ہوئے عملی تعاون کو فروغ دیں۔
پاکستان اور بھارت کے تعلقات بھی گزشتہ کئی برسوں سے کشیدگی کا شکار ہیں۔ سرحدی تنازعات، سفارتی تعطل، اطلاعاتی جنگ اور باہمی بداعتمادی نے خطے کے امن کو متاثر کیا ہے۔ حالیہ مہینوں میں سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے سامنے آنے والے بیانات اور اقدامات نے بھی نئے خدشات کو جنم دیا ہے۔ پاکستان کا موقف ہے کہ پانی جیسے بنیادی اور حساس مسئلے کو سیاسی دبا کا ذریعہ بنانے کے بجائے بین الاقوامی معاہدوں اور قانونی اصولوں کی روشنی میں حل کیا جانا چاہیے۔ جنوبی ایشیا پہلے ہی غربت، موسمیاتی تبدیلی، بے روزگاری اور ترقیاتی مسائل سے دوچار ہے۔ ایسی صورت حال میں کسی بھی نئے بحران کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔
عصرِ حاضر میں جنگ صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہی۔ جدید دنیا میں ریاستوں کو کمزور کرنے کے لیے سوشل میڈیا، جعلی خبروں، نفسیاتی مہمات، سائبر حملوں اور غلط معلومات کا سہارا بھی لیا جاتا ہے۔ ہائبرڈ وار فیئر کا بنیادی مقصد عوام اور ریاستی اداروں کے درمیان اعتماد کو کمزور کرنا، قومی وحدت کو نقصان پہنچانا اور سیاسی و سماجی انتشار کو فروغ دینا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کور کمانڈرز کانفرنس میں بھی اس نئے چیلنج کی نشاندہی کی گئی اور اس کے مقابلے کے لیے قومی سطح پر ہوشیاری، ذمہ دارانہ طرزِ عمل اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ قومی سلامتی صرف عسکری طاقت سے یقینی نہیں بنائی جا سکتی۔ مضبوط معیشت، سیاسی استحکام، آئین و قانون کی بالادستی، موثر طرزِ حکمرانی، معیاری تعلیم، انصاف کی فراہمی اور عوامی اعتماد بھی قومی طاقت کے بنیادی ستون ہیں۔ جب معاشی مشکلات بڑھتی ہیں، سیاسی تقسیم گہری ہوتی ہے یا اداروں پر اعتماد کمزور پڑتا ہے تو بیرونی عناصر کو مداخلت کے مواقع ملتے ہیں۔ اس لیے قومی سلامتی کا تصور محض سرحدوں کے دفاع تک محدود نہیں بلکہ ریاست کے اندرونی استحکام سے بھی جڑا ہوا ہے۔
یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن، مذاکرات اور باہمی احترام کی پالیسی اختیار کرنے کی بات کی ہے۔ چاہے افغانستان کا معاملہ ہو یا بھارت کے ساتھ تعلقات، پاکستان کا سرکاری موقف یہی رہا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے بجائے سفارت کاری، مذاکرات اور بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ اسی طرزِ فکر کو مزید موثر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ خطہ مسلسل کشیدگی کے بجائے ترقی، تجارت اور علاقائی تعاون کی طرف بڑھ سکے۔
مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیت، نظم و ضبط اور قربانیاں اپنی جگہ مسلمہ حقیقت ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں افواجِ پاکستان، پولیس، رینجرز، فرنٹیئر کور اور دیگر اداروں نے جس عزم اور بہادری کا مظاہرہ کیا، وہ قومی تاریخ کا اہم باب ہے۔ ان شہداء اور غازیوں کی خدمات ہمیشہ احترام کی مستحق رہیں گی جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر وطن کے امن کی حفاظت کی۔
اس کے ساتھ ساتھ قومی یکجہتی کی ذمہ داری صرف ریاستی اداروں پر نہیں بلکہ سیاسی قیادت، ذرائع ابلاغ، سول سوسائٹی اور عام شہریوں پر بھی عائد ہوتی ہے۔ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، لیکن قومی سلامتی، دہشت گردی کے خلاف جدوجہد اور ریاستی استحکام جیسے معاملات پر ذمہ داری، احتیاط اور سنجیدگی کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔ اختلافات کو آئینی اور جمہوری حدود کے اندر رکھتے ہوئے قومی مفاد کو مقدم رکھنا ہی بالغ نظری کی علامت ہے۔
آج پاکستان کو جن چیلنجز کا سامنا ہے، ان کا مقابلہ صرف بندوق یا بارود سے ممکن نہیں۔ اس کے لیے قومی اتحاد، معاشی استحکام، سیاسی ہم آہنگی، مضبوط سفارت کاری، جدید ٹیکنالوجی، معیاری تعلیم اور انصاف پر مبنی نظامِ حکمرانی کی ضرورت ہے۔ جب ریاست کے تمام ستون اپنی آئینی ذمہ داریاں موثر انداز میں ادا کریں اور عوام کو یقین ہو کہ قومی فیصلے ملک کے وسیع تر مفاد میں کیے جا رہے ہیں، تو بیرونی دبا اور اندرونی سازشیں خود بخود کمزور پڑ جاتی ہیں۔
276ویں کور کمانڈرز کانفرنس کا بنیادی پیغام بھی یہی ہے کہ پاکستان اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہے۔ ساتھ ہی یہ حقیقت بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ پائیدار امن صرف عسکری تیاری سے نہیں بلکہ سیاسی بصیرت، معاشی مضبوطی، علاقائی تعاون، سفارتی حکمت اور قومی اتحاد سے حاصل ہوتا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو ایک محفوظ، مستحکم اور باوقار مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔
قومی سلامتی کا تقاضا یہی ہے کہ شہداء کی قربانیوں کو یاد رکھا جائے، ریاستی اداروں کی پیشہ ورانہ صلاحیت کو مزید مضبوط بنایا جائے، عوام اور اداروں کے درمیان اعتماد کو فروغ دیا جائے اور اختلافات کے باوجود قومی مفاد کو ہمیشہ مقدم رکھا جائے۔ جب قوم متحد ہو، ریاست مستحکم ہو، معیشت مضبوط ہو اور ادارے آئینی حدود میں رہتے ہوئے اپنے فرائض انجام دیں تو کوئی بیرونی دبائو یا اندرونی انتشار پاکستان کی ترقی کے سفر کو روک نہیں سکتا۔ یہی وہ قومی سوچ ہے جسے فروغ دینا آج وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے۔





