پاکستان میں نئے صوبوں کا قیام: سیاسی مفادات اور دوہرا معیار

پاکستان میں نئے صوبوں کا قیام: سیاسی مفادات اور دوہرا معیار
تحریر: محمود مولوی
پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام اور انتظامی اکائیوں کی تشکیل نو کا معاملہ جتنا انتظامی ہے اس سے کہیں زیادہ سیاسی رنگ اختیار کر چکا ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی، گورننس کی گرتی ہوئی صورتحال اور دور دراز علاقوں میں بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی نے اس بحث کو مستقل طور پر زندہ رکھا ہے تاہم جب ہم پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں بالخصوص پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کے طرزِ عمل کا جائزہ لیتے ہیں تو صوبوں کے قیام کے حوالے سے ایک گہرا تضاد اور دوہرا معیار واضح طور پر بے نقاب ہوتا نظر آتا ہے۔ پنجاب کو تقسیم کرنے کے حامی سیاسی رہنما جب سندھ کی تقسیم کا نام سنتے ہیں، تو ان کا سیاسی بیانیہ یکسر تبدیل ہو جاتا ہے۔
پنجاب میں جنوبی صوبے کا مطالبہ اور پیپلز پارٹی کا سیاسی کارڈ: پاکستان پیپلز پارٹی طویل عرصے سے پنجاب کو تقسیم کرنے اور وہاں جنوبی پنجاب یا سرائیکستان صوبے کے قیام کو اپنے سیاسی مینی فیسٹو اور انتخابی مہم کا حصہ بناتی آئی ہے۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا اس حوالے سے بیانیہ پارٹی کی اسی حکمتِ عملی کو ظاہر کرتا ہے۔بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ نیا صوبہ بنانے کے لیے سب سے پہلے پنجاب اسمبلی کی منظور کردہ قرارداد پر عمل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ سینیٹ کے خصوصی کمیشن نے بھی یہ سفارش کی تھی کہ جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنایا جائے۔ بلاول بھٹو زرداری کے مطابق پہلے جنوبی پنجاب کے حوالے سے قائم قومی اتفاقِ رائے پر عمل درآمد کیا جائے اور پھر آگے بڑھا جائے کیونکہ بیک وقت کئی نئے صوبوں کی بات چیت چھیڑنے سے پہلے سے موجود اتفاقِ رائے بھی خطرے میں پڑ جائے گا۔
یہ سیاسی کارڈ نیا نہیں ہے۔ اگر تاریخی پس منظر دیکھا جائے تو سن 2012میں مرکز میں پیپلز پارٹی کی حکومت کے دوران قومی اسمبلی میں مسلم لیگ ( ن) کے شدید احتجاج اور ہنگامہ آرائی کے باوجود اس وقت کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی پر اعتماد کے اظہار اور جنوبی پنجاب صوبے کے قیام سے متعلق دو اہم ترین قراردادیں منظور کرائی گئی تھیں۔ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ اس خطے کو لاہور کے تسلط سے آزادی دلانے کے نعرے پر کیش کرنے کی کوشش کی ہے۔سینیٹ کے حالیہ اجلاسوں میں پیپلز پارٹی کے سینیٹرز کی جانب سے پنجاب کی تقسیم کے حق میں انتہائی سخت اور جذباتی بیانات سامنے آئے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے سینیٹر رانا محمود الحسن نے ایوان میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا کہ جب کوئی صوبہ حد سے زیادہ بڑا ہو جائے تو انتظامی طور پر اس کا بٹوارہ لازم ہو جاتا ہے۔ ہم نے اب تختِ لاہور کے ساتھ نہیں رہنا، ہمیں ہمارا الگ صوبہ چاہیے، کیوں ہمارا صوبہ سرائیکستان نہیں بن رہا؟ ہمارا ماضی میں بھی دارالحکومت ملتان تھا۔ بہاولپور کی ریاست والوں نے قیامِ پاکستان کے وقت قائد اعظم کا ساتھ دیا تھا ریاست کے خزانے سے پاکستان کو تنخواہیں دی گئی تھیں۔ ہمیں جنوبی پنجاب میں انڈسٹریل زونز، ہائی کورٹ کے مکمل اختیارات اور الگ این ایف سی ایوارڈ چاہیے۔ ہمیں زرعی اور آئی ٹی کی الگ یونیورسٹیاں درکار ہیں ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں پنجاب سے الگ کیا جائے اور بلاول بھٹو زرداری نے خود ہمیں یہ ہدایت کی ہے کہ ہم اپنے صوبے کے حق کے لیے لڑیں۔
سندھ اور کراچی کا معاملہ: جہاں پیپلز پارٹی کو غصہ آ جاتا ہے، پنجاب میں تقسیم کا یہ پورا منطقی اور آبادی پر مبنی اصول اس وقت یکسر لپیٹ کر رکھ دیا جاتا ہے، جب بحث کا رخ سندھ کی طرف مڑتا ہے۔ ملک میں جہاں ایک طرف پنجاب میں نئے انتظامی یونٹس کی باتیں ہو رہی ہیں وہیں کراچی کی بدترین حالتِ زار، کچرے کے ڈھیر، پانی اور ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی اور تباہ حال انفراسٹرکچر کو دیکھ کر کراچی کو الگ صوبہ بنانے یا اسے اسلام آباد کی طرح وفاق کا حصہ بنانے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔
کراچی کی بعض مقامی تنظیمیں اور شہری سیاست کے دھارے طویل عرصے سے کراچی صوبہ یا جنوبی سندھ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ تاریخی طور پر، فنکشنل لیگ کے سربراہ مرحوم پیر صاحب پگاڑا بھی کراچی کو وفاق کا حصہ بنانے کے زبردست حامی تھے تاکہ شہر کا ریونیو اور انتظام براہِ راست مرکز کے پاس ہو جبکہ حال ہی میں لاہور کے سابق سٹی ناظم میاں عامر محمود اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے بھی ملک بھر میں صوبوں کی تعداد بڑھانے کی کھل کر حمایت کی ہے۔ لیکن جیسے ہی کراچی صوبے یا سندھ کی تقسیم کی بات ہوتی ہے پیپلز پارٹی شدید غصے میں آ جاتی ہے اور اسے سندھ دھرتی کی تقسیم اور سندھی قومانیت پر حملہ قرار دے کر مسترد کر دیتی ہے۔ ناقدین اسی نقطے کو پیپلز پارٹی کا سب سے بڑا دوہرا معیار قرار دیتے ہیں کہ جو اصول، جو محرومیاں اور جو آبادی کا دبا پنجاب میں صوبے کا جواز بنتا ہے وہی سب کچھ کراچی اور سندھ کے شہری علاقوں میں کیوں لاگو نہیں ہوتا؟
اس دہرے معیار اور سیاسی فائدہ اٹھانے کی دوڑ میں پاکستان تحریک انصاف بھی پیچھے نہیں رہی۔ پی ٹی آئی نے 2018 ء کے عام انتخابات سے قبل جنوبی پنجاب کے عوام سے الگ صوبہ بنانے کا باقاعدہ معاہدہ اور اعلان کیا تھا، جس کے نتیجے میں اسے وہاں سے بھاری انتخابی کامیابی ملی تاہم مرکز اور پنجاب میں ساڑھے تین سال حکومت برقرار رکھنے کے باوجود پی ٹی آئی نے اس پر کوئی عملی آئینی پیش رفت نہیں کی بلکہ محض ایک سیکرٹریٹ بنا کر معاملے کو ٹال دیا۔ دونوں جماعتیں ( پی پی پی اور پی ٹی آئی) اچھی طرح جانتی ہیں کہ نئے صوبے کے قیام کے لیے دو تہائی اکثریت اور شدید آئینی پیچیدگیاں حائل ہیں لیکن وہ اسے محض ایک سیاسی نعرے کے طور پر زندہ رکھنا چاہتی ہیں۔
دوسری طرف، خیبر پختونخوا ( کے پی) میں ہزارہ صوبے کا مطالبہ بھی دہائیوں پرانا ہے۔ مسلم لیگ ( ن) روایتی طور پر ہزارہ صوبے کی حامی رہی ہے کیونکہ ہزارہ ڈویژن ن لیگ کا مضبوط گڑھ تھا اور میاں نواز شریف کے داماد ( کیپٹن ( ر) صفدر) وہاں سے الیکشن جیتتے رہے ہیں، لیکن اقتدار میں آنے کے بعد ن لیگ نے بھی ہزارہ کے عوام کے لیے کچھ نہیں کیا۔ اس کا خمیازہ ن لیگ کو سیاسی منظر نامے میں بھگتنا پڑا جب خود میاں نواز شریف کو ایبٹ آباد سے بدترین سیاسی شکست کا سامنا کرنا پڑا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام اب خالی نعروں سے مایوس ہو چکے ہیں اور اپنے دورِ حکومت میں کام نہ کرنے کی وجہ سے ( ن) لیگ کی مقبولیت بری طرح متاثر ہوئی۔
اگر نئے صوبوں کی تشکیل کا حقیقی مقصد صرف اور صرف بہتر گورننس، عوام کو ان کی دہلیز پر بنیادی حقوق فراہم کرنا، وسائل کی نچلی سطح پر منصفانہ تقسیم اور متوازن علاقائی ترقی ہے تو یہ اصول کسی ایک مخصوص صوبے ( پنجاب) تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ انتظامی اصلاحات کا عمل پورے پاکستان میں یکساں اور غیر جانبدارانہ اصولوں کے تحت ہونا چاہیے۔ اگر پنجاب میں آبادی اور رقبے کی بنیاد پر نئے انتظامی ڈھانچے کی ضرورت کو تسلیم کیا جا رہا ہے تو سندھ میں بھی سکھر، لاڑکانہ ( شمالی سندھ) اور کراچی، حیدرآباد ( جنوبی سندھ) جیسے نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کے قیام پر سنجیدہ، غیر سیاسی اور قومی سطح کی بحث ناگزیر ہے۔ سیاسی جماعتوں کو اپنے گڑھ بچانے کے لیے دہرے معیار ترک کر کے پورے ملک کے عوام کو برابر کے ترقیاتی مواقع اور بہتر حکمرانی فراہم کرنی ہو گی۔





