ColumnRoshan Lal

پنجابیوں کے مسائل سے لاتعلق پی پی پی پنجاب

پنجابیوں کے مسائل سے لاتعلق پی پی پی پنجاب
روشن لعل
یہ بات بلا تردد کہی جاسکتی ہے کہ پنجاب میں پیپلز پارٹی کی مقبولیت کا گراف تاریخ کی نچلی ترین سطح پر آچکا ہے ۔ جو پیپلز پارٹی ، پاکستان کی سب سے بڑی جماعت بنی ہی اس وجہ سے تھی کہ پنجاب میں اس سے زیادہ ووٹ بنک رکھنے والی کوئی دوسری جماعت نہیں تھی، اسے پنجاب میں غیر مقبول بنانے میں صرف مخالفین کی سازشوں اور پراپیگنڈے نے نہیں بلکہ اس کے اپنے لوگوں کی عوام کے مسائل سے مسلسل لاتعلقی نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ حالیہ دنوں میں پیپلز پارٹی پنجاب کی تنظیم کو عمومی اور پی پی پی لاہور کے عہدیداروں کو خاص طور پر یہ موقع میسر آیا تھا کہ وہ لاہور کے نواح میں پنجاب حکومت کی غفلت کے سبب پیدا ہونے والی سیلابی آفت کا شکارلوگوں کے درمیان جا کر ان سے رابطہ کرتے اور انہیں اپنے ہونے کا احساس دلاتے لیکن ایسا کرنے کی بجائے انہوںنے گورنر ہائوس کی دیواروں کے اندر وہی نعرے لگانے کو ترجیح دی جو اب پنجاب میں اس طرح پرکشش نہیں رہے جس طرح ماضی میں تھے۔
جولائی کے آخری ہفتے کے دوران ،نالہ ڈیگ ، نالہ لیلا اور نالہ بھیڈ کے سیلاب نے لاہور کے قریب اور شاہدرہ سے ملحقہ علاقوں میں شدید تباہی مچائی لیکن اس تباہی کو صرف پنجاب حکومت اور مین سٹریم میڈیا نے ہی نہیں بلکہ دیگر سیاسی جماعتوں سمیت پیپلز پارٹی نے بھی بری طرح نظر انداز کیا۔ جس روز شاہدرہ سے ملحقہ ، لاہور کے نواحی علاقے سیلاب کے پانی میں ڈوبے ہوئے تھے اس دن پیپلز پارٹی کے ایک دوست نے فون پر رابطہ کر کے بتایا کہ پی پی پی لاہور کے نئے صدر فیصل میر اپنی پارٹی کو ضلع میں ماضی کی طرح مقبول بنانے کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں۔ میں نے اس دوست سے کہا کہ اگر ایسا ہے تو فیصل میر ابھی تک شاہدرہ سے ملحقہ ان علاقوں کے لوگوں کے درمیان کیوں نظر نہیں آئے جو سیلاب میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ میرے اس دوست نے نہ صرف مجھ سے یہ معلومات حاصل کیں کہ پنجاب حکومت کی کن غفلتوں کی وجہ سے لوگ سیلاب کی آفت کا شکار ہوئے بلکہ یہ بھی کہا کہ فیصل میر بہت جلد آپ کو سیلاب زدگان کے درمیان اور میڈیا کے سامنے پنجاب حکومت کی سیلاب کا باعث بننے والی غفلتوں کی نشاندہی کرتے نظر آئیں گے۔ افسوس کہ بعد ازاں ایسا کچھ بھی نظر نہیں آیا۔ یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ پی پی پی لاہور کے صدر فیصل میر تو نہیں البتہ ان کی پارٹی کے پنجاب کے صدر حسن مرتضی کی ایک جھلک شاہدرہ کے سیلاب کے دوران ضرور نظر آئی۔
پنجاب میں پیپلز پارٹی کے غیر مقبول ہونے کے متعلق کچھ کہنے سے قبل یہ بات مد نظر رکھنا ضروری ہے کہ بھٹو کے عدالتی قتل کے بعد پی پی پی کی قیادت کے لیے ملک کا سیاسی میدان کبھی بھی خطرات سے خالی نہیں رہا۔ اس کے باوجود پیپلز پارٹی خاص طور پر پنجاب میں گرتی، سنبھلتی اور دوبارہ اٹھتی رہی۔ بھٹو کی موت کے بعد پیپلز پارٹی کا نعرہ ہمیشہ ’’ زندہ ہے بھٹو زندہ ہے‘‘ رہا۔ 1990ء کی دہائی کے آغاز تک پاکستان میں ووٹوں کی تقسیم دو حصوں، بھٹو مخالف اور بھٹو حمایت پر مشتمل تھی۔ پیپلز پارٹی کی قیادت دوبارہ سنبھلنے کے لیے بھٹو کا نام ہمیشہ آلہ کے طور پر استعمال کرتی رہی۔ پیپلز پارٹی کی ہر قسم کی قیادت آج بھی بھٹو کے نام کا سہارا لے کر دوبارہ پیپلز پارٹی کو عوام میں مقبول بنانے کے لیے کوشش کر تی ہے۔ یہ ترکیب اگر ماضی کی طرح کارگر ثابت نہیں ہو رہی تو اس کی وجہ یہ نہیں کہ بھٹو کا نام اہمیت کھو چکا ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے مخالفوں کو سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لیے اب بھٹو کی مخالفت کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو جس ڈھب سے مقتل میں گئے اس وجہ سے ان کی ذات اب یہاں تقریباً سب کے لیے غیر متنازعہ ہو چکی ہے۔ اب کوئی چاہے ان کی تعریف کرے یا نہ کرے مگر بہت کم کوئی ان دونوں کی مخالفت کرنے کی کوشش کرتا ہو۔ جب یہاں بھٹو کی مخالفت کا سوال ہی موجود نہیں ہے تو کوئی بھٹو کی مسلسل حمایت کر کے کس حد تک سیاسی فائدہ حاصل کر سکتا ہے۔
کئی لوگوں کا خیال ہے کہ پیپلز پارٹی کی قیادت سے منسوب کرپشن کی کہانیوں کی وجہ سے عوام اس پارٹی سے دور ہوئے۔اس طرح کے الزامات کا پیپلز پارٹی کے ووٹر پر کسی نہ کسی حد تک منفی اثر ضرور ہوا مگر یہ اثر اس حد تک نہیں ہو سکتا کہ پچاس ہزار سے ایک لاکھ کی گنتی میں حاصل کیے گئے ووٹ کم ہو کر صرف ایک ہزار کے قریب رہ جائیں۔ اگر کرپشن کے الزامات کا اثر کسی لیڈر یا سیاسی جماعت کی مقبولیت کو غیر یقینی حد تک کم کر سکتا ہے تو پنجاب میں یہ اثر مسلم لیگ ن ، تحریک انصا ف اور ان کی لیڈر شپ پر بھی ظاہر ہونا چاہیے، کیونکہ بدعنوانی کے الزامات سے تو یہاں کوئی بھی محفوظ نہیں ہے۔ پیپلز پارٹی کے پنجاب میں غیر مقبول ہونے کی کہانی 1988ء کے انتخابات کے بعد سے شروع ہوئی۔
پنجاب میں 1988ء کے بعد شروع ہونے والی پیپلز پارٹی کی غیر مقبولیت آج غیر یقینی حد تک پہنچ چکی ہے۔ اگر صرف لاہور کی بات کی جائے تو 1988ء کے الیکشن کے دوران پیپلز پارٹی نے اپنے خلاف ہونے والی واضح دھاندلی کے باوجود اس شہر میں قومی اسمبلی کی 9میں سے6اور صوبائی اسمبلی کی 18میں سے 13نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔ اگر پیپلز پارٹی کے لوگوں کو لاہور شہر میں حاصل ہونے والی آخری شاندار کامیابی یاد ہو تو شاید ان کے اندر کہیں یہ احساس بھی موجود ہو کہ نومبر 1988ء کے وسط میں ہونے والے انتخابات سے دو ماہ قبل لاہور سے ملحقہ علاقے شاہدرہ میں ستمبر کے مہینے میں جو بدترین سیلاب آیا تھا، اس سیلاب کے دوران پیپلز پارٹی نے بحیثیت سیاسی جماعت نہ صرف دیگر جماعتوں بلکہ سرکاری اداروں سے بھی ایک ہاتھ آگے جا کر سیلاب زدگان کی امداد کی تھی۔ سیلاب تو شاہدرہ کے ملحقہ علاقوں میں آیا تھا لیکن لاہور شہر کے اندر پیپلز پارٹی کا ہر کارکن سیلاب زدگان کے امداد کے لیے ایک دوسرے بڑھ چڑھ کر حصہ ڈالنے کی کوششوں میں مصروف تھا۔ پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے جس سپرٹ کے ساتھ ستمبر میں سیلاب زدگان کی امداد کے لیے کام کیا بعد ازاں نومبر میں منعقدہ انتخابات میں اسی سپرٹ کے تحت اپنی جماعت کی انتخابی مہم میں بھی حصہ لیا۔ کسی سیاسی جماعت کے رہنمائوں اور کارکنوں کی جو سپرٹ ان کی پارٹی کو عوام میں مقبول بنانے کا باعث بنتی ہے وہ سپرٹ کم از کم پیپلز پارٹی پنجاب اور خاص طور پر پی پی پی لاہور کے لوگوں میں اس وقت ناپید ہو چکی ہے ۔ اگر پیپلز پارٹی لاہور کے لوگوں میں عوامی خدمت کا جذبہ 1988ء کی طرح موجود ہوتا تو وہ نہ صرف شاہدرہ کے نواحی علاقوں میں سیلاب زدگان کے درمیان نظر آتے بلکہ حالیہ سیلاب کا باعث بننے والی پنجاب حکومت کی کوتاہیوں سے جڑے ان حقائق کو بھی منظر عام پر لے کر آتے جنہیں سازش کے تحت مین سٹریم میڈیا پر نشر ہونے سے روکا گیا ہے۔

جواب دیں

Back to top button