کشمیر: آزادی کا ادھورا وعدہ

کشمیر: آزادی کا ادھورا وعدہ
بھارتی یومِ آزادی کے موقع پر جب نئی دہلی میں جشن، تقریبات اور قومی پرچموں کی بہار دکھائی دیتی ہے، اسی وقت مقبوضہ جموں و کشمیر میں ایک مختلف حقیقت دنیا کے سامنے آتی ہے۔ وہاں آزادی کے نعرے بلند کرنے والے کشمیری مسلمان طویل عرصے سے اپنے بنیادی انسانی، سیاسی اور جمہوری حقوق کے حصول کی جدوجہد کررہے ہیں۔ کشمیر کا مسئلہ محض پاکستان اور بھارت کے درمیان سرحدی تنازع نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کے مستقبل، حقِ خودارادیت اور عالمی وعدوں سے جڑا ہوا ایک دیرینہ مسئلہ ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعدد قراردادیں کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت اور آزادانہ و غیر جانب دارانہ استصوابِ رائے کی بات کرتی ہیں، مگر قریباً آٹھ دہائیاں گزرنے کے باوجود ان قراردادوں پر بھارت کی جانب سے عمل درآمد نہیں ہوسکا۔ اقوام متحدہ کے حالیہ ریکارڈ میں بھی اس امر کی نشاندہی کی گئی ہے کہ جموں و کشمیر کا حتمی فیصلہ آزادانہ اور غیر جانب دارانہ رائے شماری کے ذریعے کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے۔ یہی وہ بنیادی سوال ہے جس سے بھارت مسلسل نظریں چرا رہا ہے۔ طاقت کے استعمال، انتظامی اقدامات اور سخت قوانین کے ذریعے کسی قوم کے سیاسی احساسات کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔ تاریخ گواہ ہے کہ عوام کے بنیادی حقوق کو دبانے کی کوششیں وقتی طور پر خاموشی پیدا کر سکتی ہیں، مگر آزادی اور انصاف کی خواہش کو ختم نہیں کرتیں۔ 5اگست 2019ء کو بھارت کی جانب سے جموں و کشمیر کی آئینی حیثیت میں یک طرفہ تبدیلی اور علاقے کو دو یونین ٹیریٹریز میں تقسیم کرنے کے فیصلے نے مسئلے کو مزید پیچیدہ کر دیا۔ اقوام متحدہ کے ریکارڈ میں بھی اس اقدام کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال، انسانی حقوق اور یک طرفہ اقدامات پر تشویش کا اظہار موجود ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں اظہارِ رائے، اجتماع، صحافت اور سیاسی سرگرمیوں پر پابندیوں کے حوالے سے بھی عالمی اداروں نے تشویش ظاہر کی ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے مواصلاتی پابندیوں، من مانی گرفتاریوں اور سیاسی و جمہوری سرگرمیوں پر قدغنوں کی نشان دہی کی تھی۔ ایسے حالات میں یہ سوال پوری عالمی برادری کے سامنے کھڑا ہے کہ اگر انسانی حقوق عالمی اصول ہیں تو ان کا اطلاق مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام پر بھی اسی طرح کیوں نہیں ہوتا؟۔ پاکستان کے لیے کشمیر محض خارجہ پالیسی کا ایک موضوع نہیں۔ کشمیری عوام کے ساتھ پاکستان کے تاریخی، جغرافیائی، مذہبی اور انسانی تعلقات ہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت کی ہے اور عالمی سطح پر ان کی آواز کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔ پاکستان کی اصل طاقت یہ ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کو جنگ کے بجائے سیاسی، سفارتی اور قانونی ذرائع سے حل کرنے کی بات کرتا ہے۔ اسلامی تعاون تنظیم نے بھی کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلے کے حل پر زور دیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کشمیر کے مسئلے کو عالمی سفارتی سطح پر مزید موثر انداز میں پیش کرے۔ دنیا کے اہم دارالحکومتوں، عالمی میڈیا، انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی فورمز پر کشمیر کی صورتحال مسلسل اجاگر ہونی چاہیے۔ کشمیری عوام کی آواز کو مثر انداز میں دنیا تک پہنچانے کی ذمے داری پاکستان آٹھ عشروں سے احسن انداز میں نبھا رہا ہے۔ تاہم اس جدوجہد میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ کشمیری عوام کی اپنی آواز مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ بندوق، طاقت یا یک طرفہ انتظامی اقدامات سے نہیں بلکہ کشمیری عوام کی آزادانہ رائے سے ہونا چاہیے۔ یہی اصول اقوام متحدہ کی قراردادوں میں بھی بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ بھارت کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ کسی متنازع خطے پر طویل فوجی موجودگی مسئلے کا حل نہیں ہوسکتی۔ اگر جنوبی ایشیا کو حقیقی امن، معاشی ترقی اور خوشحالی کی طرف لے جانا ہے تو مسئلہ کشمیر کا منصفانہ اور پائیدار حل ناگزیر ہے۔ کشمیر میں پائیدار امن کے بغیر خطے میں اعتماد کی فضا مکمل طور پر بحال نہیں ہوسکتی۔ پاکستان کو کشمیر پالیسی کو جذبات کے ساتھ جدید سفارتی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا چاہیے۔ مضبوط معیشت، موثر سفارت کاری، عالمی قانون پر مبنی موقف، تحقیق پر مبنی دستاویزات اور بین الاقوامی میڈیا میں مسلسل آواز اٹھانا ہی وہ راستہ ہی جس سے مقبوضہ کشمیر کا مقدمہ مزید قوت کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کیا جاسکتا ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ عالمی طاقتیں دہرا معیار ترک کریں۔ اگر دنیا فلسطین، یوکرین یا دیگر تنازعات میں انسانی حقوق اور حقِ خودارادیت کی بات کرتی ہے تو کشمیر کے عوام بھی اسی اصول کے مستحق ہیں۔ خاموشی کسی تنازع کو ختم نہیں کرتی بلکہ بعض اوقات ظلم کو مزید طول دیتی ہے۔ کشمیری عوام کی جدوجہد نے کئی نسلیں دیکھ لی ہیں۔ ان کے زخم، قربانیاں اور محرومیاں تاریخ کا حصہ بن چکی ہیں۔ پاکستان ان کی آواز کو دنیا تک پہنچانے کا سلسلہ جاری رکھے گا، مگر اس آواز کا اصل مقصد انصاف، امن اور حقِ خودارادیت ہے۔ بھارت کے لیے بھی بہتر راستہ یہی ہے کہ وہ طاقت کے بجائے مذاکرات، جبر کے بجائے انصاف اور یک طرفہ اقدامات کے بجائے کشمیری عوام کی خواہشات کو اہمیت دے۔ کشمیر کا مسئلہ دبانے سے ختم نہیں ہوگا، اسے منصفانہ انداز میں حل کرنا ہی خطے کے مستقبل کی ضمانت ہے۔ بھارت کی آزادی کا جشن اسی وقت مکمل معنویت اختیار کرتا ہے جب دنیا کے ہر انسان کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہو۔ کشمیر کے پہاڑوں سے اٹھنے والی آزادی کی آواز آج بھی عالمی ضمیر کو پکار رہی ہے۔ اب عالمی برادری کو اس آواز کو سننا ہوگا، اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کی طرف بڑھنا ہوگا اور کشمیری عوام کو وہ حق دینا ہوگا جس کا وعدہ عالمی سطح پر بارہا کیا جا چکا ہے۔ پاکستان اس جدوجہد میں کشمیریوں کی توانا، پُرامن اور مسلسل آواز بنا رہے گا۔
قومی دفاع، عزم اور اتحاد
14اگست کا دن ہمیں بزرگوں کی جدوجہد اور پاکستان کے قیام کے مقصد کی یاد دلاتا ہے۔ اسی تناظر میں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب سے سابق آرمی چیفس، ریٹائرڈ فوجی افسران اور جوانوں کے اعزاز میں استقبالیہ ایک اہم اقدام ہے۔ اس تقریب کی اہمیت محض رسمی اجتماع تک محدود نہیں۔ یہ ان افراد کی خدمات کا اعتراف ہے جنہوں نے قیمتی سال وطن کے دفاع، سلامتی اور خودمختاری کے لیے وقف کیے۔ فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد سپاہی وردی اتار دیتا ہے۔ اس کا تجربہ اور وطن سے وابستگی برقرار رہتی ہے، جو قومی سلامتی کے معاملات میں قیمتی سرمایہ ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے سابق فوجیوں کی ملکی دفاع اور قومی استقامت مضبوط بنانے میں خدمات کو سراہا۔ ماضی میں دفاعی ذمے داریاں انجام دینے والے افراد کے تجربے کو موجودہ حالات میں اہمیت دینا قابلِ تحسین ہے۔ یہ امر قومی اداروں کے لیے مثبت مثال بھی ہے۔ جنگیں صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہیں بلکہ دہشت گردی، سائبر خطرات، اطلاعاتی محاذ، انتہاپسندی اور غیر روایتی خطرات بھی ریاستوں کے لیے بڑے چیلنج بن چکے ہیں۔ ایسے حالات میں سابق فوجی افسران اور جوانوں کی پیشہ ورانہ بصیرت قومی اداروں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ ان کے تجربات کو محفوظ اور نئی نسل تک منتقل کرنا ضروری ہے۔ سابق فوجیوں کی جانب سے پاک فوج کی قیادت پر اعتماد اور موجودہ سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مسلسل حمایت کا عزم بھی قابلِ توجہ ہے۔ تاہم قومی دفاع صرف سرحدوں کی حفاظت کا نام نہیں۔ مضبوط ملک کی بنیاد معیشت، معیاری تعلیم، قانون کی بالادستی، انصاف، سماجی اتحاد اور ذمے دار شہریوں پر قائم ہوتی ہے۔ سرحدوں کی حفاظت فوج کی ذمے داری ہے تو معاشی میدان میں ملک کو مضبوط بنانا کاروباری طبقے کا فرض ہے۔ نوجوانوں کو تعلیم اور ہنر فراہم کرنا تعلیمی اداروں کی ذمے داری ہے جب کہ قومی شعور بیدار کرنا اہلِ قلم اور ذرائع ابلاغ کا اہم فریضہ ہے۔ یومِ آزادی ہمیں یاد دلاتا ہے کہ پاکستان کسی ایک طبقے یا ادارے کا نہیں بلکہ تمام پاکستانیوں کا مشترکہ وطن ہے۔ سیاسی اختلافات جمہوری نظام کا حصہ ہیں، مگر قومی سلامتی، خودمختاری اور ملکی سالمیت پر قوم کا متحد ہونا ضروری ہے۔ اختلاف کو دشمنی میں تبدیل کرنے سے قومی قوت کمزور ہوتی ہے۔ ضرورت ہے کہ آزادی کے جشن کو صرف جھنڈیاں لہرانے اور ملی نغمے سننے تک محدود نہ رکھیں بلکہ اسے قومی کردار کی اصلاح کا ذریعہ بنائیں۔ اگر ہر شہری اپنے فرائض دیانت داری سے ادا کرے، قانون کا احترام کرے، دوسروں کے حقوق کا خیال رکھے اور پاکستان کی ترقی کو اپنی ذمے داری سمجھے تو ملک مضبوط بنیاد حاصل کر سکتا ہے۔ سابق فوجیوں کے اعزاز میں منعقدہ استقبالیہ اس قومی روایت کی یاد دہانی ہے کہ جو لوگ وطن کے لیے خدمات انجام دیتے ہیں، قوم انہیں فراموش نہیں کرتی۔ ماضی کی قربانیوں کا اعتراف مستقبل کی ذمے داریوں کا شعور پیدا کرتا ہے۔ آج پاکستان کو اتحاد، نظم و ضبط، برداشت، علم اور محنت کی ضرورت ہے۔ ہمیں اختلافات سے بالاتر ہوکر قومی مفاد کو ترجیح دینا ہوگی۔ پاکستان کی حقیقی طاقت صرف دفاعی حصار میں نہیں بلکہ عوام کے کردار، اتحاد اور عزم میں بھی پوشیدہ ہے۔ یومِ آزادی کا بہترین جشن یہی ہے کہ ہم وطن سے محبت کو عملی کردار میں ڈھالیں اور عہد کریں کہ پاکستان کو مضبوط، پرامن، خوشحال اور باوقار ملک بنانے کے لیے اپنی جگہ پوری دیانت داری سے کردار ادا کریں گے۔ یہ جذبہ قومی زندگی میں امید، حوصلہ اور اتحاد کے فروغ کا باعث ثابت ہوگا۔




