بیمار نظامِ صحت

ذرا سوچئے
بیمار نظامِ صحت
امتیاز احمد شاد
پاکستان کا شعبہ صحت کسی بھی مہذب معاشرے کے بنیادی ستونوں میں سے ایک ہونا چاہیے، کیونکہ صحت مند شہری ہی کسی ملک کی ترقی، خوشحالی اور استحکام کی ضمانت ہوتے ہیں۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان کا صحت کا نظام آج شدید مشکلات سے دوچار ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں روزانہ ہزاروں مریض علاج کی امید لیے آتے ہیں، مگر ان میں سے بہت سے افراد کو بروقت طبی سہولیات، ادویات اور مناسب توجہ میسر نہیں آتی۔ کہیں ڈاکٹرز کی کمی ہے، کہیں نرسنگ اسٹاف ناکافی ہے، کہیں جدید طبی مشینری خراب پڑی ہے اور کہیں ضروری ادویات تک دستیاب نہیں ہوتیں۔ ان حالات میں ایک عام شہری علاج سے زیادہ بے بسی اور مایوسی کا سامنا کرتا ہے۔ بیماری کی تکلیف اپنی جگہ، مگر صحت کے نظام کی خامیاں اس تکلیف کو مزید بڑھا دیتی ہیں۔
چند روز قبل پیش آنے والا ایک افسوسناک واقعہ پوری قوم کے لیے لمحہ فکریہ بن گیا، جب ایک شخص نے اپنے بیمار بچے کے علاج کے سلسلے میں شدید ذہنی دبا اور مایوسی کے عالم میں چلڈرن ہسپتال کی عمارت سے چھلانگ لگا دی۔ اس واقعے نے ہر حساس دل کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ اگرچہ اس سانحے کی اصل وجوہات متعلقہ اداروں کی تحقیقات کے بعد ہی مکمل طور پر سامنے آئیں گی، لیکن اس نے ایک اہم سوال ضرور پیدا کیا ہے کہ آخر ایسا کون سا درد، کون سی بے بسی اور کون سی ناامیدی تھی جس نے ایک باپ کو اپنی جان لینے جیسے انتہائی قدم پر مجبور کر دیا۔ اس سے پہلے بھی سرکاری ہسپتالوں میں ایسے واقعات سامنے آتے رہے ہیں جنہوں نے عوام کا اعتماد متزلزل کیا۔ چند روز قبل ایک مریضہ کے شوہر کو مبینہ طور پر صرف ادویات مانگنے پر ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ہمارے صحت کے نظام میں صرف طبی سہولیات ہی نہیں بلکہ انتظامی اور اخلاقی مسائل بھی موجود ہیں۔
سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کا غیر معمولی رش ایک معمول بن چکا ہے۔ مریض صبح سویرے قطاروں میں کھڑے ہو جاتے ہیں، لیکن کئی مرتبہ شام تک بھی ان کی باری نہیں آتی۔ اگر ڈاکٹر دستیاب ہو بھی جائے تو ضروری ٹیسٹوں کے لیے کئی دن یا کئی ہفتوں کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ متعدد مریضوں کو ہسپتال کے اسٹور سے ادویات نہ ملنے کے باعث بازار سے مہنگی دوائیں خریدنا پڑتی ہیں، جو مہنگائی کے اس دور میں غریب اور متوسط طبقے کے لیے انتہائی مشکل ثابت ہوتا ہے۔ بعض اوقات مریض ایک بستر پر دو دو افراد کے ساتھ علاج کروانے پر مجبور ہوتے ہیں، جبکہ ایمرجنسی وارڈز میں گنجائش سے کہیں زیادہ مریض موجود ہوتے ہیں۔ یہ تمام مسائل اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ موجودہ طبی ڈھانچہ عوام کی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہوتا جا رہا ہے۔
اگر شہروں کے بڑے سرکاری ہسپتالوں کی صورتحال تشویشناک ہے تو دیہی علاقوں کی حالت اس سے بھی زیادہ افسوسناک ہے۔ پاکستان کی ایک بڑی آبادی دیہات میں رہتی ہے، لیکن وہاں بنیادی مراکزِ صحت یا تو غیر فعال ہیں یا انتہائی محدود وسائل کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ بہت سے دیہات میں مستقل ڈاکٹر موجود نہیں ہوتے، نرسنگ اسٹاف کی شدید کمی ہوتی ہے، لیبارٹری کی سہولت دستیاب نہیں ہوتی اور ضروری ادویات اکثر ختم رہتی ہیں۔ حاملہ خواتین کو معمولی پیچیدگی کی صورت میں بھی کئی کئی کلومیٹر دور شہر کے ہسپتالوں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ بعض دیہی علاقوں میں ایمبولینس کی سہولت نہ ہونے کے باعث مریضوں کو نجی گاڑیوں یا موٹر سائیکلوں پر منتقل کیا جاتا ہے، جس سے قیمتی وقت ضائع ہوتا ہے اور کئی مرتبہ مریض راستے ہی میں دم توڑ دیتے ہیں۔ صاف پانی، غذائیت کی کمی، حفاظتی ٹیکوں کی ناکافی سہولت اور صحت سے متعلق آگاہی کا فقدان دیہی آبادی کے مسائل کو مزید سنگین بنا دیتا ہے۔ ان علاقوں میں تربیت یافتہ ڈاکٹروں کی عدم موجودگی کے باعث لوگ اکثر اتائیوں اور غیر مستند معالجین سے رجوع کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں بیماری مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ تمام ذمہ داری صرف طبی عملے پر عائد نہیں کی جا سکتی۔ ہمارے ڈاکٹرز، نرسیں اور پیرا میڈیکل اسٹاف بھی شدید دبا میں کام کر رہے ہیں۔ کئی سرکاری ہسپتالوں میں عملہ ضرورت سے کہیں کم ہے، جس کی وجہ سے موجودہ ملازمین کو طویل اوقات تک مسلسل ڈیوٹیاں دینا پڑتی ہیں۔ محدود وسائل، مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد، انتظامی دبائو اور ذہنی تھکن ان کی کارکردگی کو بھی متاثر کرتی ہے۔ اگرچہ ہمارے ملک میں ہزاروں ایسے ڈاکٹر اور نرسیں موجود ہیں جو انتہائی خلوص اور دیانت داری سے انسانیت کی خدمت کر رہے ہیں، لیکن بعض افراد کا غیر مناسب رویہ پورے نظام کی ساکھ کو نقصان پہنچا دیتا ہے۔ ایک بیمار شخص کو علاج کے ساتھ ساتھ عزت، ہمدردی اور حوصلہ افزائی کی بھی ضرورت ہوتی ہے، کیونکہ شائستہ رویہ بھی علاج کا اہم حصہ سمجھا جاتا ہے۔
صحت کے شعبے میں موجود مسائل کی ایک بڑی وجہ ناکافی فنڈز بھی ہیں۔ جب ہسپتالوں کو مطلوبہ بجٹ فراہم نہ کیا جائے، نئی بھرتیاں نہ ہوں، جدید طبی آلات نہ خریدے جائیں اور موجودہ سہولیات کی مناسب دیکھ بھال نہ کی جائے تو معیاری علاج کی فراہمی ممکن نہیں رہتی۔ ہر سال صحت کے نظام میں بہتری کے دعوے تو کیے جاتے ہیں، لیکن زمینی حقائق ان دعوں سے مطابقت نہیں رکھتے۔ آبادی میں مسلسل اضافہ بھی سرکاری ہسپتالوں پر دبائو بڑھا رہا ہے، جبکہ صحت کے شعبے میں سرمایہ کاری اس رفتار سے نہیں بڑھ رہی جس کی ضرورت ہے۔
اب وقت آ چکا ہے کہ صحت کے شعبے کو سیاسی نعروں کے بجائے قومی ترجیح بنایا جائے۔ حکومت کو چاہیے کہ صحت کے بجٹ میں نمایاں اضافہ کرے، دیہی اور شہری علاقوں میں بنیادی مراکزِ صحت کو فعال بنائے، ڈاکٹرز، نرسز اور دیگر طبی عملے کی کمی فوری طور پر پوری کرے، مفت ادویات کی مسلسل فراہمی یقینی بنائے، جدید طبی آلات فراہم کرے اور ان کی بروقت مرمت کا موثر نظام قائم کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہسپتالوں میں شکایات کے فوری ازالے، مریضوں کی رہنمائی، نفسیاتی معاونت اور طبی عملے کی اخلاقی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دی جانی چاہیے۔ جدید ٹیکنالوجی، آن لائن رجسٹریشن، ٹیلی میڈیسن اور ڈیجیٹل میڈیکل ریکارڈ جیسے اقدامات بھی شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں صحت کی سہولیات کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
یہ بات درست ہے کہ کسی بھی ریاست کی اصل طاقت اس کے ہتھیاروں یا بلند و بالا عمارتوں میں نہیں بلکہ اس کے شہریوں کی صحت اور فلاح میں ہوتی ہے۔ اگر ایک بیمار شخص کو بروقت علاج، مناسب سہولت، عزت اور امید نہ ملے تو یہ صرف ایک فرد کی نہیں بلکہ پورے نظام کی ناکامی ہوتی ہے۔ ہمیں ان افسوسناک واقعات کو وقتی خبریں سمجھ کر فراموش نہیں کرنا چاہیے بلکہ انہیں ایک سنجیدہ انتباہ کے طور پر لینا چاہیے۔ اگر آج بھی صحت کے نظام میں بنیادی اصلاحات نہ کی گئیں، خصوصاً دیہی علاقوں کو نظر انداز کیا جاتا رہا، تو ایسے سانحات مستقبل میں بھی جنم لیتے رہیں گے۔ ایک مضبوط، منصفانہ اور انسان دوست صحت کا نظام ہی وہ راستہ ہے جو ہر پاکستانی کو یہ اعتماد دے سکتا ہے کہ بیماری کی صورت میں ریاست اس کے ساتھ کھڑی ہے، اور یہی ایک فلاحی ریاست کی اصل پہچان بھی ہے۔





