
جگائے گا کون؟
غیرت کے محاذ کا شہید گروپ کیپٹن
تحریر: سی ایم رضوان
یہ زندگی عارضی ہے۔ ایک دن ہم سب نے مر جانا ہے لیکن کون کس طرح اس جہاں سے گیا، کس نے دنیا میں کیا کردار ادا کیا۔ اس کے ملنے جلنے والے اور اس کے اہل وطن اس کو کن نظروں سے دیکھتے اور کن الفاظ میں یاد کرتے ہیں، یہ اہم اور اصل معاملہ ہے اور یہی امر ہر کردار کا انجام اور انعام ہوتا ہے۔ قومی زندگی ایسے اچھے، برے کرداروں سے بھری پڑی ہے۔ خاص طور پر ملکی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کے حوالے سے اپنی جانیں جان آفریں کے سپرد کر دینے والے پاک فوج کے شہیدوں کے کردار، شجاعت اور نصب العین کو جتنا بھی خراج تحسین پیش کیا جائے کم ہے۔ ایسے عظیم شہداء کے تذکروں سے قوم کے بچوں میں وطن سے محبت اور پاک وطن کے لئے شہید ہو جانے کے عظیم ترین جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر کیپٹن کرنل شیر خان شہید ( نشانِ حیدر) پاکستان کے ان مایہ ناز سپوتوں میں سے ہیں جن کی شجاعت کا اعتراف خود ان کے دشمن ( بھارتی فوج) نے بھی کیا۔ وہ کارگل کے معرکے کے ایک ایسے درخشاں ستارے ہیں جن کی جرأت کی داستانیں رہتی دنیا تک یاد رکھی جائیں گی۔ کیپٹن کرنل شیر خان شہید 1970ء میں خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی کے ایک چھوٹے سے گائوں نواں کلی ( جس کا نام اب ان کے نام پر ’ کرنل شیر خان کلی‘ رکھ دیا گیا ہے) میں پیدا ہوئے، انہوں نے 1992ء میں پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول سے کمیشن حاصل کیا اور سندھ رجمنٹ میں شامل ہوئے۔ بعد میں، کارگل جنگ کے دوران، لائن آف کنٹرول پر فرنٹ لائن پر لڑنے والی نادرن لائٹ انفنٹری میں شمولیت اختیار کی۔ جون 1999ء میں کارگل کے معرکے کے دوران کیپٹن کرنل شیر خان کو 17000فٹ کی بلندی پر واقع انتہائی اہم اور دشوار گزار مورچوں پر تعینات کیا گیا۔ انہوں نے اس اسٹریٹجک پوسٹ پر نہ صرف دشمن کے متعدد شدید حملوں کو پسپا کیا بلکہ اپنی عسکری صلاحیتوں سے اپنے جوانوں کے حوصلے بلند رکھے۔ خود آگے بڑھ کر کئی بار بھارتی پوزیشنز پر جوابی حملے کیے اور انہیں بھاری جانی نقصان پہنچایا۔ ان کی زندگی کا آخری معرکہ (7جولائی 1999ئ) یوں ہے کہ جب بھارتی فوج نے بھاری نفری اور توپ خانی کی مدد سے ان کی پوسٹ کو چاروں طرف سے گھیر لیا، تو کیپٹن کرنل شیر خان نے پیچھے ہٹنے کے بجائے اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ مل کر دشمن پر ایک حیران کن اور بھرپور جوابی حملہ کر دیا۔ اس اچانک حملے نے بھارتی فوج کی صفوں میں کھلبلی مچا دی۔ وہ مشین گن ہاتھ میں لئے، گولیوں کی بوچھاڑ کی پروا کیے بغیر، دشمن کے بنکرز کی طرف بڑھے اور کئی بھارتی فوجیوں کو جہنم واصل کیا۔ اس دوران ایک گولی ان کے سینے میں لگی، لیکن انہوں نے آخری سانس تک لڑنا جاری رکھا اور اسی محاذ پر جامِ شہادت نوش کیا۔ ان کی یہ بہادری اس قدر غیر معمولی تھی کہ بھارتی فوج کے لافانی بریگیڈ کے کمانڈر بریگیڈئیر ایم پی ایس باجوہ ان کی لاش پر سجے ان کی جرات کے نشان دیکھ کر دنگ رہ گئے۔ بھارتی فوج نے جب ان کے جسدِ خاکی کو واپس کیا تو ان کی جیب میں بھارتی افسر کی طرف سے لکھا گیا ایک تعریفی نوٹ بھی رکھا تھا، جس میں لکھا تھا کہ ’’ اس افسر نے انتہائی بہادری سے جنگ لڑی، اسے اس کا حق ( اعزاز) ملنا چاہیے‘‘۔ کیپٹن کرنل شیر خان کی اس بے مثال اور تاریخی شجاعت پر انہیں نشانِ حیدر سے نوازا گیا۔ وہ پاکستان کی تاریخ کے نویں (9th)غازی ہیں جنہیں وطن کے سب سے بڑے عسکری اعزاز ’’ نشانِ حیدر‘‘ سے نوازا گیا۔ یہ اعزاز ان کی اس لازوال قربانی کا اعتراف ہے جس کا لوہا دشمن نے بھی مانا۔
اسی طرح حوالدار لالک جان شہید جو 1977ء میں گلگت بلتستان کے خوبصورت ضلع غذر کی وادی یاسین کے ایک گائوں ہنڈور میں پیدا ہوئے۔ 1984ء میں پاک فوج کی معروف نادرن لائٹ انفنٹری رجمنٹ میں شمولیت اختیار کی۔ 1999ء میں کارگل معرکے کے دوران حوالدار لالک جان نے اپنی شجاعت کا وہ مظاہرہ کیا جس کی مثال تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ جب کارگل کی جنگ شروع ہوئی تو حوالدار لالک جان نے خود کو رضاکارانہ طور پر اگلی صفوں میں لڑنے کے لئے پیش کیا۔ انہیں انتہائی دشوار گزار اور سٹریٹجک لحاظ سے اہم ترین ( قادر پوسٹ) پر تعینات کیا گیا جو دشمن کی توپوں اور فائر کی زد میں تھی۔ مئی اور جون 1999ء میں بھارتی افواج نے ان کی پوسٹ پر قبضے کے لئے شدید بمباری اور کئی زمینی حملے کیے۔ حوالدار لالک جان نے اپنے چند ساتھیوں کی ساتھ مل کر دشمن کے ہر حملے کو پسپا کیا اور انہیں بھاری جانی نقصان پہنچایا۔ جولائی کے اوائل میں دشمن نے ایک بار پھر رات کے اندھیرے میں بڑا حملہ کیا۔ شدید لڑائی کے دوران لالک جان گولیوں اور گولے کے ٹکڑوں کی زد میں آ کر شدید زخمی ہو گئے۔ ان کے کمانڈنگ افسر نے انہیں پوزیشن چھوڑ کر پیچھے ہٹنے اور طبی امداد لینے کا حکم دیا، لیکن انہوں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ ’’ میں اپنے زخمی یا شہید ساتھیوں کو چھوڑ کر پیچھے نہیں جاں گا اور آخری گولی، آخری سانس تک اسی مورچے پر لڑوں گا‘‘۔ 7جولائی 1999ء کو شدید زخمی حالت میں بھی انہوں نے اپنی مشین گن سے دشمن پر فائرنگ جاری رکھی اور دشمن کے کئی سپاہیوں کو ہلاک کیا۔ بالآخر، زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اسی مورچے پر جامِ شہادت نوش کیا، لیکن دشمن کو اس پوسٹ پر قدم رکھنے کی اجازت نہ دی۔ حوالدار لالک جان شہید کی اس بے مثال شجاعت کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے انہیں نشانِ حیدر کا اعزاز دیا۔
مذکورہ بالا دونوں شہدا کی برسیوں کے حوالے سے قومی و ملکی فضا فخر و مباہات کے تذکروں سے گونج رہی تھی کہ گزشتہ روز پاک فضائیہ کے ایک گروپ کیپٹن عاصم طارق نے خود کو شہری غیرت کے محاذ پر پیش کر کے شہادت حاصل کر لی۔ گزشتہ روز اتوار کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں غیرت، بہادری اور اعلیٰ انسانی اقدار کی ایک ایسی مثال قائم کر دی جس نے پوری قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔ ایک نہتی خاتون کی عزت اور جان بچاتے ہوئے انہوں نے اپنی زندگی کا نذرانہ پیش کر دیا۔ اسلام آباد کی مصروف ترین شاہراہ نائنتھ ایونیو پر شاہین چوک کے قریب ملزم ( سعد عباسی) اور متاثرہ خاتون ایک ہی ادارے میں کام کرتے تھے۔ ملزم موٹر سائیکل پر خاتون کو اس کے دفتر یا مطلوبہ منزل کی بجائے زبردستی ایک پارک کی طرف لے جانا چاہتا تھا، جس پر خاتون نے شدید مزاحمت کی اور موٹر سائیکل سے اترنے کی کوشش کی۔ گروپ کیپٹن عاصم طارق وہاں سے گزر رہے تھے، انہوں نے دیکھا کہ ایک شخص سڑک کنارے ایک خاتون کے ساتھ زبردستی کر رہا ہے۔ انہوں نے فوری طور پر اپنی گاڑی کا یوٹرن لیا، گاڑی روکی اور آگے بڑھ کر ملزم کو خاتون سے پیچھے ہٹنے کا کہا۔ گروپ کیپٹن کی مداخلت کی وجہ سے خاتون کو موقع مل گیا اور وہ جان بچا کر گاڑی کی دوسری طرف محفوظ پوزیشن میں چلی گئی۔ ملزم سعد عباسی نے غصے میں آ کر پہلے بحث کی، پھر موٹر سائیکل آگے بڑھائی، لیکن واپس مڑ کر پستول نکالا اور گروپ کیپٹن عاصم طارق پر سیدھی فائرنگ کر دی۔ گروپ کیپٹن عاصم طارق موقع پر ہی جامِ شہادت نوش کر گئے اور ایک باہمت شہری اور سچے فوجی کا کردار ادا کرتے ہوئے ایک خاتون کی عزت کی خاطر اپنی جان قربان کر دی۔ واقعے کے فوراً بعد ملزم موقع سے فرار ہو گیا، جس کے بعد آئی جی اسلام آباد پولیس علی ناصر رضوی کی سربراہی میں ایک ہائی پروفائل سرچ آپریشن شروع کیا گیا۔ ملزم نے گرفتاری سے بچنے کے لئے فرار ہونے کے بعد اپنی شرٹ تبدیل کر لی، موبائل سم کا ڈیٹا بند کر دیا اور ایک دوسری شناخت استعمال کرنے کی کوشش کی۔ اسلام آباد پولیس نے بھی کیس کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے گیارہ خصوصی ٹیمیں تشکیل دیں، جن میں ڈیجیٹل سرویلنس، سیلیولر ٹیکنالوجی اور انٹیلی جنس ٹیمیں شامل تھیں۔ مصنوعی ذہانت (AI)کا بھی استعمال کیا گیا۔ پولیس نے اسلام آباد اور راولپنڈی کے 275سیف سٹی کیمروں اور 100سے زائد نجی کیمروں کی مدد سے ملزم کا سراغ لگایا۔ آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ملزم کے فرار کے روٹ کو ٹریس کیا۔ تیرہ مختلف مقامات پر چھاپے مارے اور محض 9گھنٹوں کے اندر ملزم کو آلہ قتل سمیت گرفتار کر لیا۔ گروپ کیپٹن عاصم طارق کے قتل کا مقدمہ پاک فضائیہ کے کمانڈنگ افسر کی مدعیت میں تھانہ مارگلہ، اسلام آباد میں درج کیا گیا۔ ایف آئی آر میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 302( قتلِ عمد) اور دہشت گردی انسداد ایکٹ (7۔ATA) کی سنگین دفعات شامل کی گئی ہیں، کیونکہ یہ جرم سرِعام شاہراہ پر دہشت پھیلانے کا سبب بنا۔ گرفتاری کے بعد ملزم سعد عباسی کو سخت سیکیورٹی میں اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالت نے ملزم کا ریمانڈ منظور کرتے ہوئے اسے تفتیش اور عدالتی کارروائی کے لئے جوڈیشل کسٹڈی ( عدالتی تحویل) میں بھیجنے اور قانون کے مطابق سخت ترین کارروائی کا حکم دیا۔
اب سوشل میڈیا میں ’ فتنہ الخوارج‘ تحریکِ طالبان پاکستان نے گروپ کیپٹن عاصم طارق کی شہادت کی ذمہ داری قبول کی ہے، جس پر وزیرِ دفاع خواجہ آصف کی جانب سے ردِعمل سامنے آیا ہے۔ تاہم حقائق اس معاملے کی ایک بالکل مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔ یہ واقعہ کسی دہشت گردی کی منصوبہ بندی یا ٹارگٹ کلنگ کا نتیجہ نہیں، بلکہ یہ خالصتاً موقع پر پیدا ہونے والی صورتحال اور ایک سٹریٹ کرائم تھا۔ واضح رہے کہ جب بھی ملک میں کسی اہم عسکری یا سرکاری شخصیت کے ساتھ کوئی حادثہ یا جرم پیش آتا ہے، تو یہ تنظیمیں اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو بچانے اور میڈیا میں جگہ بنانے کے لئے فوراً جھوٹے دعوے کرنا شروع کر دیتی ہیں۔ وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ فتنہ الخوارج پروپیگنڈا اور جھوٹے دعووں کے ذریعے ملک میں سنسنی اور خوف پھیلانے کی ناکام کوشش کرتا ہے، جبکہ زمین پر ان کا نیٹ ورک انتہائی کمزور ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس فتنہ الخوارج کا کوئی اعتبار نہیں یہ کل کلاں کو پاکستان میں ہونے والی چوری ڈکیتی کی وارداتوں کا کریڈٹ لینے سے بھی باز نہیں آئیں گے۔





