Columnمحمد مبشر انوار

پتھر کادور ۔ اور کیاہو گا

پتھر کادور ۔ اور کیاہو گا!!
محمد مبشر انوار
امریکہ کے افغانستان پر حملہ سے قبل، پاکستانی حکمران جنرل پرویز مشرف سے تعاون مانگتے ہوئے کہا گیا تھا کہ یا آپ ہمارے ساتھ ہیں یا ہمارے خلاف اور اگر آپ ہمارے خلاف ہیں تو امریکہ اتنی طاقت رکھتا ہے کہ آپ کو پتھر کے دور میں دھکیل دے، جس پر جنرل مشرف نے وہ امریکی شرائط بھی من و عن تسلیم کر لی، جن کے متعلق بعد میں خود امریکیوں نے کہا کہ ان کو صر ف بھائو تائو کرنے کے لئے شامل کیا گیا تھا۔ بہرحال یہ ماضی کی بات ہے اور صرف حوالے کے طور پر یہاں لکھی ہے کہ پتھر کے دور کا اثر ایک ایسے حکمران پر کیا ہوا تھا کہ وہ جو ہوائوں میں مکے لہرا لہرا کر کہا کرتا تھا کہ میں ڈرتا ورتا کسی سے نہیں، امریکی دھمکی کے سامنے چت لیٹ گیا، نہ صرف افغانستان کی تباہی بلکہ پاکستان کی تباہی تک قبول کرلی۔ گو کہ جنرل مشرف کے اس فوری فیصلے سے افغانستان اور پاکستان کو بہت زیادہ نقصان ہوا اور یہاں امن کی فاختہ بارود کے دھوئیں میں بالکل کالی ہو گئی اور دونوں ممالک نے دو دہائیوں تک اس کے اثرات بھگتے لیکن اس کا اصل نقصان امریکہ کو ہی ہوا اور یہاں سے جانے سے قبل، اسے پاکستان کو ایک ایسا تمغہ دینا پڑا، جو درحقیقت امریکی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت تھا۔ امریکہ کا یہ کہنا تھا کہ افغانستان میں امریکہ کو افغانستان نے نہیں بلکہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے ناکام کیا ہے۔ اس کے دو مطلب واضح نکلتے ہیں کہ ایک تو پاکستان نے فوری خطرے کو بھانپتے ہوئے، پاکستانی شہریوں کو بڑی تعداد میں تباہ حالی سے بچایا، اس کے ساتھ ساتھ پاکستان نے بقول امریکہ افغانیوں کو بھی درپردہ بچایا، یعنی بیک وقت دوہرا کردار ادا کرتے ہوئے، امریکی عبرتناک شکست کی بنیاد رکھی، دوسرا پہلو یہ ہے کہ عقل بہرطور صرف گوری چمڑی کی میراث نہیں کہ وہ اپنے قومی و ریاستی مفادات کی خاطر جو چاہیں اور جیسے چاہیں کر گزریں، جبکہ دوسری کسی قوم کے پاس یہ اختیار نہیں بلکہ وہ امریکی احکامات کی تعمیل میں ہاتھ باندھے کھڑے رہیں۔ قومی و ریاستی مفادات کا حوالے سے، ایٹمی ہتھیاروں کے حصول میں بھی، پاکستانی قیادت نے بہرطور امریکی احکامات کے سامنے سرنگوں نہیں اور اس وقت بھی قومی مفادات کو ترجیح دیتے ہوئے، اپنی خودمختاری و سالمیت کو برقرار رکھنے کے لئے، گھاس کھانے کو ترجیح دی مگر ایٹمی ہتھیاروں کا حصول ممکن بنایا، کسی امریکی دباؤ کو قبول نہیں کیا ۔ بہرطور اس حوالے سے دونوں طرح کی رائے موجود ہے کہ ایک طبقہ یہ کہتا ہے کہ پاکستان کو اصولی موقف اپناتے ہوئے، افغانیوں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہئے تھا، جیسا روسی جارحیت کے خلاف کھڑے ہوئے تھے جبکہ دوسری رائے یہ ہے کہ وقت کا تقاضوں کا ادراک کرتے ہوئے، افغانیوں کے رویوں کو مد نظر رکھتے ہوئے، پاکستان کو بچانا زیادہ بہتر تھا۔ بہرحال حقیقت یہی ہے کہ تب پاکستان کی دفاعی صورتحال اتنی مضبوط نہیں تھی کہ پاکستان امریکہ جیسی طاقت کے سامنے کھڑا ہو جاتا اور اپنی سالمیت کو نشانہ بنوا لیتا بلکہ بہتر حکمت عملی یہی تھی کہ وقت کا انتظار کیا جاتا یا امریکہ کو اس نہج تک لے جایا جاتا کہ جہاں امریکہ اپنے ماتھے پر شکست کا داغ سجا کر اس خطے سے نکل جاتا، اور یہی ہوا۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو پاکستانی حکمت عملی کامیاب رہی جبکہ اس دوران پاکستان نے اپنی دفاعی پوزیشن کو مزید مضبوط بنایا اور اپنے روایتی دشمن کی حد سے پراعتماد بلکہ غرور و تکبر کو بھی وقت آنے پر بری طرح روند ڈالا لہذا آج پاکستان کی حیثیت دنیا بھر میں انتہائی ممتاز اور اہم ہو چکی ہے۔
البتہ جہاں تک بات ہے پتھر کے دور کی، تو اس حوالے سے اگر یہ سمجھا جائے کہ جب انسان بغیر کسی ترقی کے غاروں میں رہائش پذیر تھا اور وہی صرف اسے ہی پتھر کا دور کہا جاتا ہے تو میرے نزدیک یہ سراسر غلط ہے بلکہ پتھر کے دور میں رہنے والے انسانوں کی معاشیات، معاشرت بھی اسی زمرے میں آتی ہے، جنگی قوانین کے حوالے سے کسی قانون کی پاسداری نہ کرنا بھی پتھر کا دور ہی کہلاتا ہے۔ اس پس منظر میں جب موجودہ پاکستان کی حالت زار کو دیکھتا ہوں تو بدقسمتی سے مجھے پاکستانی آج بھی پتھر کے دور میں رہتے دکھائی دیتے ہیں کہ جہاں بنیادی انسانی حقوق ہی ناپید ہیں اور اشرافیہ انسانی حقوق سلب کرکے، ان کا گلا گھونٹ کر، صرف بلند و بالا عمارتیں تعمیر کرنے کو ہی ترقی سمجھ رہی ہے۔ دوسری طرف ترقی یافتہ اقوام سے موازنہ کیا جائے تو یہ حقیقت مزید شرمندہ کر جاتی ہے کہ ان ممالک میں صرف بنیادی انسانی حقوق ہی نہیں بلکہ جانوروں، پرندوں کے حقوق تک کا خیال رکھا جاتا ہے، یہاں ناقدین ضرور یہ نکتہ اٹھائیں گے جانوروں اور پرندوں کے حقوق کا خیال رکھنے والی یہ خود ساختہ مہذب اقوام، دوسرے ممالک میں جارحیت کا ارتکاب کرکے کتنی انسانی جانوں کا زیاں کرتی ہیں ؟ ان جنگوں میں قید کئے گئے قیدیوں کے حقوق کا کتنا خیال کیا جاتا ہے؟ مجھے ان دونوں نکات سے رتی برابر اختلاف نہیں اور اسی لئے میں ان اقوام کو خود ساختہ مہذب اقوام ہی سمجھتا ہوں مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ کم از کم ان ممالک میں شہریوں کے بنیادی حقوق تو سلب نہیں کئے جاتے؟ دوسرے ممالک کے ساتھ ان کا رویہ یقینی طور پر جنگی قوانین کے حوالے سے نامناسب یا عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے لیکن ان کے اپنے شہریوں کے حقوق زمانہ قدیم کی طرح سلب نہیں کئے جاتے اور نہ کسی کی صرف تنقید پر زباں بندی کی جاتی ہے اور نہ ہی آزادی اظہار رائے پر پابندی ہے البتہ قومی سلامتی کے حوالے سے بات مختلف ہے اور اس کا ادراک بہرطور پر ناقد کو خود بھی ہونا چاہئے لیکن ایسا نہیں کہ کسی عوامی یا حکومتی یا سیاسی یا سماجی شخصیت کے حوالے سے تنقید کو ہی ’’ شخصی توہین‘‘ کے زمرے میں لاکر اس پر شکنجہ کس دیا جائے، ایسے قوانین ان ممالک میں نہیں پائے جاتے اور ہر کسی کو اپنی رائے کے اظہار کا حق حاصل ہے جبکہ حکومتی شخصیات بھی کسی استثنیٰ کی حامل نہیں اور عوامی معاملات پر عوام کو جوابدہ ہیں۔ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ہو یا کاروباری مواقع ہوں،سب کے لئے مساوی قوانین ہیں اور ان قوانین کے اندر رہتے ہوئے، ہر شہری کو کاروبار کرنے کا پورا حق ہے ،وہاں نہ کسی کی ٹانگ پر بم باندھ کر اس کے اثاثے خریدے جاتے ہیں او ر نہ ہی اپنے درآمدہ شدہ مال کے حوالے سے وقتی طور پر خصوصی آر ایس اوز جاری کئے جاتے ہیں بلکہ ایسی کسی خلاف ورزی پر بھاری جرمانے عائد ہوتے ہیں اور نہ ہی کسی کو یہ اجازت ہے کہ اندرونی معلومات کی بنیاد پر ایسا کوئی کاروبار کیا جا سکے کہ جس کا فائدہ براہ راست کسی خاص شخصیت کو ہو جبکہ ایسی معلومات عوام تک پہنچی ہی نہ ہوں۔ امن و امان کے حوالے سے بھی آج کے مہذب دور میں حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام الناس کو محفوظ ماحول فراہم کریں، مال و اسباب، عزت و عصمت اور ان کی زندگیوں کو کسی بھی جرم کی بھینٹ نہ چڑھنے دیں، اگر حکومتیں یہ ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام ہوں تو عوام سوال پوچھنے کا حق رکھتے ہیں علاوہ ازیں کسی بھی شہری کو خواہ عام شہری ہو، سیاسی شخصیت ہو یا سماجی شخصیت، اس پر بلاجواز مقدمات کی بھرمار نہ ہو اور نہ ہی تفتیش مقدمہ قائم کرنے کے بعد ہو، کوئی سیاسی انتقام نہ ہو اور نہ ہی عدالتیں دبائو کا ایسے شکار دکھائی دیں کہ وہ انصاف فراہم کرنے کی بجائے، عدلیہ کے ماتھے پر کلنک کا نشان بن جائیں۔
قارئین کرام! گزشتہ دنوں میڈیا کی زینت بننے والے، غیر ملکی خواتین کے کیس میں، پاکستانی اشرافیہ کے ملوث ہونے کے شواہد تو ملے ہیں، لیکن اشرافیہ اپنے اثر و رسوخ سے ان شواہد کو مٹانے کی کوششوں میں مصروف ہے، یہ عمل ایک طرف بذات خود غیر قانونی تو ہے لیکن دوسری طرف عالمی سطح پر پاکستان کی بدنامی کا باعث بن رہا ہے اور اقوام عالم میں کل تک بھارت کے متعلق ایسی خبریں میڈیا کی زینت بنتی تھی کہ جہاں کسی غیر ملکی سیاح یا کھلاڑی کو اس طرح کے روئیے کا سامنا کرنا پڑتا تھا کہ اسے اپنی عزت گنوانی پڑتی تھی جبکہ پاکستان میں ہونے والے واقعہ میں عزت گنوانے کے ساتھ ساتھ تشدد اور تاوان جیسے جرائم بھی شامل ہو چکے ہیں۔ ابھی تک ہم پاکستانی شہریوں کے حقوق کا رونا رو رہے تھے لیکن اب یہاں غیر ملکیوں کی عزت بھی محفوظ دکھائی نہیں دیتی اور اس میں ملوث بھی وہ شخصیات ہیں جن کی ذمہ داری ہی عوام کے جان و مال و عزت و آبرو کا تحفظ ہے۔ ان شخصیات کو بچانے کی بھرپور کوشش ہو رہی ہے تو دوسری طرف یہ ’’ ریاست پاکستان‘‘ کا ٹیسٹ بھی ہے کہ نہ صرف ان خواتین کو انصاف فراہم کرے بلکہ اس گھنائونے جرم میں شریک ملزمان کو قرار واقعی سزا بھی دے۔ موجودہ حکمرانوں کا ماضی دیکھا جائے تو ان کا ماضی ایسے ہی جرائم سے عبارت ہے، جس پر انہیں کبھی بھی شرم نہیں آئی، بلکہ سزا نہ ملنے کے باعث اب ان کی جرات اتنی بڑھ چکی ہے کہ پاکستانی شہریوں کی زندگی اجیرن کرنے کے بعد اب غیر ملکی بھی ان کی ہوس زر و ہوس زن سے محفوظ نہیں۔ دیکھنا تو یہ ہے کہ ان کو فارم 47پر لانے والے، اس گھٹیا جرم پر کیا ردعمل دیتے ہیں، خبریں تو ہیں کہ ایف آئی آر میں بہرحال ان کو لانے والوں ہی کی کوشش شامل ہے، لیکن کیا اس کے بعد وہ اپنے فیصلے سے رجوع کریں گے اور حقیقی عوامی نمائندوں کو آگے آنے دیں گے یا نہیں؟۔ اگر اب بھی معاشرے کو سنبھالا نہیں گیا تو کیا بہتر نہیں تھا کہ جنرل مشرف امریکی خواہشات کے سامنے سرنگوں کرنے کی بجائے پتھر کے دور میں جانے کو ترجیح دیتے کہ اس سے زیادہ پتھر کا دور اور کیا ہوگا!!

جواب دیں

Back to top button