ColumnQadir Khan

صحرا میں خاموشی کی سفارت کاری

صحرا میں خاموشی کی سفارت کاری
پیامبر
قادر خان یوسف زئی
بن غازی کے ایک پرانے بازار میں ایک بوڑھی عورت اپنے پوتے کا ہاتھ تھامے سبزی خریدنے نکلتی ہے۔ اس کی نظریں بار بار سڑک کے کونے پر جا ٹھہرتی ہیں، جہاں کچھ سال پہلے ایک راکٹ گرنے سے تین گھر ملبے کا ڈھیر بن گئے تھے۔ آج وہاں خاموشی ہے، مگر یہ خاموشی سکون کی نہیں بلکہ انتظار کی ہے، کیونکہ لیبیا کے لوگ برسوں سے جانتے ہیں کہ یہاں امن ہمیشہ عارضی ثابت ہوتا ہے۔ یہی وہ سرزمین ہے جو 2011ء میں معمر قذافی کے زوال کے بعد سے کبھی مکمل طور پر ایک نہیں ہو سکی۔
مسلح بغاوت اور اس کے بعد کی خانہ جنگی نے ریاستی ڈھانچے کو اس حد تک کمزور کر دیا کہ ملک عملی طور پر دو حصوں میں بٹ گیا۔ مشرق میں خلیفہ حفتر کی قیادت میں لیبیا کی قومی فوج کا اقتدار ہے، جبکہ مغرب میں طرابلس کے مرکز سے اقوامِ متحدہ کی تسلیم شدہ حکومت کام کرتی ہے۔ گزشتہ ایک دہائی میں اقوامِ متحدہ نے برلن اور جنیوا جیسے شہروں میں کئی بڑی کانفرنسیں کرائیں، جن میں فریقین نے بار بار جنگ بندی اور انتخابات کے وعدے کیے۔ مگر ہر کانفرنس کے بعد کیمروں کی چمک دمک میں کیے گئے یہ وعدے زمین پر پہنچتے پہنچتے دم توڑ گئے، کیونکہ عوامی دبا میں کی گئی یقین دہانیاں کبھی حقیقی اعتماد کی بنیاد نہ بن سکیں۔
انہی ناکام کوششوں کے سائے میں جولائی 2026ء کی ایک خبر نے سفارتی حلقوں کو چونکا دیا۔ اطلاعات کے مطابق پاکستان نے لیبیا کے مشرقی اور مغربی اقتدار کے مراکز کے درمیان ایک خاموش مگر موثر ثالثی کا عمل شروع کر دیا ہے۔ یہ خبر محض ایک سفارتی بیان نہیں، بلکہ اس بات کا اشارہ ہے کہ خطے کے پرانے مسائل حل کرنے کے لیے اب مقامی اور غیر روایتی طریقے، بلند بانگ عالمی کانفرنسوں سے کہیں زیادہ کارگر ثابت ہو سکتے ہیں۔
پاکستان کی یہ ثالثی کوئی اچانک یا اتفاقیہ قدم نہیں، بلکہ اسلام آباد کی اس بڑھتی ہوئی سفارتی حیثیت کا تسلسل ہے جو امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرانے میں اس کے متوازن کردار سے ابھری۔ سفارتی ذرائع بتاتے ہیں کہ لیبیا کے دونوں متحارب فریقوں نے پچھلے سال کے آخر میں خود پاکستان سے درخواست کی تھی کہ وہ ان کے درمیان ثالث بنے۔ یہ بات نہایت معنی خیز ہے کہ وہی سخت گیر لیبیائی رہنما، جو مغربی طاقتوں کی ہر پیشکش کو شک کی نگاہ سے دیکھتے رہے، انہوں نے خود آگے بڑھ کر ایک ایشیائی ملک سے مدد طلب کی۔ اس کی وجہ سادہ ہے، پاکستان کے لیبیا میں نہ کوئی تیل کا مفاد ہے اور نہ کوئی پرانی تزویراتی سرمایہ کاری، اور یہی غیر جانبداری اسے قابلِ اعتماد بناتی ہے۔ یہ سفارتی سلسلہ کسی ایک دن میں نہیں بنا، بلکہ یہ مہینوں کی خاموش محنت کا نتیجہ ہے۔ فروری 2026ء میں لیبیا کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعاون اور علاقائی استحکام پر بات چیت ہوئی۔ اسی بنیاد پر آگے بڑھتے ہوئے جون میں پاکستان نے لیبیا میں مقامی قیادت کے تحت ہونے والے سیاسی عمل کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا۔ یہی وہ تسلسل تھا جو آخرکار جولائی میں خاموش ثالثی کی صورت میں سامنے آیا، اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ سنجیدہ سفارت کاری سرخیوں میں نہیں بلکہ برسوں کے صبر میں پکتی ہے۔
اس عمل میں سب سے نازک پہلو علاقائی طاقتوں کا کردار ہے۔ رپورٹس کے مطابق سعودی عرب اس ثالثی کی خاموشی سے حمایت کر رہا ہے، مگر لیبیا کا تنازع محض دو داخلی فریقوں تک محدود نہیں۔ ترکی، جو مغربی حکومت کا کلیدی حامی ہے، اور مصر، متحدہ عرب امارات اور روس، جو خلیفہ حفتر کے ساتھ کھڑے رہے ہیں، ان سب کا کردار فیصلہ کن ہے۔ پاکستان کی کوشش کی حتمی کامیابی کا زیادہ تر انحصار اس پر ہوگا کہ ان متضاد بیرونی مفادات میں توازن کیسے قائم کیا جاتا ہے۔ امریکہ کی طرف سے اس پر کوئی واضح بیان سامنے نہیں آیا، مگر واشنگٹن کی خاموشی کو بھی، جو خطے کے دیگر معاملات میں اس کی مصروفیت کی عکاس ہے، اس عمل کے لیے سازگار سمجھا جا رہا ہے۔ پاکستان کا طریقہ کار مغربی طرزِ ثالثی سے یکسر مختلف ہے۔ جہاں بین الاقوامی کانفرنسوں میں کیمروں کی چمک اور عوامی دبا فریقین کو مجبور کرتا ہے، وہاں اسلام آباد نے پس پردہ اور خاموش اعتماد سازی کو ترجیح دی ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستانی مندوب کے بیانات بھی یہی تصدیق کرتے ہیں کہ اسلام آباد صرف ایک ایسے سیاسی روڈ میپ کی حمایت کرتا ہے جو خود لیبیا کی قیادت میں تیار کیا جائے۔
یہاں یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ ہر امید افزا معاہدہ لازمی طور پر کامیاب نہیں ہوتا۔ لیبیا میں دیرپا امن کے لیے محض سیاسی مفاہمت کافی نہیں، کچھ کٹھن زمینی حقائق کا سامنا کرنا بھی ناگزیر ہے۔ پہلا بڑا چیلنج تیل کی دولت پر کنٹرول کا ہے۔ جب تک لیبیا کی قومی تیل کارپوریشن کی آمدنی کی شفاف تقسیم اور مرکزی بینک کے انتظامی اختیار پر اتفاقِ رائے نہیں ہوتا، کوئی معاہدہ پائیدار نہیں رہ سکتا۔ دوسرا اور کہیں زیادہ پیچیدہ مسئلہ مشرق اور مغرب کی دو متوازی افواج اور درجنوں مسلح ملیشیائوں کو ایک قومی فوج کے تحت جمع کرنا ہے۔ ریاستی اداروں کی مرکزیت کے بغیر حکومتی عملداری ممکن نہیں، جس کی مثال مئی 2025ء میں طرابلس میں ہونے والی مسلح جھڑپیں ہیں، جو یہ ظاہر کرتی ہیں کہ سیکیورٹی کا ڈھانچہ ابھی بھی کتنا کمزور ہے۔
انہی سیاسی اور معاشی پیچیدگیوں کے پیچھے وہی عام لیبیائی خاندان ہیں جن کی زندگی ان فیصلوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہے۔ بن غازی کے اسی بازار میں سبزی بیچنے والا ایک دکاندار بتاتا ہے کہ گزشتہ سردیوں میں ایندھن کی قلت کے باعث اسے اپنی دکان تک پہنچنے کے لیے کئی گھنٹے قطار میں کھڑا ہونا پڑا۔ تیل کی بندش اور ملک کی تقسیم نے بنیادی ادویات، ایندھن اور خوراک کی قلت کو طرابلس اور بن غازی جیسے شہروں میں معمول بنا دیا ہے۔ کوئی بھی سیاسی معاہدہ اس وقت تک بے معنی رہے گا جب تک اس کا اثر اسی دکاندار کی زندگی میں سکون کی صورت محسوس نہ ہو، اور یہی وہ کسوٹی ہے جس پر پاکستان کی ثالثی کو بھی پرکھا جائے گا۔
اسی بازار سے تھوڑی دور، اس بوڑھی عورت کا پوتا اسکول سے واپس آتے ہوئے آج بھی ماں سے پوچھتا ہے کہ کیا رات کو گولیوں کی آواز آئے گی۔ یہ سوال کسی رپورٹ یا معاہدے میں درج نہیں ہوتا، مگر یہی وہ سوال ہے جس کا جواب پاکستان کی خاموش سفارت کاری کی اصل کامیابی طے کرے گا۔ اگر لیبیا کے رہنما اقتدار کی تقسیم پر متفق ہو جاتے ہیں تو یہ بچہ شاید آئندہ برسوں میں اس سوال سے آزاد ہو جائے، ورنہ یہ خاموشی بھی ماضی کی طرح ایک اور جنگ بندی سے پہلے کا وقفہ ثابت ہو سکتی ہے۔ لیبیا کی قسمت اب اس بات پر منحصر ہے کہ آیا اس کی قیادت اپنے عوام کے خوف کو ختم کرنے کا موقع پہچانتی ہے یا اقتدار کی پرانی ہوس ایک بار پھر سرزمین کو خون اور بارود کے حوالے کر دیتی ہے۔

جواب دیں

Back to top button