Column

ادویات مہنگی، زندگی سستی

ادویات مہنگی، زندگی سستی
تحریر: رفیع صحرائی
یہ محض ایک خبر نہیں بلکہ ایک اجتماعی المیہ ہے کہ ملک میں ادویات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور عوام اس بوجھ تلے دبتے چلے جا رہے ہیں۔ سال میں ایک دو بار نہیں بلکہ بار بار ادویہ مہنگی ہوتی ہیں اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ حکومت سے اس کی اجازت لینے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی جاتی۔ یہ الگ بات ہے کہ اگر حکومت سے ادویہ مہنگی کرنے کی اجازت مانگی بھی جائے تو غالباً یہ اجازت حکمیہ انداز میں مانگی جاتی ہو گی کیونکہ حکومت کو کبھی انکار کی جرات کرتے دیکھا نہیں گیا۔
صحت کا شعبہ کسی بھی ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہوتا ہے مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں یہ ذمہ داری رفتہ رفتہ ایک کاروبار کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ جب زندگی بچانے والی ادویات ہی عام آدمی کی دسترس سے باہر ہو جائیں تو سوال صرف مہنگائی کا نہیں رہتا بلکہ یہ انسانی بقا کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ حالیہ اضافوں نے خصوصاً ان مریضوں کو شدید متاثر کیا ہے جو دائمی امراض جیسے ذیابیطس، دل اور بلڈ پریشر کے مسائل میں مبتلا ہیں۔ ان کے لیے ادویات کوئی عارضی ضرورت نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ ہیں۔ لیکن جب ایک ہی دوا کی قیمت بار بار بڑھتی ہے دل یا بلڈ پریشر کا مریض ڈپریشن کا مریض بھی بن جاتا ہے۔ ایسے میں مریض یا تو علاج ادھورا چھوڑ دیتا ہے یا اپنی دیگر ضروریات قربان کر دیتا ہے۔ یوں بیماری صرف جسم تک محدود نہیں رہتی بلکہ پورے خاندان کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
حکومت کی جانب سے اکثر یہ مقف اختیار کیا جاتا ہے کہ ادویات کی قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہے کیونکہ پیداواری لاگت، درآمدی اخراجات اور ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہو چکا ہے۔ اس دلیل میں وقتی وزن ضرور ہو سکتا ہے مگر سوال یہ ہے کہ اس بوجھ کا سارا وزن ہمیشہ عوام پر ہی کیوں ڈالا جاتا ہے؟ کیا کبھی یہ غور کیا گیا کہ فارماسیوٹیکل کمپنیوں کے منافع، سپلائی چین کی خامیاں اور مارکیٹ میں موجود غیر شفاف طریقہ کار بھی اس مسئلے کی جڑ ہیں؟
اصل المیہ یہاں ایک اور بھی ہے جس پر کم ہی بات کی جاتی ہے۔ ہمارے منتخب عوامی نمائندگان، وزراء اور مشیران کو اندرون و بیرون ملک سرکاری خرچ پر مفت علاج کی سہولیات حاصل ہوتی ہیں۔ جب علاج، ادویات اور ہسپتال ان کے لیے کسی مالی دبائو کا باعث ہی نہ ہوں تو وہ عام آدمی کی اس اذیت کو کیسے محسوس کر سکتے ہیں جو ایک ایک گولی کے لیے ترستا ہے؟ یہی وجہ ہے کہ ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری دیتے وقت یہ طبقہ نہ صرف خاموش رہتا ہے بلکہ اکثر معمولی سی مزاحمت بھی نہیں کرتا۔ سننے میں تو یہ بھی آیا ہے کہ اسمبلیوں میں بیٹھے
’’ عوامی نمائندگان”‘‘کی ایک بڑی تعداد فارما سیوٹیکل کمپنیز کی مالک یا پارٹنر ہے۔ ایسی صورت میں ان نمائندگان سے عوام کی بھلائی کی توقع رکھنا بھی حماقت ہی ہے کہ کاروباری لوگ چمڑی جائے پر دمڑی نہ جائے کے فارمولے پر پوری سچائی سے عمل پیرا ہوتے ہیں۔
مراعات یافتہ طبقے کو علاج معالجے کی مفت سہولیات کی فراہمی اور عوام کی جیبوں پر بھاری بوجھ کا تضاد صرف معاشی نہیں بلکہ اخلاقی بھی ہے۔ ایک طرف وہ عوام ہیں جو اپنی بیماری کے علاج کے لیے قرض لینے پر مجبور ہیں اور دوسری طرف وہ اشرافیہ ہے جس کے لیے علاج ایک استحقاق ہے، مسئلہ نہیں۔ جب پالیسی ساز خود مشکلات سے آزاد ہوں تو ان کے فیصلے بھی زمینی حقائق سے کٹے ہوئے ہوتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت ادویات کی قیمتوں کے تعین کا نظام شفاف بنائے، فارما سیوٹیکل کمپنیوں کی من مانی کو روکے اور سب سے بڑھ کر صحت کے شعبے کو حقیقی معنوں میں عوامی فلاح کا ذریعہ بنائے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی لازم ہے کہ پالیسی ساز طبقے کے لیے مراعات کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے تاکہ وہ بھی اسی نظام کا حصہ بنیں جس کے لیے وہ فیصلے کرتے ہیں۔ جب تک حکمران اور عوام ایک ہی صف میں کھڑے نہیں ہوں گے تب تک انصاف کا توازن قائم نہیں ہو سکتا۔
اگر آج اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو کل یہ صرف ادویات کی قیمتوں کا نہیں بلکہ انسانی جانوں کے ضیاع کا بحران بن جائے گا۔ ریاست کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ منافع کو ترجیح دیتی ہے یا انسان کو۔ کیونکہ ایک مہذب معاشرے کی پہچان اس کے ہسپتالوں اور وہاں دستیاب ادویات اور سہولیات سے ہوتی ہے نہ کہ محض بلند و بانگ دعوئوں سے۔

جواب دیں

Back to top button