Column

تیراہ آپریشن

تیراہ آپریشن

عبد الباسط علوی
تیراہ آپریشن کی حقیقت پر مبنی سمجھ بوجھ اس پراپیگنڈے کے درمیان نہایت ضروری ہے جو سویلین آبادی کی تکالیف کا استحصال کر کے اس کے مقاصد کو توڑ مروڑ کر پیش کرتا ہے۔ تیراہ کے دشوار گزار راستوں اور تزویراتی محل وقوع نے دہشت گرد گروہوں کو وہاں قدم جمانے اور بیرونی عناصر سے منسلک ایک محفوظ دہشت گردی و جرائم کے گٹھ جوڑ میں تبدیل ہونے کا موقع دیا، جس سے قومی سلامتی اور مقامی برادریوں کو شدید خطرات لاحق ہوئے۔ اس کے سدباب کے لیے ریاست نے درستی پر مبنی انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز پر بھروسہ کیا، لیکن دہشت گردوں کے جان بوجھ کر عام شہریوں میں چھپ جانے کی وجہ سے سنگین اخلاقی حدود پیدا ہوئیں۔ چنانچہ حکام نے جرگہ مشاورت کے ذریعے قبائلی عمائدین کو شامل کیا اور جب دہشت گردوں کو علاقہ چھوڑنے پر راضی کرنے کی پرامن کوششیں ناکام ہو گئیں تو عمائدین نے خود انسانی جانوں کے تحفظ اور حفاظتی اقدامات کو ممکن بنانے کے لیے عارضی اور رضاکارانہ طور پر سویلین نقل مکانی کی تجویز دی، جو کہ کمیونٹی کا اپنا فیصلہ تھا اور اسے باقاعدہ طور پر 26دسمبر 2025ء کو پیش کیا گیا۔
محض اس دستاویزی فیصلے کی بنیاد پر صوبائی حکومت نے رضاکارانہ نقل مکانی اور انسانی امداد کے لیے چار ارب روپے کی منظوری دی، لیکن شدید بدانتظامی اور انتظامی ناکامیوں نے اس کی موثر فراہمی کو روک دیا، جس سے عام شہریوں کی مشکلات میں اضافہ ہوا اور بعد ازاں اس صورتحال نے سیاسی بیانیے کو تقویت دی۔ یہ بات بالکل واضح ہے کہ پاک فوج نے نہ تو نقل مکانی کا مطالبہ کیا اور نہ ہی اسے نافذ کیا بلکہ یہ عمل مکمل طور پر رضاکارانہ رہا جس میں عمائدین نے خود وقت اور رفتار کا تعین کیا، جس کے نتیجے میں باغ میدان سے تقریباً انیس ہزار خاندانوں کی رضاکارانہ نقل مکانی پر اتفاق ہوا، جن میں سے تقریباً پینسٹھ فیصد منتقل ہو چکے ہیں جبکہ باقی وہیں مقیم ہیں۔ بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیوں کے دعوں کے برعکس، سیکیورٹی حکمت عملی نے مستقل طور پر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کو ترجیح دی ہے، جو بڑے پیمانے پر نقل مکانی سے بچتے ہوئے دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کو ختم کرنے میں موثر ثابت ہوئے ہیں، جیسا کہ ملک بھر میں اس طریقہ کار کے وسیع استعمال اور ٹارگٹڈ کارروائیوں کے ذریعے دہشت گردوں کی صلاحیتوں میں نمایاں کمی سے ظاہر ہوتا ہے۔
ماضی کے تجربات نے ہمیں سکھایا ہے کہ بڑے پیمانے کی فوجی کارروائیوں کی انسانی، سماجی اور معاشی قیمت بہت زیادہ ہوتی ہے جس کے نتیجے میں آئی ڈی پیز ( نقل مکانی کرنے والے افراد) کو طویل مدتی صدموں، تعلیم کے حرج اور معاشی تباہی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مزید یہ کہ تزویراتی طور پر کسی بھی بڑی کارروائی سے پہلے بھاری نفری اور اسلحے کی ترسیل جیسے نمایاں آثار نظر آتے ہیں جو کہ تیراہ میں کبھی نہیں دیکھے گئے، جو اس بات کی تصدیق ہے کہ کوئی بڑا آپریشن شیڈول نہیں تھا۔ اس کے علاوہ تیراہ کا شدید موسم اور اونچائی والا علاقہ بھی کسی طویل فوجی مہم کے لیے ایک بڑی رکاوٹ ہے، جس کی وجہ سے صرف چھوٹے اور ٹارگٹڈ آپریشنز ہی وہاں عملی طور پر ممکن ہیں۔
ریاست کی تیراہ کے حوالے سے مجموعی حکمتِ عملی "باغ جوائنٹ ایکشن پلان” کے تحت کام کر رہی ہے جو فوجی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ معاشی ترقی، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مضبوطی، سیاسی مفاہمت اور نقل مکانی کرنے والوں کی واپسی کے بعد ان کی بحالی پر زور دیتی ہے۔ اس منصوبے کا مقصد محض عارضی فوجی کنٹرول نہیں بلکہ اس پسماندہ خطے میں پائیدار استحکام، قانون کی حکمرانی اور معاشی خوشحالی لانا ہے۔
ان تمام حقائق کے باوجود، پاکستان تحریکِ انصاف ( پی ٹی آئی) نے، جو اس وقت صوبائی حکومت میں ہے، پاک فوج اور وفاقی حکومت کو بدنام کرنے کے لیے ایک منظم مہم شروع کی۔ چار ارب روپے کے فنڈز کو صحیح طریقے سے استعمال کرنے کے بجائے جان بوجھ کر اس عمل کو بدانتظامی کا شکار بنایا گیا تاکہ اس انسانی دکھ کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔ پی ٹی آئی نے دانستہ طور پر یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی کہ یہ نقل مکانی فوج نے زبردستی کروائی ہے، جبکہ ریکارڈ پر موجود حقائق اور میٹنگز کے (باقی صفحہ 5 پر ملاحظہ کیجئے )
منٹس یہ ثابت کرتے ہیں کہ یہ فیصلہ مشران کا اپنا تھا۔ سیاسی مفادات، جرائم اور دہشت گردی کا یہ گٹھ جوڑ ہمیشہ انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کی اس لیے مخالفت کرتا ہے کیونکہ یہ ریاست ان کے ناجائز معاشی ذرائع اور غیر قانونی اثر و رسوخ کو براہِ راست خطرے میں ڈال دیتی ہے۔
اپنے ان مذموم مقاصد کی خاطر ان عناصر نے تیراہ کے عوام کی تکالیف کو محض ایک مہرہ سمجھا اور قومی سلامتی جیسے حساس معاملے کو جھوٹی کہانیوں کے ذریعے مسخ کر کے پیش کیا۔ ریاست مخالف سوشل میڈیا اکائونٹس اور بیرونی سہولت کار آج بھی ان من گھڑت کہانیوں کو پھیلا رہے ہیں تاکہ وہ اپنی حکمرانی کی ناکامیوں پر پردہ ڈال سکیں اور اپنے سبوتاژ کرنے والے ایجنڈوں کو آگے بڑھا سکیں۔ تاہم حقائق بالکل واضح ہیں اور یہ دستاویزی ثبوت ان عناصر کے جھوٹے پروپیگنڈے کو بے نقاب کرنے کے لیے کافی ہیں، جس سے یہ صاف ہو جاتا ہے کہ تیراہ آپریشن کے پیچھے ریاست کی نیت، اخلاقی حدود اور آپریشنل ضروریات بالکل درست تھیں اور جو لوگ اسے سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں ان کے مقاصد صرف اور صرف تباہی پھیلانا ہیں۔
تیراہ آپریشن

جواب دیں

Back to top button