ریڈ الرٹ

ریڈ الرٹ
تحریر :تجمّل حسین ہاشمی
چالیس سال سے زائد عمر کے افراد کے لیے میں ’’ ریڈ الرٹ‘‘ کی اصطلاح استعمال کر رہا ہوں، اس کی وجہ نہایت واضح ہے کہ ملک کی آبادی کا بڑا حصہ اس عمر کے لوگوں پر مشتمل ہے، جبکہ معاشی بوجھ بھی انہی کے کندھوں پر ہے۔ ڈنڈے بھی اسی عمر کے لوگ کھا رہے ہیں، خوار بھی اسی عمر والے ہیں، زندگی کے اہم سال پڑھائی اور اس کے بعد روزگار کی خواری کریں۔
ملکی معاشی صورتحال کے پیش نظر ہماری طرزِ زندگی میں غیر معمولی تبدیلی آ چکی ہے۔ ہمارا پورا معاشی سرکل تبدیل ہو چکا ہے۔ کورونا کے بعد اور موجودہ عالمی حالات نے دنیا کو ایک نئے معاشی نظام میں دھکیل دیا ہے، جہاں سہولتیں میں کمی اور ٹیکسز میں اضافہ دیگر مسائل میں اضافہ ہے۔ اگر اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو خوشیوں کے لمحات کم اور پریشانی، جنگیں اور بے یقینی زیادہ دکھائی دیتی ہے۔ اجناس کی پیداوار کم اور جنگی سامان کی پیداوار میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ انسان کی جان کی قیمت کم اور اسے محض ہتھیار سمجھا جا رہا ہے۔ انسانوں کو بمبوں سے اڑایا جا رہا ہے۔
ہمارے معاشرے کی تباہی کی بنیادی وجوہات میں کرپشن، دولت کی اندھی دوڑ ، اور حسد شامل ہیں۔ ہر شخص مال اکھٹا کرنے کی فکر میں مبتلا ہے، مال میں سکون کی تلاش سرگرداں ہے۔ اللہ سے مانگنے کی بجائے انسانوں کے پیچھے بھاگ رہا ہے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر جھگڑے معمول بن چکے ہیں، اور مروّت و برداشت کا کلچر ختم ہوتا جا رہا ہے۔کورونا کے بعد عالمی معاشی دبائو، مہنگائی اور قانون کی کمزور عملداری نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ اس دبائو کے آگے اقوام متحدہ، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور بین الاقوامی عدالتیں بھی بے بس دکھائی دیتی ہیں۔ ترقی پذیر ممالک، خصوصاً پاکستان جیسے ملک کے لیے یہ صورتحال انتہائی خطرناک ہے۔
بدقسمتی سے ہماری حکومت نے ان چیلنجز کو سنجیدگی سے لینے کے بجائے انہیں سیاسی بیانیے میں الجھا دیا ۔ یہ حقیقی نا اہلی ہے ۔ سیاسی لیڈروں کو اپنی نا اہلی قبول کرنی چاہئے۔ معاشی اصلاحات، صنعتی ترقی، روزگار کے مواقع اور انسانی فلاح کے منصوبوں پر ٹھوس پیش رفت کسی دور میں نظر نہیں آئی۔ بجائے مثبت طرز سیاست کے ’’ ڈیفالٹ‘‘ جیسے خوفناک الفاظ کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا جبکہ ابھی تک حکومت کے عملی اقدامات نہ ہونے کے برابر رہے۔ قومی خزانے کی بدانتظامی، قرضوں پر انحصار اور پالیسیوں میں تسلسل کی کمی نے معیشت کو کمزور سے کمزور تر کر دیا ہے۔ حالیہ پیش کردہ بجٹ میں فی کس آمدن 1751سے 1901ڈالر ہو گئی ہے، دوسری طرف 1676 ارب روپے پٹرول اور ڈیزل پر لیوی کی مد میں وصولی کا پلان ہے، کسان کو کیا ملا ، تنخواہ دار طبقہ کو کیا ملا ، کراچی کے لیے پانی کے لیے مزید رقم مختص کی گی لیکن سالوں بعد بھی پانی نصیب نہیں ہوا ۔ ہزاروں نا اہلیاں، ہزاروں سوالات ہیں، لیکن سیاسی لیڈروں کے پاس جواب نہیں بلکہ جواز کئی پیش ہیں ۔
جمہوری حکومتیں ذاتی مفادات کے منصوبے فورا مکمل کر لیتی ہیں، مگر عوامی فلاح کے منصوبے ہمیشہ نظرانداز ہو جاتے ہیں۔ ہزاروں منصوبے فائلوں میں بند پڑے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ بھی ہر دور میں سیاسی کھلاڑیوں کی پشت پناہی کرتی رہی، نظام میں عدم توازن پیدا ہوا۔ عدم مساوات اور دولت کی عدم تقسیم کے قصور وار فیصلہ ساز ہیں۔ ہمارے ہاں عجیب نظام ہے حکومتی اداروں کے اربوں روپے بینکوں کے پاس ڈپازٹ ہیں اور انہیں پیسے کو بینک حکومت وقت کو قرض دے رہا ہے اور ساتھ میں سود ادا کر رہا ہے، اس سے بڑی نا اہلی کیا ہو سکتی ہے، پیسہ بھی حکومتی اداروں کا اور سود بھی حکومتی ادارے ادا کر رہے ہیں۔ یہ ملک کیسے چل رہا ہے، یہی حیرانگی کی بات ہے کہ چل رہا ہے۔
مگر اب حالات بدل رہے ہیں، کیونکہ اسٹیبلشمنٹ بھی سوچ رہی ہے۔ اس وقت ملک کی بڑی آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، جو ڈگریاں ہاتھ میں لیے بے روزگار بیٹھے ہیں۔ نہ سرکاری نوکریاں دستیاب ہیں اور نہ ہی نجی شعبہ اتنا مضبوط ہے کہ انہیں جذب کر سکے۔ دولت کی غیر مساوی تقسیم نے ان کے اندر غصہ اور مایوسی پیدا کر دی ہے، وہ سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے جذبات کا اظہار کر رہے ہیں، جو ایک بڑے سماجی ردعمل میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
اس وقت نوجوان شدید معاشی دبائو کا شکار ہیں، کیونکہ گھریلو ذمہ داریاں انہی کے سر ہیں۔ ایسے حالات میں ان کی سوچ ہے کہ وہ کیا کریں؟۔
حقیقت یہ ہے کہ ملکی معیشت کی بہتری کی رفتار انتہائی سست ہے، اور عدل و انصاف کا نظام بھی موثر نہیں۔ ایسے میں ہر فرد کو اپنی بقا کے لیے خود کوشش کرنا ہوگی۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ ٹیکنیکل ہنر سیکھیں، چھوٹے کاروبار کی طرف آئیں اور اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کریں۔ وقت کو ضائع کرنے کے بجائے اسے تعمیری کاموں میں لگائیں۔ لیکن تمام حقیقتوں کے بعد بھی ہم ایک ایسی عادت میں ڈل چکے ہیں جو کبھی ختم نہیں ہو گی، سارا دن چوک چوراہوں میں وقت ضائع کرتے ہیں اور سیاسی بیانوں پر دھمال ڈال کر گھر چلے جاتے ہیں ، نیا معاشی سرکل حکومتوں کیلئے بھی خطرے کی گھنٹی ہے۔ اب یہ سب کچھ نہیں چلے گا۔ اس سرکل میں ہر کسی کو تبدیل ہونا ہے۔





