Column

عیدالاضحی ! امت مسلمہ کیلئے تجدید عہد کا دن

پروفیسر حکیم سید عمران فیاض

عیدالاضحیٰ مسلم کلینڈر کے آخری مہینے کی 10ذی الحج کو منائی جاتی ہے۔ اس عید پر جانوروں کی قربانی دی جاتی ہے جس کی وجہ سے اسے عید قرباں کہا جاتا ہے۔ حُجاج اکرام قربانی کرنے کے بعد حج کے لیے پہنا گیا خصوصی لباس احرام اتار دیتے ہیں۔
قربانی کے لغوی معنی یہ لفظ ’’ قرب‘‘ سے بنا ہے اور عربی میں قرب کا معنی ہے: ’’ قریب ہونا، نزدیک ہونا ‘‘ اور قربانی کے ذریعے چونکہ اللّٰہ تعالیٰ کا قرب اور اس کی نزدیکی طلب کی جاتی ہے، اس لئے اسے قربانی کہتے ہیں۔ شریعت میں قربانی ایک مالی عبادت کو کہتے ہیں کہ خاص جانور کو خاص دنوں میں اللّٰہ تعالیٰ کے لئے ثواب اور تقرب کی نیت سے سے ذبح کرنا۔ یہ قربانی کا اصطلاحی معنی ہے۔
حدیث مبارکہ میں ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ’’ قربانی کے دن اللہ کو خون بہانے سے زیادہ بندے کا کوئی عمل محبوب نہیں اور وہ جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں اور کھروں سمیت آئے گا اور قربانی کے جانور کا خون زمین پر گرنے سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ کے ہاں ایک بلند درجہ حاصل کر لیتا ہے تو تمہیں اپنی قربانی سے مسرور ہونا چاہئے‘‘۔
موجودہ ملکی حالات کے پیش نظر اس قربانی کے دن ہمیں اپنے اردگرد موجود ایسے لوگوں کو بھی اپنی خوشیوں میں شریک کرنا چاہیے جو کہ ان مشکل حالات میں بڑی مشکل سے گزر بسر کر رہے ہیں ۔ ہمیں صرف دکھاوے کی قربانی نہیں کرنی چاہیے بلکہ ہمیں حقوق اللہ اور حقوق العباد کا بھی خیال کرنا ہوگا ۔ ہمارے اردگرد آپ کو ایسے لوگ بھی ملیں گے جو کہ صرف اللہ کی راہ میں اپنے جانور قربان کرتے ہیں اور اپنے قرب و جوار میں رہنے والے لوگوں، رشتہ داروں، ملازمین، غریبوں، مسکینوں تک ان کا حق پہنچاتے ہیں ۔ جبکہ بعض لوگ قربانی کو صرف دکھاوے کے طور پر کرتے ہیں۔ ان کا قربانی کا زیادہ تر گوشت فریزر میں ہوتا ہے۔ حالانکہ قربانی کے تین حصے ہوتے ہیں، اپنا، رشتہ داروں کا اور غریبوں کا ۔ لیکن یہاں آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے ۔ بعض لوگ جنہوں نے قربانی نہیں کی ان کی بجائے ان کو گوشت دے دیں گے جنہوں نے قربانی کی ہے جو کہ درست نہ ہے۔ اس سے قربانی کا اصل مقصد پورا نہیں ہوتا۔ اس لئے ہمیں چاہیے کہ ہم قربانی کو اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے کریں نہ کہ دکھاوے کے لئے۔ ورنہ قربانی کا ثواب نہیں ملے گا ۔ عید الاضحٰی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اطاعت خداوندی اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی تسلیم و رضا کی یاد گار ہے۔ آج کے دن ان عظیم انبیاء کرامٌ نے اطاعت و ایثار اور قربانی کی لازوال مثال پیش کی تھی، یہ عمل رہتی دنیا کے لئے ایک مشعل راہ کی حیثیت اختیار کر گیا ہے کہ بڑے مقاصد کی تکمیل اور اس دنیا کو دکھوں سے پاک کرنے کے لئے اپنی پیاری اشیا حتیٰ کہ اولاد کو بھی قربان کرنا پڑے تو اس سے گریز نہ کیا جائے۔ عیدالاضحی امت مسلمہ کیلئے تجدید عہد کا دن ہے ۔ تاکہ اس عظیم دن ھم ان کی دی گئی قربانیوں کی یاد کو تازہ کریں ۔
جانوروں کی قربانی دیتے وقت مندرجہ ذیل باتوں کا خیال رکھنا انتہائی ضروری ہے۔
سب سے پہلے تو یہ خیال رکھیں کہ دیگر جانور ذبح کرنے کی جلدی میں قصائی چھری کی نوک سے جانوروں کا حرام مغز کاٹ دیتا ہے جس سے جانور کی دل کی دھڑکن فوراً رک جاتی ہے جس وجہ سے جانور کے جسم سے خون کا اخراج رک جاتا ہے یہ خون بعد میں آہستہ آہستہ قربانی کے گوشت سے رستا رہتا ہے اور گوشت کا اصل ذائقہ نہیں بن پاتا، جو یہ کہا جاتا کہ فلاں قصائی کا گوشت بہت لذیذ ہوتا ہے وہ قصائی یہی طریقہ اپناتے ہیں کہ حرام مغز نہیں کاٹتے جس سے دل کافی وقت چلتا رہتا ہے اور زیادہ سے زیادہ خون گوشت سے خارج ہو جاتا ہے لہذا قصائیوں کو تاکید کریں کہ ایسا نہ کریں۔ کم سے کم دس پندرہ منٹ جانور کو ٹھنڈا ہونے دیں اور خون نکلنے دیں۔ اس دوران جانور کا دائیاں پائوں کھلا رکھنے سے خون زیادہ اچھی طرح نکلتا ہے اور چاروں پاں ہلانے سے مزید زیادہ خون نکلتا ہے ۔
دوسرا ایک جانور کے سامنے ہی دوسرا ذبح کیا جاتا ہے باجود یہ کہ واضح طور پر ایسا کرنے کی ممانعت ہے۔ مساجد میں اکٹھی بہت ساری قربانیاں کرنے والے مولوی صاحبان بھی یہ احتیاط نہیں کرتے۔
خاص طور پر جانوروں کو بے رحمی سے ظالمانہ انداز میں زمین پر گرانا اور پھر ان کی گردن مروڑ کر کاٹنا انتہائی ناپسندیدہ عمل ہے۔
قربانی کر رہے ہو اللہ پر احسان نہیں کر رہے اس لیے قربانی کے باقی آداب کا بھی خیال رکھا کرو۔
قربانی کی سنتیں، آداب اور مکروہات حسب ذیل ہیں۔
ذبح کی سنتوں اور آداب سے مراد وہ باتیں ہیں جن پر عمل کرنے سے اجر و ثواب ملے گا اور ان کو چھوڑنا مکروہ ( گناہ کی بات) ہے۔ یہ سنتیں اور آداب مندرجہ ذیل ہیں:
جانور کو نرمی اور اچھے طریقے سے ذبح کی جگہ لے جانا۔
ذبح کے وقت جانور بھوکا پیاسا نہ ہو۔
گائے، بھینس بکرے وغیرہ کو نرمی سے بائیں پہلو پر لٹا کر اس کا منہ قبلہ کی طرف کیا جائے اس طرح سے کہ اس کا سر جنوب کی طرف ہو اور دھڑ شمال کی طرف ہو۔ ان جانوروں کو کھڑا ہونے کی حالت میں ذبح کرنا خلاف سنت اور مکروہ ہے۔
اونٹ کو کھڑے ہونے کی حالت میں نحر کرنا سنت ہے اور بٹھا کر یا لٹا کر ذبح کرنا سنت نہیں ہے۔ کھڑا ہونے کی حالت میں اونٹ کے اگلی بائیں ٹانگ کو اٹھا کر باندھ دینا چاہیے۔
بڑے جانور کے ہاتھ پاں باندھ دینا البتہ دایاں پائوں کھلارہنے دینا چاہیے تا کہ جانور کے اس ٹانگ کو حرکت دینے سے خون اچھی طرح خارج ہو جائے۔
با وضو ہو کر دائیں ہاتھ سے ذبح کرنا۔
تیز دھار والی چھری سے تیزی سے ذبح کرنا۔
ذبح کیے جانے والے جانور میں شرائط:
ذبح کے وقت جانور زندہ ہو۔
جانور کو اس جگہ سے ذبح کیا جائے جہاں سے ذبح کرنے کا حکم ہے۔
جانور کو صرف انسانی ضرورت یعنی کھانے کے لیے ذبح کیا جائے۔
جانور کی روح صرف ذبح ہونے کی وجہ سے نکلی ہو۔
ذبح کے وقت مندرجہ ذیل چار رگوں کا کاٹنا واجب ہے:
حُلقُوم یعنی سانس کی نالی
مَرئی یعنی خوراک کی نالی
وَدْجَیْن یعنی دوران خون کی دو رگیں جن کو شہ رگ کہا جاتا ہے۔
ذبح کرتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لینا:
ذبح کرتے وقت زبان سے بسم اللہ اللہ اکبر کہنا۔
ذبح کرنے میں مکروہ یعنی گناہ کام:
ذبح کے آلات کو جانور کے سامنے لہرانا یا ان کے سامنے تیز کرنا۔
اس قدر کھنڈی یا کند چھری سے ذبح کرنا کہ ذابح کو زور لگانا پڑے۔
ایک جانور کو دوسرے جانوروں کے سامنے ذبح کرنا۔
ذبح میں چار رگوں کے علاوہ چھری کی نوک سے حرام مغز کی نالی کو کاٹنا۔
ذبح کے دوران جانور کا سینہ کھول کر اس کے دل کو کاٹنا۔
ذبح کرتے ہوئے جانور کی گردن توڑنا ۔
جانور کی روح نکلنے اور ٹھنڈا ہونے سے پہلے اس کی کھال اتارنا یا اعضاء کو کاٹنا۔
رات کے وقت ذبح کرنا جبکہ روشنی کا صحیح انتظام نہ ہو کیونکہ اس بات کا اندیشہ ہے کہ کوئی رگ کٹنے سے رہ جائے۔ اور اگر روشنی کا اچھا انتظام ہو تو مکروہ نہیں۔
اونٹ کے علاوہ دوسرے جانوروں کو کھڑے ہونے کی حالت میں ذبح کرنا۔
اونٹ کے زمین پر گرنے کے بعد اس کی گردن کو تین جگہ سے کاٹنا اس لیے کہ یہ بلا وجہ تکلیف دینا ہے۔
ذبح کرنے کے بارے میں احتیاط:
عام طور پر قصائی حضرات ذبح میں رگوں کے کاٹنے کے فوراً بعدجانور کو جلدی ٹھنڈا کرنے کے لیے درج ذیل امور کا ارتکاب کرتے ہیں:
1. جانور کی گردن یا منکا توڑ دیتے ہیں۔
2. چھری کی نوک سے حرام مغز کاٹ دیتے ہیں۔
3. رگیں کاٹنے کے فوراً بعد جانور کا سینہ کھول کر دل پرچھری مار دیتے ہیں۔
یہ تینوں کام مکروہ تحریمی اورسخت گناہ ہیں۔ اس کے علاوہ اس میں ایک بڑی خرابی یہ ہے کہ جانور کی حرکت جلدی بند ہو جانے سے خون پوری طرح نہیں نکلتا جبکہ شریعت ہمیں نجس خون سے پاک ، صاف اور عمدہ گوشت کھلانا چاہتی ہے۔ لہذا قصائی حضرات کو خاص طور پر ذبح سے پہلے ان امور کے ارتکاب سے منع کیا جائے۔
حلال جانور کے مندرجہ ذیل سات اجزاء حرام ہیں:
1. ذبح کے وقت شہ رگ سے بہنے والا خون حرام اور نجس ہے۔
2. نر جانور کا عضو تناسل
3. مادہ جانور کی پیشاب گاہ
4. مثانہ یعنی پیشاب کی تھیلی
5. خصیے یا کپورے
6. غدود
7. پتہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button