Editorial

معاشی پیکیجز ملنے کے روشن امکانات

 

غیرملکی ذرائع ابلاغ کےمطابق ایسے وقت میں جب اسلام آباد کی آئی ایم ایف کے ساتھ امدادی پیکیج پر بات چیت جاری ہے،سعودی عرب نے پاکستان کے کم ہوتے غیر ملکی ذخائر کو تقویت دینے کے لیے پاکستان کے مرکزی بینک میں 3 ارب ڈالرز کے ذخائر کی تجدید پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق معاہدے سے واقف افراد کاکہناہےکہ دنیا کے سب سے بڑے تیل برآمد کنندہ ملک سعودی عرب جو اسلام آباد کو ہمیشہ مشکل وقت میں مالی امداد فراہم کرتا آیا ہے، نےپاکستان کو 10ماہ کے لیے پیٹرولیم مصنوعات میں 1ارب ڈالرز کی سپورٹ پر بھی رضامندی ظاہر کی ہے،اس امداد سے پاکستان کو آئی ایم ایف سے 1.2 ارب ڈالرز کی ادائیگی میں مدد مل سکتی ہے، آئی ایم ایف کا بورڈ رواں ماہ ادائیگی کی منظوری کے لیے اجلاس کرنے والا ہے۔آئی ایم ایف نے گزشتہ ماہ اپنے قرضہ پیکیج کو 1 ارب ڈالرز سے بڑھا کر 7 ارب ڈالرز کرنے پر اتفاق کیا تھا لیکن اس نے رقم کی ادائیگی کو اس یقین دہانی پر مشروط کر دیا تھاکہ پاکستان کو کسی اور جگہ سے اضافی مالی امداد ملے۔ایک سینئر پاکستانی عہدیدارنے بھی غیر ملکی ذرائع ابلاغ کی اِس خوشخبری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایاہے کہ سعودی عرب نے سٹیٹ بینک آف پاکستان میں اپنے 3ارب ڈالرز کے ذخائر کو رول اوور کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے جس سے آئی ایم ایف کے قرضے کو بحال کرنے میں مدد ملے گی یہی نہیں پاکستان، آئی ایم ایف اور سعودی عرب نے اس امکان پر بھی بات کی ہے کہ اسلام آباد فنڈسے ریاض کے خصوصی ڈرائنگ رائٹس (ایس ڈی آر) کے کوٹے کی مد میں 2.8ارب ڈالرز تک قرض لے سکتا ہے،ایک بار فائنل ہونے کے بعد، موجودہ مالی سال (جولائی سے جون) کے دوران پاکستان کی آئی ایم ایف سے قرض لینے کی حد 2.8بلین ڈالر تک بڑھ جائے گی، یہ بہت اچھاہو جائے گاتاہم غیر ملکی میڈیا نے یہ بھی بتایا ہے کہ سعودی عرب اور آئی ایم ایف نے اس پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے مقامی ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ آئی ایم ایف بورڈ کے اجلاس سے پہلے دوست ملکوں سے 4ارب ڈالرز کا انتظام ہوگیا، مالیاتی ادارے کو جوابی خط دیں گے ۔ وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے ایک بار پھر وہی بات دھرائی جو اکثر وہ کہتے ہیں اور اُن کی باتوں سے درحقیقت ملکی معاشی اور سیاسی حالات کی منظر کشی ہوتی ہے، انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ ایسا وقت آگیا ہے کہ دوست ممالک بھی پیسے دینے میں مشکل کررہے ہیں،یہ نہیں کہتا کہ بنگلہ دیش یا کوریا کا ماڈل اپنائو لیکن کوئی نیا ماڈل تو بناؤ، آگے تو بڑھو۔یہاں ہم پہلے وزیراعظم شہبازشریف کے خطاب کا کچھ حصہ بیان کرنا چاہتے ہیں جو انہوں نے اسلام آباد کے جناح کنونشن سینٹر میں کیا۔ وزیراعظم پاکستان نے قومی ڈائیلاگ کو وقت کی ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ نقطہ آغاز میثاق معیشت ہوسکتا ہے، معاشی خودمختاری کے بغیر آزادی نامکمل ہے، ہمیں اپنا محاسبہ کرنا ہوگا، ہماری
طاقت عوام ہیں، جوہری قوت بن سکتے ہیں تو معاشی کیوں نہیں، اندرونی خلفشار اور تقسیم سے بڑھ کر کوئی چیز خطرناک نہیں ہوسکتی ہے ۔ وزیراعظم مسلسل دو روز سے میثاق معیشت پر زور دیتے ہوئے کہتے آرہے ہیں کہ سیاسی طاقتوں کو معیشت کے لیے تمام تر اختلافات ایک طرف رکھ کر سر جوڑنا چاہیے تاکہ ملک کو معاشی بحران سے باہر نکالا جاسکے ۔ وزیراعظم سے قبل صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے بھی لاہور میں ایسے ہی خیالات کا اظہار کرتے ہوئے سیاسی قوتوں کے درمیان ڈائیلاگ کرانے کی پیش کش کی تھی لیکن بدقسمتی سے صدر مملکت کی پیش کش اور وزیراعظم شہبازشریف کے بار بار کہنے کے باوجود سیاسی قیادت کی طرف سے ایسی پیش قدمی نہیں ہوئی جس پر قوم مسرت کا اظہار کرتے ہوئے امید باندھ سکے کہ اب سیاسی لڑائیوں کی بجائے ملک و قوم کے لیے سوچنے اور عملی اقدامات کرنے کا وقت آگیا ہے اور اب ہر غریب آدمی معاشی مسائل کی دلدل میں مزید دھنسنے کی بجائے خوشحال زندگی کی امید رکھ سکتا ہے۔ وزیر خزانہ نے ایک اور کڑوا سچ یہ بھی ہے کہ ہم اتنا پیچھے رہ چکے ہیں کہ ہم جشن آزادی منانے کے مستحق نہیں ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ انہوں نے بالکل بجا کہا ہے کیونکہ جب بھی ملک میں کوئی نئی سیاسی جماعت اقتدار میں آتی ہے ریاست کے نئے سربراہ معاشی حالات کو دیکھ کر سر پکڑ لیتے ہیں، ملک پرچڑھے قرضوں کا پہاڑ قوم کو کمر سیدھی نہیں کرنے دیتا اور جب ہمیں دوست یا برادر اسلامی ملک یا پھر آئی ایم ایف سے قرض ملنے کا یقین ہو تو ہم شادیانے بجاتے ہیں۔ بلاشبہ آج ہم جن بحرانوں سے دوچار ہیں وہ ہماری دہائیوں سے جاری غلط معاشی پالیسیوں ، مستقبل کی منصوبہ بندی سے لاتعلقی اور عوام سے کئے جھوٹے دعوئوں کا نتیجہ ہیں ۔ آج عوام معاشی لحاظ سے اتنے بدحال ہیں کہ وہ کسی بھی صورت معاشی بحران سے نبرد آزما ہونے کو تیار نہیں، عام پاکستانی دو وقت کی روٹی اور روزگار کے لیے پریشان ہے ، مہنگے ذرائع ایندھن کی وجہ سے صنعت کار اور تاجر صنعتوں کی تالہ بندی پر مجبور ہورہے ہیں جس کے نتیجے میں بے روزگاری بھی ہورہی ہے مگر مجبوری ہے بجلی،گیس اور پٹرول مہنگا نہ کریں تو باہر سے قرض نہیں ملتا،عجیب پریشان کن صورتحال سے پوری قوم دوچار ہے ۔جب قوم پوچھے کہ اِن حالات کا ذمہ دار کون ہے تو سبھی ایک دوسرے پر انگلی اٹھاتے ہیں مگر ذمہ داری کوئی قبول نہیں کرتا۔ مگر تاریخ دان موجودہ حالات بیان کرتے ہوئے ضرور لکھیں گے کہ ملک کو چاروں اطراف سے بحرانوں کا سامنا تھا، میثاق معیشت اور سیاسی قوتوں کے مابین ڈائیلاگ کی پیش کش بھی ہورہی تھی مگر کچھ طاقتیں ایسی تھیں جنہوں نے اِس موقعے سے فائدہ نہ اٹھایا اور ملک و قوم کو مزید بحرانوں کا شکار ہونے دیا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ماضی کی غلطیوں اور باہمی مسائل کو ایک طرف رکھتے ہوئے داخلی اور خارجی مسائل کی طرف توجہ دینی چاہیے ۔ ہم انفرادی طور پر اپنی عزت نفس کی خاطر مشکل سے مشکل قدم اٹھانے سے گریز نہیں کرتے لیکن جب اجتماعی یعنی قوم کی عزت کا معاملہ ہو تو ہم ہاتھ پھیلانے سے گریز نہیں کرتے، اسلامی دنیا کی پہلی ایٹمی قوت اور بہادر افواج رکھنے والے ملک کا سربراہ اپنے عہدے کا حلف اٹھاتے ہی دوست اور برادر ممالک سے قرض لینے نکل پڑے یہ پوری قوم کے لیے لمحہ فکریہ ہے مگر سب سے زیادہ سیاسی قیادت کے لیے پریشان کن ہونا چاہیے کہ ہم کب تک قرض مانگ کر نظام مملکت چلائیں گے اور کب تک پوری دنیا کے سامنے ہمارے سیاسی اور معاشی مسائل تماشا بنے رہیں گے۔ موضوع کی طرف دوبارہ لوٹتے ہیں، ابھی ہمیں کسی طرف سے قرض ملا نہیں لیکن ملنے کی خبروں سے ہی ڈالر کی قیمت میں مسلسل گراوٹ آنا شروع ہوگئی ہے اور اس کے مقابلے میں ہمارا روپیہ مستحکم ہورہا ہے۔ گذشتہ روز انٹر بینک میں کاروبار کے اختتام پر امریکی ڈالر 1 روپے 51 پیسے سستا ہونے کے بعد 213 روپے 98 پیسے کا ہو گیا اور دوسری جانب اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر 3 روپے سستا ہونے کے بعد 210 روپے کا ہو گیا۔اسٹاک ایکسچینج میں مثبت رجحان دیکھنے کو ملا اور پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا 100 انڈیکس 729 پوائنٹس اضافے کے بعد 42587 ہو گیا۔حصص بازارمیں 54 کروڑ شیئرز کا کاروبار ہوا جس کی مالیت 16 ارب 83 کروڑ روپے رہی۔اسی طرح مارکیٹ کیپٹلائزیشن 102 ارب روپے بڑھ کر 7 ہزار 275 ارب روپے ہے۔ موجودہ حکومت معیشت کی بحالی کے لیے ایوان میں تبدیلی کے ذریعے برسراقتدار آنے کی دعویدار ہے اور جیسا کہ متذکرہ خبروں سے لگتا ہے کہ امدادی پیکیج بھی جلد ملنے والے ہیں تو ہم سمجھتے ہیں کہ موجودہ حکومت کو امدادی پیکیج ملنے کے بعد معیشت کے لیے ایسے انقلابی اقدامات کرنے چاہئیں جو ایوان میں تبدیلی سے لیکر معیشت کی بحالی تک ہر قدم کا درست جواز نظر آئے، ماضی میں بھی امدادی پیکیج لیے گئے مگر نتیجے میں قرضوں کا پہاڑ ہی چڑھا مگر اس بار ایسا نہیں ہونا چاہیے، اگرچہ موجودہ حکومت کے لیے موجودہ سیاسی اور معاشی صورتحال میں معیشت کےلیے ایسے اقدامات کرنا مشکل نظر آئے گا لیکن پھر بھی ہم سمجھتے ہیں کہ اگر تمام اتحادی جماعتوں اور ان کی تجربہ کار معاشی ٹیم مل کر ملک کو اِس بحرانی کیفیت سے نہیں نکال سکتی تو پھر کوئی ایک سیاسی جماعت ملک کو بحران سے نکال لے، ایسا قطعی ممکن نہیں اس لیے یہ اتحادی جماعتوں کی قیادت اور ان کی معاشی ٹیموں کے لیے زبردست امتحان ہوگا کہ وہ امدادی پیکیج سے کیسے ملک کو معاشی بحران سے باہر نکالتے ہیں۔ عوام زبردست اور آسمان کو چھوتی مہنگائی کا سامنا کررہے ہیں اور اس وقت مہنگائی تاریخ کی بلند ترین شرح پر موجود ہے، موجودہ اتحادی حکومت حزب اختلاف کے طور پر مہنگائی کم اور ختم کرنے کے دعوے کرتی آئی ہے تو اب مہنگائی ختم نہیں تو کم ضرور کرنی چاہیے تاکہ عوامی عدالت میں سرخرو ہوا جاسکے، پھر صنعتوں اور زراعت جیسے شعبوں کو بھی مراعات دینا ہوں گی کیونکہ موجودہ معاشی صورتحال میں کوئی بھی پیداواری شعبہ ترقی نہیں کرسکتا اور اگر یہ شعبے ترقی نہیں کریں گے تو ہم بیرونی قرض کیسے اُتاریں گے، اِس لیے حکومت کو صنعتی شعبے کو بھی ریلیف دینا ہوگا ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت کو اپنے فالتو اخراجات میں فی الفور کٹوتی کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ بچت کرنی چاہیے تاکہ وہی پیسہ کسی اور اہم مد میں استعمال کیا جاسکے۔ 48 ارب ڈالرز کا تجارتی خسارہ حکومت کے سامنے ہے یہ بھی کم سے کم کرنا ہے مگر کیسے فی الحال سمجھ میں نہیں آرہا لیکن عوام بہرصورت اچھے دنوں کے منتظر ہیں اور یقیناً اتحادی حکومت کی قیادت عوام کی آواز سن رہی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button