تازہ ترینخبریںپاکستان سے

حکومتی شخصیات کا مقدمات پر اثر انداز ہونے کا معاملہ: ایف آئی اے کی رپورٹ جمع

حکومتی شخصیات کی جانب سے مقدمات پر اثر انداز ہونے کے معاملے پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع کروادی ہے۔

تفصیلات کے مطابق اعلیٰ حکومتی شخصیات کی جانب سے عدالتوں میں جاری کیسز میں اثر انداز ہونے کے کیس میں ایف آئی اے نے سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع کرادی ہے، ریورٹ میں ایف آئی اے نے کہا کہ وزارت داخلہ سمیت کسی ادارے نے بھی کیسز میں مداخلت نہیں کی، فاروق باجوہ کو ایف آئی اے کی درخواست پر ہی پراسیکیوٹر تعینات کیا گیا ہے۔

ایف آئی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ حکومت، عدالتوں اور اداروں کی سفارشات پر ای سی ایل میں نام ڈالا جاتا ہے، حکومت کی جانب سے حال ہی میں ای سی ایل رولز میں ترمیم کی گئیں، انہی ترمیم شدہ رولز کے مطابق متعدد افراد کے نام ای سی ایل سے نکالے گئے ہیں، تاہم اہم مقدمات کے ملزمان کے نام ای سی ایل میں اب بھی موجود ہیں۔

ایف آئی اے نے ای سی ایل سے نام نکالنے گئے ناموں کی فہرست بھی عدالت میں جمع کرادی ہے۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے عدالتوں میں جاری کیسز میں اعلیٰ حکومتی شخصیات کی جانب سے مداخلت کی اطلاعات پر از خود نوٹس لیا تھا، چیف جسٹس جسٹس عمر عطا بندیال نے ازخود نوٹس ساتھی جج کی نشاندہی پر لیا تھا۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں 5 رکنی لارجز بینچ نے 19 مئی کو کیس کی سماعت کی تھی۔

سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے ہائی پروفائل کیسز کا تفتیشی ریکارڈ سیل کرکے عدالت میں پیش کرنے  کی ہدیات کی تھی، سپریم کورٹ نے خصوصی عدالت، ہائی پروفائل اور نیب کیسز میں تفتیشی افسران کے تبادلے روکنے کی بھی حکم دیا تھا، عدالت نے نیب اور ایف آئی اے کو حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ تا حکم ثانی کوئی بھی کیس عدالتی فورم سے واپس نہ لیں۔

سپریم کورٹ نے ایف آئی اے سے ای سی ایل میں شامل، نکالے گئے تمام نام اور طریقہ کار کی تفصیل پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے پراسیکیوشن سے متعلقہ 6 ہفتے میں کی گئی تقرریوں اور تبادلوں کی تفصیلات عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button