Editorial

لانگ مارچ ،سیاسی انتشاراور ڈیڈ لاک

پاکستان تحریک انصاف کی قیادت نے کل پچیس مئی کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کیا ہے، جب تک اسمبلیاں توڑ کر فوری طور پر نئے انتخابات نہیں کرائے جاتے دھرنا جاری رکھا جائے گا۔ سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کا کہنا ہے کہ اِس کے علاوہ کوئی بات ہمیں قبول نہیں، دوسری طرف حکومت نے پاکستان تحریک انصاف کا جلد انتخابات کا مطالبہ ماننے سے انکار کرتے ہوئے اپنی مدت پوری کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور حکومتی ذرائع کا بتانا ہے کہ عمران خان اسلام آباد میں جلسہ کر کے چلے جائیں گے تو ان کو سہولتیں فراہم کی جائیں گی، عمران خان دھرنا دے کر حکومت نظام کو مفلوج کریں گے توقانونی طریقے سے روکا جائے گا،
دھرنے سے اسلام آباد میں نظام زندگی متاثر ہوا توقانون حرکت میں آئے گا، عمران خان نےامن و امان کا مسئلہ پیدا کیا تو اس کو قانونی طریقے سےحل کیا جائے گا۔ قصہ مختصر کہ پی ٹی آئی اسمبلیاں ٹوٹنے اور عام انتخابات کے اعلان تک دھرنا ختم نہیں کرے گی جبکہ حکومت اور اتحادی جماعتوں نے بہرصورت اسمبلی کی آئینی مدت پوری کرنے پر اتفاق کیا ہے، پس نظر آرہا ہے کہ دونوں اطراف سے ڈیڈ لاک ہے اور دونوں ایک دوسرے کا صبر آزمارہے ہیں ،یوں جس فریق کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا معاملہ اُس نہج پر پہنچ سکتا ہے جس کا ہر پاکستانی کو ڈر ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ وطن عزیز موجودہ سیاسی و معاشی صورتحال میں مزید انتشار یا عدم استحکام کا متحمل نہیں ہوسکتا، معاشی ماہرین اور خود حکومتی معاشی ٹیم موجودہ حالات میں قیادت کے بڑے اور سخت فیصلوں کی منتظر ہے کہ اِن اقدامات کے نتیجے میں معیشت کو کچھ سنبھالا مل سکے مگر ایک طرف معاشی بحران روز بدتر ہورہا ہے تو دوسری طرف سیاسی عدم استحکام بھی سبھی کو اپنی جانب متوجہ کیے ہوئے ہے اور اب لانگ مارچ کے اعلان کے بعد معاشی صورتحال مزید خرابی کی طرف بڑھے گی،
آئی ایف ایم پاکستان کے سیاسی استحکام کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کرے گا کیونکہ جہاں سیاسی عدم استحکام ہو وہاں کوئی سرمایہ کاری کرکے اپنا پیسہ نہیں ڈبوتا۔ تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں انجام کو پہنچی پی ٹی آئی قیادت اب فوری انتخابات کا مطالبہ کرتے ہوئے موقف اختیار کررہی ہے کہ عوام جس کو منتخب کریں اُن کا اختیار ہے لیکن وہ موجودہ حکومت کو کسی صورت برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں، دوسری طرف اتحادی جماعتوں کی حکومت تمام سیاسی اور معاشی مسائل سے نبرد آزما ہونے کاعزم بھی رکھتی ہے اور معیشت کی بحالی کے لیے ہر ممکن قدم اُٹھانے کو بھی تیار ہے لیکن جب عام پاکستانی کو معاشی لحاظ سے آزمائش میں ڈالنے کی بات آتی ہے تو حکومت کے قدم رُک جاتے ہیں کیونکہ مسلم لیگ نون اور پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت ہی نہیں بلکہ اتحاد میں شامل دوسری جماعتیں بھی عام پاکستانی کو مزید آزمانے کے
حق میں نہیں کہ پہلے ہی لوگ مہنگائی اور بے روزگاری کی وجہ سے پریشان ہیں اور ملک میں ہر طرف یہی آہ و بکار سننے کو ملتی ہے۔
بلاشبہ جمہوری معاشرے میں پُرامن احتجاج اور لانگ مارچ جمہوریت کا حصہ تصور کیے جاتے ہیں اور ملکی سیاسی تاریخ لانگ مارچ اور دھرنوں سے بھری پڑی ہے مگر تاریخ کا سب سے طویل 126دن کا طویل ترین دھرنا پی ٹی آئی نے دیا اگرچہ وہ دھرنا مطالبات کی منظوری کے بغیر ہی افسوسناک واقعہ سانحہ اے پی ایس کی وجہ سے انہوں نے ازخود ختم کردیا تھا لیکن وہ اب بھی اِس طویل دھرنے کا کریڈٹ لیتے ہیں اور اب ایک بار پھر دھرنا دینے کے لیے تیار ہیں اور اِس کے لیے انہوںنے ملک بھر میں جلسہ عام کے ذریعے رائے عامہ کو اپنے حق میں ہموار بھی کرلیا ہے، قبل ازوقت کہنا ہوگا کہ لانگ مارچ و دھرنے کے شرکا اپنے مطلوبہ مقا م تک پہنچ سکیں گے یا نہیں ، حکومت کی جانب سے کیا حفاظتی اقدامات کیے جاتے ہیں اور شرکا کو کہاں تک محدود کیا جاتاہے،لیکن خدشات بہرحال موجود اور ہمیں متوقع خطرات سے آگاہ کررہے ہیں، اگرچہ پی ٹی آئی کی قیادت دھرنے کو پُرامن رکھنے کا اعلان کرچکی ہے اور حکومت کا بھی کہنا ہے کہ وہ پُرامن رہنے کی صورت میں کوئی قدم نہیں اُٹھائے گی لیکن اگر کوئی تیسرا اِس صورتحال کو خراب کرنے کی کوشش کرتا ہے تو بلاشبہ حالات خرابی کی طرف بڑھ سکتے ہیں کیونکہ تخریب کار کا مقصد صرف تخریب کرنا ہے،
حکومت اور لانگ مارچ کے شرکا کے درمیان افہام و تفہیم ہونی چاہیے تاکہ خدانخواستہ بدامنی کی صورتحال پیدا نہ ہو۔ پی ٹی آئی کے دھرنے کا اختتام کب اور کن شرائط کی تکمیل پر ہوتا ہے اِس کے متعلق بھی کوئی دعویٰ نہیں کیا جاسکتا مگر سیاسی کشیدگی کو کم بلکہ ختم کرنے کے لیے سیاسی قیادت کو سرجوڑنے کی ضرورت ہے تاکہ جلد ازجلد سیاسی عدم استحکام کو نمٹاکر معاشی عدم استحکام کی طرف توجہ مبذول کی جاسکے۔ اگرچہ ابھی معاشی عد م استحکام کے لیے مطلوبہ اور فوری توجہ طلب ناگزیر فیصلے حکومت کی جانب سے سامنے نہیں آئے لیکن معاشی حالات کو دیکھتے ہوئے اِن فیصلوں کے اعلان اور اُن پر فوری عملدرآمد کی ضرورت ہے مگر یہ تبھی ممکن ہے جب حکومت کو سیاسی معاملات سے توجہ ہٹانے کا موقعہ ملے۔
پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کے لانگ مارچ کے اعلان کے بعد حکومتی اتحاد میں شامل سیاسی رہنماؤں میں مشاورت ہوئی اور فیصلہ کیا گیا ہے کہ قبل ازوقت انتخابات نہیں کرائے جائیں گے اور حکومت 2023ء تک اپنی مدت پوری کرے گی مگر پاکستان تحریک انصاف کی قیادت اپنے مطالبے سے دستبردار ہونے کے لیے قطعی تیار نہیں بلکہ مطالبہ پورا نہ ہونے تک دھرنا جاری رکھنے کے لیے تیار نظر آتی ہے اب تو سیاسی عدم استحکام کا خاتمہ اسی صورت میں ممکن ہے اگر دونوں فریقین کسی ایک حل یا فیصلے پر متفق ہوجائیں چونکہ پی ٹی آئی اور حکومتی اتحاد اپنے اپنے فیصلوں پر قائم ہیں اِس لیے بہت ضروری ہے کہ دونوں کو ایک میز تک لاکر کسی ایسے حل تک پہنچا جائے جو دونوں
کے لیے قابل قبول ہو اور اُس فیصلے کے نتیجے میں سیاسی عدم استحکام کا خاتمہ ہو تاکہ ہم معاشی مسئلے سے نبرد آزما ہونے کے لیے پوری توانائی صرف کرسکیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button