ColumnQadir Khan

سیاست اور اخلاقی اقدار … قادر خان یوسف زئی

قادر خان یوسف زئی

اخلاقی اقدار وہ اصول ہیں جو اچھے ہونے، اچھا کرنے اور دوسروں کے لیے بنیادی احترام کے ساتھ مل جل کر رہنے کے لیے مناسب طرز عمل اور اخلاق کو سختی سے نافذ کرتے ہیں۔درحقیقت، ضروری نہیں کہ تمام اقدار اخلاقیات کے دائرے سے تعلق رکھتے ہوں، اقدار کی اخلاقیات تاریخی طور پر مذاہب سے بھی جڑی ہوتی ہیں اور وہ مختلف وجوہ کی بنا پر ، دوسرے ’ قدر کے شعبوں،کے ساتھ جیسے کہ معاشیات ، سیاست، جمالیات، شہوانی،شہوت انگیز اور آخر میں تصادم میں آسکتی ہیں۔ اقدار کی سختی سے اخلاقی حیثیت کے بارے میں جو بحث ہونے لگی ہے ، اس میں اضطراری اور عقل کے نام پر یہ سوال اٹھتا ہے کہ وہ تقاضے کیا ہیں جو اخلاقی اقدار کی حیثیت حاصل کرنے کے لیے پورے کرنا ہوں گے ۔ رسمی طور پر اخلاقیات کا جنازہ تو نکل چکا۔ مثال کے طور جب اضطراری ترجیحات کی بات آتی ہے جو خود دوسری ترجیحات سے متعلق ہیں تو مزاحمت کے بیانیہ کے طور پر راہ سے ہٹانا کس حد تک جائز قرار دیا جاسکتا ہے۔ مخالفین کے خلاف کھلی تنقید میں تہذیب کی عملی قدر کو برقرار رکھنا بھی ضروری کیا جاتا ہے کیونکہ کسی کے احترام میں نظریاتی سطح پر ہی نہیں بلکہ اخلاقی محور میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ جس نے اخلاقیات کا جو معیار اختیار کیااس کامذہب اس حوالے سے، اس سے کیا متقاضی ہے۔ تمام ثقافتوں کو انسانیت کے اس درجے پرہونا چاہیےجہاں نظریات کےاختلاف میںاخلاقی و ثقافتی اقدار کو پامال نہ کیا جاسکے ۔

اخلاقی فیصلے سیاسی نظریات سے چلتے ہیں، تاہم یہ جانچنے کی ضرورت ہے کہ کیا اخلاقی وجدان سیاسی نظریات کے تابع چلتے ہیں یا سیاسی عقائد اخلاقی انتشار پھیلاتے ہیں ، ہمیں اس حقیقت کو نہیں بھولنا چاہیے کہ فیصلے کا بہترین ذریعہ انسان کی اپنی عقل ہے۔ آج کل کسی بھی سیاسی مسئلے کے بارے میں گفتگو میں سننے کو ملتا ہے کہ ’’کسی کو دوسروں پر اخلاقیات نافذ کرنے کا کوئی حق نہیں ۔‘‘کیا یہ ستم ظرفی نہیں کہ معاشرے کا ایک طبقہ یہ کہتا رہے کہ کوئی چیز غیر اخلاقی ہے اور دوسرا فریق یہ دعویٰ کرے کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ اخلاقیات کے نفاذ کے کاروبار میں مداخلت سے باز رکھنے کے لیے مختلف تاویلیں بھی شرم ناک ہیں کہ اخلاقی پس ماندگی کا مقابلہ بھی اخلاقی انحطاط پزیری سے کیا جائے ۔ یہ خیال پرانا ہوچکا کہ اخلاقی طور پر غیر جانب دارنہیں ہونا چاہیے۔ معاشرے کاموازنہ ایک پیچیدہ کھیل سے کیا جاسکتاہے جس میں مختلف لوگوں کے مختلف مقاصد ہوتے ہیں اور مختلف اقدار کی پیروی کرتے ہیں، ریاست کا کردار کھیل کے قوانین کو نافذ کرنا ہے ، لہٰذا حکومت کو فٹ بال کے کھیل میں ریفری کی طرح ہونا چاہیے  اور اسے کسی ایک کھلاڑی کے اہداف اور اقدار کی حمایت یا طرف داری نہیں کرنی چاہیے بلکہ صرف یقینی بنانا چاہیے  کہ ہر کوئی قواعد پر عمل کرے ۔
سیاسی گفتگو میں دو معروف ڈکٹیٹ ہیں جو بظاہر ایک دوسرے سے متصادم ہیں لیکن ان کے بہت زیادہ معنی ہیں، یہ دونوں باتیں حکمرانی سے متعلق ہیں ،ان میںایک کہتا ہے وہ حکومت بہترین ہے جو بہترین حکومت کرتی ہے جب کہ پہلے حکم کا مطلب یہ ہے کہ حکومت کو اپنی سرگرمیوں کو صرف ریاست سے متعلق معاملات تک محدو رکھنا چاہیے یابڑے پیمانے پر کیمونٹی سے ۔ ذاتی آزادی کے کافی گنجائش کو چھوڑنا ہوگا اور شہریوں کو انفرادی طور پر مختلف قسم کی آزادی دینی چاہیے جبکہ دوسرا گورننس کے معیار پر زور دیاجاتا ہے اور امن و امان کی بحالی سے متعلق نرمی یا سستی نہ کرنے پر زور دیتا ہے وغیرہ وغیرہ ۔ دوسرا موقف یہ بھی بتاتا ہے کہ یہ حکومت کی شکل نہیں ہے جو سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے ۔ یہ حکمرانی کا اصل معیار ہے جو بنیادی طور پر اہم ہے، ہم دیکھتے ہیں کہ اب یہ بڑے پیمانے پر مانا جاتا ہے کہ کیا جمہوریت حکومت کی بہترین شکل ہے جو سامان فراہم کرسکتی ہے ؟۔ حالاں کہ افلاطون نے حکومت کی مختلف شکلوں کو اپنی درجہ بندی میں کہا تھا کہ جمہوریت حکومت کی ایک بگڑی ہوئی شکل ہے ،
ایک کہاوت کے مطابق ’ عوام کی حکومت ، عوام کے
لیے اور عوام کے ذریعے۔ ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ عملی طور پر ایک منتخب قانون ساز صرف اپنی پارٹی اور اپنی پارٹی کی پالیسی اور اس کے منشور کی نمائندگی کرتا ہے ، وہ اپنی پارٹی کی پالیسی اور اس کے منشور کے فائدے کے لیے کام کرتا ہے ، اسی طرح وہ تمام لوگوں کی نمائندگی نہیں کرتا۔ ایک بار جب ایک منتخب شخص اقتدار حاصل کرلیتا ہے تو وہ اپنے اثر و رسوخ کے دائرہ کو بڑھانا شروع کردیتا ہے اور اپنے لیے ہر طرح کے فوائد حاصل کرنا شروع کردیتا ہے ، تو ہم یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ وہ عوام کا نمائندہ ہے اور عوام کی نمائندگی صرف اسی صورت ممکن ہے جب اس میں کوئی خود غرضی نہ ہو اور وہ جماعت ، ذات برادری، زبان اور نسل کی تنگ نظریوں سے بالاترہواور خدمت کا جزبہ رکھتا ہو ، وسیع تر تحفظات لیکن انتخابی پالیسی ان اقدار سے کچھ یا زیادہ تر کی جڑ پر حملہ کرتی ہے کیونکہ عام طور پر کوئی ایک مخصوص گروہ کی وہ نمائندگی کرتے ہیں اور اس گروہ کے مفادات کو اپنے ذہن میں ترجیحی طور پر رکھتے ہیں ، اس طرح وہ معاشرے میں صرف اپنے ایک مخصوص طبقے کی نمائندگی کرتا ہے نہ کہ پورے معاشرے کی،اس سے ایک دوسرے کی مخالفت کا جذبہ پیدا ہوتاہے اور اس کا نتیجہ تقسیم پزیری کی صورت میں نکلتا ہے ۔
یہ اکثردیکھا گیا ہے کہ انتخابات کے دوران لوگ عام طور پر اپنے انفرادی فیصلوں پر ہی عمل کرتے بلکہ وہ گلہ شکن ذہنیت کی پیروی کرتے ہیں جو کہ جمہوریت کے بالکل مخالف ہے۔ پھر بھی یہ ہماری سیاست کی ایک خصوصیت بن گئی ہے ، اب باقی تما م پہلوئوں کو چھوڑ کر، بشمول یہ کہ پارلیمانی جمہوریت نے شاہی سر قلم ، بغاوت اور تشدد جیسے خونی واقعات کے ذریعے منفی سیاسی رجحان کو بھی پروان چڑھایا، اس میں سے شاید ہی کسی وضاحت کی ضرورت ہے کہ جب تک وہ اچھے اخلاق کے حامل نہ ہوں،ان کے یا ان کی جماعتوں کے منتخب نمائندے نہیں چل سکتے، اچھے معیار کی کمی سے ایسے لوگ صرف جرائم اور بدعنوانی کو فروغ دیں گے اور اسے برقرار رکھیں گے اور ایسی حکومت کبھی بہترین نہیں ہوسکتی ۔لہٰذا یہ ضروری ہے اقدار کی تعلیم کے ذریعے اپنا اور لوگوں کے اخلاقی قدکاٹھ کو بلند کیا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button