Editorial

گندم کی ہدف سے کم پیداوار

 امسال گندم کی مجموعی پیداوار مقررہ ہدف 28.89 ملین میٹرک ٹن کی بجائے 26.173 رہنے کی امید ہے ۔ گندم کی ملکی سطح پر مجموعی کھپت کا تخمینہ 30.79 ملین میٹرک ٹن لگایا گیا ہے۔ گندم کی پیداوار کے ہدف اور متوقع پیداوار میں فرق کی وجوہات میں گندم کی کاشت میں کمی، پانی کی قلت اور گزشتہ حکومت کی کھاد کی فراہمی میں بد انتظامی کی وجہ سے کھاد کا بحران ہے۔
مزید یہ کہ مارچ میں گندم کی امدادی قیمت کے دیر سے اعلان کی وجہ سے بھی کسانوں کی گندم کی کاشت میں 2 فیصد کمی کا رجحان بھی دیکھنے میں آیاجبکہ تیل کی قیمتوں میں اضافے اور موسمیاتی تبدیلی یعنی وقت سے پہلے گرمی کی شدت میں اضافہ بھی گندم کے طے شدہ ہدف کے حصول میں بڑی رکاوٹ رہے ہیں۔وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت ملک میں گندم کی پیداوار، موجودہ ذخائر اور صوبائی و قومی سطح پر کھپت کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا،جس میں بتایاگیا کہ گندم کی حکومتی سطح پر خریداری کے حوالے سے پنجاب 91.66 فیصد، سندھ 49.68 فیصد، بلوچستان 15.9 فیصد جبکہ پاسکو نے 100 فیصد ہدف حاصل کر لیا ہے۔
وزیرِ اعظم نے حکام کو خیبر پختونخوا حکومت کے ساتھ مل کر صوبائی کھپت کی نشاندہی کرنے اور ان کی مطلوبہ گندم کی فراہمی کو یقینی بنانے اور گندم کی سمگلنگ کو روکنے کی ہدایات بھی جاری کیں۔ اس کے علاوہ ملک میں گندم کی چوری اور کرپشن کے خاتمے کے لیے جامع لائحہ عمل مرتب کرنے اور گندم ذخیرہ کرنے کے لیے سائیلوز کی تعمیر کی حکمتِ عملی تیار کرکے جلد پیش کرنے کی بھی ہدایات جاری کیںاور کہا کہ گندم کی کاشت کے دنوں میں مجرمانہ غفلت، بد انتظامی اور لاپرواہی کی وجہ سے کھاد کا بحران پیدا کیا گیاجس کی بدولت کسانوں اور ملک کو نقصان پہنچا،سائیلوز کی تعمیر سے چوری اور کرپشن کا خاتمہ ہوگا۔
پاکستان ایک زرعی ملک ہے، غلط فیصلوں اور بر وقت حکمتِ عملی نہ ہونے کی وجہ سے ہم گندم کی ملکی ضروریات پوری کرنے کی بجائے گندم کی درآمد کرنے والا ملک بنا دیئے گئے،گندم کی سپورٹ پرائس کے دیر سے اعلان سے نہ صرف گندم کی کاشت میں کمی پیدا ہوئی بلکہ اس کا فائدہ براہ راست ذخیرہ اندوزوں کو پہنچانے کی کوشش کی گئی۔ وزیرِ اعظم نے پنجاب حکومت کو اپنا خریداری کا ہدف بڑھانے کی ہدایات جاری کیں اور فوڈسکیورٹی ڈویژن کو شارٹ فال کو پورا کرنے کے لیے ضرورت پڑنے پر بر وقت گندم درآمد کرنے کی بھی ہدایات دیتے ہوئے اِس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کو بہتر حکمتِ عملی سے گندم کی پیداوار میں خود کفیل ملک بنائیں گے۔ بلاشبہ ملک میں گندم کی پیداوار، موجودہ ذخائر اور صوبائی و قومی سطح پر کھپت کے حوالے سے متذکرہ اجلاس کے اعدادوشماراور وزیراعظم میاں محمد شہبازشریف کی ہدایات پر بروقت اور من وعن عمل سے ہم آنے والے دنوں میں گندم کے بحران سے محفوظ رہ سکتے ہیں لیکن یہ تبھی ممکن ہے جب تمام
متعلقہ ادارے اپنی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں اگر حسب معمول سبھی اپنی روش پر قائم رہے تو کیسے ممکن ہے کہ امسال گندم کا بحران پیدا نہ ہو ۔
موسمیاتی تبدیلی فصلوں پر بھی اثر انداز ہورہی ہے لیکن تیل کی فراہمی سے لیکر باقی دیگر معاملات میں ہم جگہ جگہ کوتاہی کے مرتکب نظر آتے ہیں کہیں ہم سب کچھ دیکھ کر آنکھیں موند لیتے ہیں تو کبھی منہ پھیر لیتے ہیں حالانکہ فوڈ سکیورٹی کے معاملے پر ایسی غفلت کی قطعی گنجائش نہیں۔ چند سال پہلے تک پوری دنیا ہمیں فوڈ باسکٹ کے طور پر جانتی تھی لیکن بدقسمتی سے آج ہم اجناس کی پیداوار کے معاملے میں دوسرے ملکوں پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں کیوں کہ ایک طرف حکمران اپنے سیاسی معاملات میں اُلجھے رہتے ہیں تو دوسری طرف متعلقہ ادارے اِس صورتحال کا فائدہ اٹھاکر ذخیرہ اندوزوں اور سمگلروں کو کھلی چھٹی دے دیتے ہیں۔
پچھلی حکومت کے دور میں میں ڈی اے پی کھاد کا بحران ملکی سطح پر سامنے آیا اور ہر کسان سراپا احتجاج ہوا ایک اطلاع کے مطابق پنجاب کے محکمہ زراعت نے ستمبر کے مہینے میں بروقت کھاد کی عدم فراہمی کا معاملہ اٹھایاتاہم اس کے باوجود بھی وفاقی حکومت ڈی اے پی اور یوریا کی فراہمی کو ممکن نہ بنا سکی حالانکہ زمین کو گندم کی بوائی کے لیے تیار کرتے ہوئے فی ایکڑ ڈی اے پی کے کم از کم ایک تھیلے کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ فصل کے بڑھنے کے دوران یوریا کے 3 تھیلوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ڈی اے پی کی قلت کی وجہ عالمی منڈی میں اِس کی قیمتوں میں اضافہ بھی بتائی گئی اور ایک اندازے کے مطابق ساٹھ فیصد ڈی اے پی درآمد کیا جاتا ہے،
پچھلے سال کے وسط میں عالمی منڈی میں ڈی اے پی اور یوریا کی قیمتوں میں اضافہ ہونا شروع ہوا اور وفاقی اداروں سے درخواست کی گئی کہ بروقت اس صورتحال سے نمٹا جائے تاہم دیگر ترجیحات کی وجہ سے اس معاملے کو بھی نظر انداز کردیا گیاجس کے بعد مافیاز نے خوب لوٹ مار مچائی اور ایک وقت ایسا بھی آیا جب کسانوں کو بلیک میں بھی ڈی اے پی دستیاب نہیں تھی دوسری طرف حکومت نے موقف اختیار کیا کہ سستی گیس کی فراہمی اور دیگر سہولیات فراہم کرنے کے باوجود مقامی کارخانے کھاد تیار کرکے افغانستان کے راستے دوسرے ملکوں کو سمگل کررہے ہیں،
یہاں سوال یہ اُٹھتا ہے کہ ریاستی ادارے اِس وقت کیا کررہے تھے جب کھاد تیار کرنے والے کارخانے حکومت سے سہولیات لیکر بھی مقامی کسانوں کو کھاد فراہم کرنے کی بجائے بیرون ملک سمگل اور گراں فروشی کے لیے ذخیرہ اندوزی کررہے تھے۔ بدقسمتی سے سمگلنگ تو ہماری رگوں میں سرائیت کرچکی ہے، چاہے آٹے کی ہو، چینی کی یا پھر کسی بھی چیز کی، ملکی طلب کو مدنظر رکھے بغیر ہی بہت بڑی مقدار پڑوسی ممالک میں سمگل کردی جاتی ہیں، خصوصاً افغانستان میں، کیوں کہ وہاں سے وسط ایشیائی ریاستوں کو سمگلنگ آسان ہوتی ہے۔ مقامی لوگ گندم ، چینی اور دیگر اجناس کی قلت پر سراپا احتجاج ہوتے ہیں، حکومت مہنگے داموں وہ اجناس درآمد کرتی ہے اور بعض اطلاعات کے مطابق یا تو انتہائی ناقص یا اپنی ہی اجناس دوبارہ مہنگے داموں اپنی حکومت کو بیچ دی جاتی ہیں۔ پچھلی حکومت کے دور میں گندم، چینی اور ایسے کتنے بحران آئے لیکن ذمہ داران اور ملوث افراد کے چہرے قوم نہ دیکھ سکی۔
ہم توقع رکھتے ہیں کہ امسال اجناس کے بحران پیدا ہوں گے اور نہ ہی مافیاز کو بحران پیدا کرنے کی جرأت ہوگی کیوں کہ وزیراعظم میاں محمد شہبازشریف ایسے مافیاز اور اُن کے بحرانوں سے نمٹنے کا بخوبی تجربہ رکھتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button