Editorial

نئے قائد ایوان کا انتخاب اورچیلنجز

حزب اختلاف کی تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں تین سال سات ماہ اور 22 روز وزیراعظم رہنے کے بعد عمران خان کے اقتدار کا سورج غروب ہوچکا ہے۔ ایوان زیریں کے 176ووٹوں سے وہ وزیراعظم پاکستان منتخب ہوئے اور قریباً پونے چار سال بعد حزب اختلاف نے 174ووٹوں کے ذریعے اُن کے اقتدار کو ختم کردیا ۔ ایوان زیریں میں تحریک عدم اعتماد پر رائے شماری سے قبل سپیکر اسد قیصر اور ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے استعفے دے دیئے اور پاکستان تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی بھی ایوان سے چلے گئے یوں حزب اختلاف کو تحریک عدم اعتماد کی کارروائی کے دوران کسی قسم کی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ چیئر کے طور پر سابق سپیکر قومی اسمبلی سردار ایازصادق نے فرائض انجام دیے اور ووٹنگ کا عمل مکمل کرانے کے بعد ایوان کا اجلاس آج تک کے لیے ملتوی کردیا۔ آج ایوان میں نئے قائد یعنی وزیراعظم پاکستان کا انتخاب ہوگا قائدِ ایوان کے انتخاب کے لیے مسلم لیگ نون کے صدر میاں شہباز شریف اور پاکستان تحریکِ انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرا دیے گئے یوں دونوں کے درمیان مقابلہ ہوگا لیکن اراکین اسمبلی کی تعداد سے بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ میاں محمد شہبازشریف کا پلڑا بھاری ہوگا اور وہ قائد ایوان منتخب ہوجائیں گے۔ قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی کے آج ہونے والے اجلاس کا وقت تبدیل کر دیا گیا ہے اور اجلاس آج بروز پیر دوپہر 2 بجے ہوگا یوں آج مسلم لیگ نون کے سربراہ جو حالیہ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف تھے قائد حزب اقتدار بن جائیں گے۔ یہی جمہوریت اور یہی پُرامن طریقہ منتقلی اقتدار ہے۔یقیناً تحریک عدم اعتماد کی کامیابی اور اِس کے نتیجے میں نئے وزیراعظم پاکستان کے انتخاب سے گزشتہ کئی ماہ سے جاری سیاسی ہلچل اور بے یقینی کا خاتمہ ہوجانا چاہیے۔ایوان زیریں میں ایک طرف پاکستان تحریک انصاف ہے جس نے قریباً پونے چار سال تک حکومت کی تو دوسری طرف کم و بیش تمام سیاسی پارٹیاں ہیں جنہیں پی ٹی آئی کی باقی آئینی مدت میں اقتدار سنبھالنے کا موقعہ مل رہا ہے ، اب واضح ہے کہ نئے وزیراعظم میاں محمد شہبازشریف اپنی اتحادی جماعتوں کے تعاون سے وہ تمام وعدے پورے کرنے کے لیے انتھک کوشش کریں گے جو وعدے وہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے پلیٹ فارم پر عوامِ پاکستان سے کرتے آئے ہیں، میاں محمد شہبازشریف وزیراعلیٰ پنجاب کے طور پر ایک بڑے صوبے کے انتظامی امور چلانے کا بخوبی تجربہ رکھتے ہیں جبکہ اُن کے سیاسی اتحاد میں شامل جماعتیں بالخصوص پاکستان پیپلز پارٹی بھی مرکز اور صوبوں میں حکومتوں کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں اِس لیے عوام کو توقع ہوگی کہ اِس کم عرصے کے دوران بھی میاں محمد
شہبازشریف عوام کو زیادہ سے زیادہ ڈیلیور کریں کیوں کہ جن مسائل نے پی ٹی آئی حکومت کو سنبھلنے کا موقعہ نہیں دیا یقیناً وہ مسائل اب بھی موجود ہیں جن میں سب سے بڑا مسئلہ مہنگائی اور بے روزگاری ہے۔ عمران خان کے دور میں ملک کو سیاسی اور معاشی چیلنجز کا سامنا رہا، پہلی بار برسراقتدار آنے کے بعد حکومتی معاملات کو سمجھنے اور سنبھالنے میں وقت لگا ابھی کمر سیدھی بھی نہ ہوپائی تھی کہ کرونا کی صورت میں عفریت آن پہنچی جس نے نئی نویلی حکومت کے پیراُکھاڑ دئیے، بڑی تعداد میں پاکستانی روزگار سے ہاتھ دھوبیٹھے تو دوسری طرف مصنوعی مہنگائی کرنے والوں اور مافیا نے دہانوں تک تجوریاں بھرلیں بدقسمتی سے تمام تر کوششوں اور اعلانات کے باوجود پی ٹی آئی حکومت مہنگائی کو قابو میں نہ لاسکی اگرچہ عمران خان بار بار یہ کہتے رہے کہ خطے میں سب سے کم مہنگائی پاکستان میں ہے لیکن مصنوعی مہنگائی اور ذخیرہ اندوزی کے آنکھوں دیکھے مناظر عوام کو اِس بیانیہ سے مطمئن نہ کرسکے۔ پی ٹی آئی حکومت کو آئی ایم ایف کے پروگرام میں جانا پڑا اور پھر اُن کی شرائط پر من و عن عمل کرتے ہوئے بجلی اور گیس ہی نہیں بلکہ دیگر مدات کی صورت میں عام پاکستانیوں کو دی جانے والی سبسڈی کا بتدریج خاتمہ کرکے بوجھ عوام پر منتقل کرنا پڑا جس کے نتیجے میں لوگوں پر اضافی بوجھ پڑا۔ مقامی سطح پر گراں فروشی اور مہنگائی کا بازار گرم تھا ہی لیکن درآمد کی جانیوالی اجناس اور اشیاء ضروریہ بھی طلب و رسد کے نام پر عام پاکستانی کی پہنچ سے دور ہوگئیں۔ اگرچہ پی ٹی آئی نے ہر شعبے میں ڈیلیور کرنے کی کوشش کی اور اصلاحات بھی لائے لیکن یہ ساری چیزیں اُس شور کی وجہ سے دب گئیں یا بہت پیچھے رہ گئیں جو بے قابو مہنگائی کی وجہ سے پورے ملک میں بپا تھا اور بھرپور کوششوں کے باوجود حکومت اِس پر قابو نہ پاسکی تھی۔ اِسی دوران سونے پر سہاگہ یہ ہوا کہ ڈالر کو کھلا چھوڑ دیاگیا جس کا نتیجہ آج ڈالر کی قیمت میں حیرت انگیز اضافے اور قومی کرنسی روپے کی قیمت میں بے حد گراوٹ کی وجہ سے ہونے والے معاشی نقصان کی صورت میں سب کے سامنے ہے یہ اور ایسی ہی ناکامیاں تھیں جنہوں نے نظریاتی اختلافات رکھنے کے باوجود حزب اختلاف کو ایک پلیٹ فارم مہیا کیا اور پھر حزب اختلاف ان کے خلاف کامیابی سے تحریک عدم اعتماد لے آئی اور اِس کے نتیجے میں آج نئے قائد ایوان کا انتخاب سب کے سامنے ہے۔ نئے قائد ایوان کے لیے جہاں خارجی معاملات چیلنجز کے طور پر سامنے ہوں گے وہیں فوری حل طلب معاملات میں سرفہرست عوام کو ریلیف فراہم کرنا ہوگا خصوصاً اُن مدات میں ریلیف کی ضرورت ہے جن پر آئی ایم ایف کی خصوصی نظر ہے یعنی بجلی، پٹرول اور گیس کے نرخ۔چونکہ میاں محمد شہبازشریف خود بھی انتظامی امور پر بخوبی گرفت رکھتے ہیں اور اُن کے اتحادی بھی سیاست کے منجھے ہوئے کھلاڑی ہیں اِس لیے عوام بالخصوص اِن تمام پارٹیوں کی قیادت کے ساتھ ساتھ کارکنوں کو بھی اپنی قیادت کی طرف سے ایسے بڑے اعلانات کی توقع ہوگی جن سے عوام کو معاشی لحاظ سے سکون کا سانس میسر ہو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button