تازہ ترینخبریںصحتصحت و سائنس

گرمی میں ہونے والی خارش سے کیسے بچا جائے؟

گرم موسم کے آتے ہی جہاں پسینہ آنا معمول بن جاتا ہے وہیں جلد پر خارش سمیت متعدد شکایتیں بھی سامنے آنے لگتی ہیں، یہ بیماریاں ہوا میں نمی کے  بڑھنے کے سبب ظاہر ہوتی ہیں، دوسری جانب ہر خارش کو خطر ناک قرار نہیں دیا جا سکتا جبکہ فنگس یا وائرس کے سبب ہونے والی خارش کی علامات ظاہر ہونے پر اِن بیماریوں کا علاج ممکن ہے۔

ماہرینِ  جِلدی امراض کے مطابق اگر خارش کے نتیجے میں جِلد پر سرخ نشانات نمو دار ہونے لگیں تو یہ قدرت کی جانب سے ایک پیشگی الارم ہے، اس مرحلے کے بعد جسم پر زخم بن کر فنگل یا وائرل انفیکشن مزید خطرناک صورتحال اختیار کر سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر خارش کے دوران جِلد پرتھپڑ، گول نشانات، آبلے، سفید نشانات کا ظاہر ہونا، جِلد کا خشک اور سفید ہو جانا، جلد پر خراشیں یا لکیروں کا اُبھرنا یا خارش کا دورانیہ معمول سے زیادہ بڑھ جائے یہ ایک خطرے کی گھنٹی ہے جس کے ظاہر ہونے کے فوراً بعد ڈاکٹر سے رجوع کرلینا چاہیے۔

فنگل انفیکشن کی اہم وجوہات کیا ہیں؟

ماہرین جِلدی امراض کے مطابق گرم اور مرطوب موسم میں فنگل اور وائرس انفیکشن عام بیماری ہے،  فنگل انفیکشن جلد کے چھپے ہوئے یعنی ایسے حصوں پر ہوتا ہے جن پر ہوا کم لگتی ہے اور یہ انفیکشن ان لوگوں میں زیادہ ہوتا ہے جو چست کپڑے یا سارا دن جوتے پہن کر رکھتے ہیں۔

اس سے بچاؤ کے لیے ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ جتنا ممکن ہو سکے نہائیں اور خود کو تازہ دم رکھیں، نہانے کے بعد جسمانی سطحی جِلد اور جوڑوں کے نیچے اینٹی فنگل پاؤڈر لگائیں اور رات سونے سے پہلے متاثرہ حصوں پر اینٹی فنگل کریم لگائیں۔

 جِلدی امراض کے ماہرین کے مطابق اِن بیماریوں سے بچنے کے لیے سب سے پہلے روزانہ کی بنیاد پر نہانا اور خود کو صاف رکھنا بے حد ضروری ہوتا ہے، پسینے کے سبب بند ہونے والے مسام اِن بیماریوں اور فنگل ایکنی کی سب سے بڑی وجہ بنتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق گرمیوں میں خود کو فنگس یا وائرس انفیکشن سے دور رکھنے کے لیے دھوپ سے بچاؤ بھی بے حد لازمی ہے، گھر سے نکلتے ہوئے جِلد پر کوئی لوشن یا کریم کا استعمال لازمی کریں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ عام طور پر گرمی کے موسم میں ہوا میں نمی کا تناسب بڑھ جاتا ہے، اس کے سبب جِلد کے مردہ خلیات اور چکنائی مساموں کو بند کردیتی ہے جس سے بلیک ہیڈز اور ایکنی کی افزائش بڑھ جاتی ہے جسے فنگل ایکنی کہا جاتا ہے۔

اس سے بچاؤ کے لیے بہت سارا پانی پئیں اور وٹامن اے، زنک اور فولک ایسڈ کا استعمال لازمی کریں۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button