Column

ریاست، سیاست اور سیاستدان

آصف علی درانی
اگر دیکھا جائے تو سیاست کے بہت سی کتابوں میں بہت سے معنی دئیے گئے ہیں۔ مختلف ممالک کے حوالے سے سیاست کی ایک تعریف ہوتی ہیں۔ لیکن جہاں تک میں ناچیز سمجھ پایا ہوں متعدد مطالعے اور کتابوں کو جب میں نے پڑھا تو مجھے ایک بات سمجھ میں آئی اصل سیاست وہ ہے جو کہ آپ صحیح معنوں میں بے لوث عوام کی خدمت کریں، اس میں سیاستدان کی کوئی لالچ وغیرہ شامل نہ ہو، اگر دیکھا جائے تو باہر ملکوں میں ہمیں صحیح معنوں میں سیاست نظر آتی ہے۔ کیونکہ وہ سیاست کو بطور سوشل ورک کرتے ہیں اور اگر آپ ان تمام سیاستدانوں کو دیکھیں تو وہ عوام کے سامنے جواب دہ بھی ہوتے ہیں، اگر کوئی غلطی ان سے ہوتی ہے یا حادثہ پیش آتا ہے تو وہ اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں، وہ بعض اوقات عہدے سے استعفیٰ بھی دے دیتے ہیں لیکن یہ تو ہم باہر ملکوں میں دیکھتے ہیں۔ اب اگر اپنے ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان کی سیاست کے بارے میں بات کریں تو یہاں معاملہ الٹ ہے۔ ایک طرف تو ہم اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں لیکن دوسری طرف اسی سیاست کو جو کہ سوشل ورک یا عبادت کے طور پر باہر دنیا میں کی جاتی ہے، پاکستان میں اس کو کاروبار کی حیثیت سے کیا جاتا ہے۔ جتنے بھی ہمارے ہاں پاکستان میں سیاستدان آتے ہیں یا ابھی تک آئے ہیں ان سب کا ماضی پاکستانی عوام کے سامنے ہے کہ وہ سیاست کو صرف کاروبار کی شکل میں استعمال کرتے ہیں۔ پیسوں سے ووٹ خریدتے ہیں اور کرسی پر آتے ہیں اور اتنی لوٹ مار کرتے ہیں کہ ہماری آئندہ آنے والی نسلوں کو مقروض کر دیتے ہیں۔ اس کی تازہ مثال عمران خان ہے، عمران اینڈ کمپنی نے ساڑھے تین سال میں اتنی لوٹ مار کی جتنی کسی سیاسی جماعت نے اپنے دور حکومت میں نہیں کی تھی۔ اس میں بڑی غلطی عوام کی بھی ہے، عمران کی سابقہ بیوی نے کتاب لکھی وہ حقائق پر مبنی تھی لیکن عوام و خاص کر عمران خان کے سپورٹرز نے کہا یہ سب جھوٹ ہے، الٹا انہوں نے مصنفہ کے خلاف پروپیگنڈا اور غلط زبانی شروع کی، اس کے بعد عون چودھری نے کچھ راز اور باتیں بتائیں، ابھی حال ہی میں اداکارہ حاجرہ کی کتاب آئی ہے اور خاور مانیکا نے ٹیلی وژن پر بہت کچھ عمران اور اپنی سابقہ بیوی کے بارے میں بتایا ہے لیکن ان سارے ثبوتوں کے باوجود بھی خان کے سپورٹرز وہی باتیں کرتے ہیں۔ ماضی کی طرح آج بھی وہ لوگ اپنے حریف سیاست دانوں کو گالیاں دیتے ہیں، ان کے خلاف میڈیا پر غلط قسم کے ٹرینڈ چلاتے ہیں، جو وہ شروع دن سے کرتے آرہے ہیں۔ پاکستان میں غریب کا جینا دوبھر ہوچکا ہے، سیاستدان اپنی عیاشیوں اور شہ خرچیوں کو پورا کرنے کے لیے آئی ایم ایف کے پاس جاتا ہے۔ آئی ایم ایف کی کڑی شرائط پوری کرتا ہے اور اس کا سارا ملبہ پھر اسی غریب عوام پر آتا ہے۔ آئے روز اخبار میں خودکشیوں کی خبریں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ غریب عوام ایک ایک نوالے کے لیے ترس رہے ہیں، یہ پاکستانی سیاست کا اصل روپ ہے، اگر کسی کے پاس خوب پیسہ ہوگا تو وہ سیاست میں آسکتا ہے ورنہ غریب آدمی کبھی سیاست کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ جس طرح میں نے پہلے کہا کہ یہاں سیاست کاروبار بن چکا ہے تو کاروباری آدمی کیا کرتا ہے ؟ وہ غریب کے منہ سے نوالہ چھیننے کی کوشش کرتا ہے نہ کہ اس کو دیتا ہے، اگر اسی سیاست کو کوئی عبادت یا سوشل ورک کے طور پر کرے گا تو خود آپ لوگ ہمارے صحابہ کرامؓ کے دور کو دیکھیں وہ خود بھوکے ہوتے تھے لیکن ان کی رعایا کھانا کھا کے سوتی تھی، رعایا آرام سے سوتی اور خلیفہ بھیس بدل کر گلی گلی گھومتا تھا تاکہ رعایا کی حالت معلوم کر سکے لیکن پاکستانی سیاستدان ان چیزوں کو نہیں دیکھتے، وہ پائوں پر پائوں رکھ کر عوام کے حق میں فیصلوں کی باتیں تو سناتے ہیں لیکن اصل میں ایک خاص طبقہ ہے وہ تمام تر فیصلے اس کے حق میں کرتے ہیں اور اس کا جتنا بھی بوجھ ہوتا ہے وہ غریب و عام آدمی پر آپڑتا ہے۔ پاکستانی سیاست ایک ایسا گندا کاروبار بن چکا ہے کہ جس میں آنے والا ہر سیاستدان دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش میں ہے، آج کل کی صورتحال کو دیکھیں تو سیاستدان انتقامی سیاست پر اتر آئے ہیں، کہ کسی بھی طریقے سے اپنے حریف کو بدنام کرو، اس کا پبلک امیج خراب کرو تاکہ عوام اس کے خلاف ہوجائیں اور میرے لیے جگہ بن جائے۔ جب سے پاکستان بنا ہے آج تک کوئی بھی جماعت ایسی نہیں کہ جس نے پانچ سال پورے کئے بلکہ بیچ میں وہ ہٹا دئیے جاتے ہیں۔ کبھی کرپشن کے نام پر ہٹا دئیے جاتا ہے تو کبھی دوسرے کیسز میں پھنسا کر ہٹا دیا جاتا ہے، تو یہ اصل میں انتقامی سیاست ہے، کبھی ایک پارٹی آ کے اپنے ساتھ اوروں کو ملا لیتی ہے تاکہ اپنی حریف پارٹی کو راستے سے ہٹا دے جب اس پارٹی کا مقصد پورا ہوجاتا ہے تو جب الیکشن آتے ہیں تو پھر وہی ایک ہونے والے جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف آگ اگل رہی ہوتی ہیں۔ مطلب پاکستانی سیاست ایسی غلیظ صورت اختیار کر چکی ہے کہ اس میں لوگ دوست یاروں اور خاندان والوں کو بھی نہیں بخشتے بلکہ اپنے مقصد کو پورا کرنے کے لیے ایک دوسرے کے خلاف لگے ہوتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button