Column

یقین ہے انتخابات 8فروری کو ہی ہوں گے؟

محمد ناصر شریف
8 فروری 2024کے انتخابات کے ا انعقاد کا ہمیں پورا یقین ہے اور اس بات کا بھی پورا یقین ہے کہ اس دن عوام اپنے حکمرانوں کو چن کر ان کے ہاتھوں میں ملک کی تقدیر سونپ دیں گے اور یہ یقین اسی طرح ہے جیسا کہ صدر عارف علوی اپنی تمام ذمے داریاں جماعت کی ہمدردی کے بغیر صرف اور صرف منصب صدارت کے تقاضوں کے مطابق ادا کر رہے ہیں۔ یہ یقین اسی طرح پختہ ہے کہ ہماری عدالتیں قیام پاکستان سے لیکر آج تک انصاف فراہم کر رہی ہیں اور اس ملک میں انصاف کا بول بالا ہے وہ تو ایک عالمی سازش کے تحت عدالتی انصاف کے معاملے میں ہمارا نمبر ایک سو بیس واں ہے۔ ہمیں اس بات کا بھی مکمل یقین ہے کہ ہمارے الیکشن کمیشن نے ہمیشہ صاف اور شفاف انتخابات کا انعقاد کیا۔ یہ یقین اسی طرح ہے کہ ہماری تمام سیاسی جماعتیں جو جمہوریت کی داعی ہیں اور دن رات جمہوریت کے لیے سرگرداں ہیں ان کے اندر جمہوریت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے ۔ ان تمام جماعتوں کے اندر تمام فیصلے بھی جمہور کی رائے کو مدنظر رکھ کر کیے جاتے ہیں، ان میں چیئرمین و دیگر عہدوں پر انتخاب بھی جمہوری انداز میں بامقابلہ ہوتا ہے، ہماری جماعتیں اور رہنما اتنے مقبول ہیں کہ انہیں اپنی پارٹی کے اندر بھی کوئی مدمقابل نہیں ملتا۔ اب کیا کیا جائے کہ جب سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان کہہ رہے ہوں کہ دو صوبے اس وقت دہشت گردی کی لپیٹ میں ہیں، جے یو آئی کارکنان شہید ہورہے ہیں، ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک اور لکی مروت میں پولیس ہے ہی نہیں، اس بدامنی کی صورتحال میں کیا انتخابات ہوسکتے ہیں؟ مولانا کہتے ہیں ہم انتخابات میں ہروقت جانے کو تیار ہیں ، انتخابات کے لئے ماحول فراہم کرنا چاہئے۔ اس طرح مولانا صاحب نے انتخابات کے انعقاد پر سوال اٹھاتے ہوئے بہت کچھ کہہ بھی دیا۔پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور ان کی جماعت کے رہنما مسلم لیگ ن کے مقابلے میں لیول پلیئنگ فیلڈ نہ ملنے کا رونا رو رہے ہیں اور یہ الزام عائد کررہے ہیں کہ مسلم لیگ ن کے اقتدار کے لیے راہ ہموار کی جارہی ہے ۔ اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کہتے ہیں کہ 8فروری کو انتخابات کرانے کے سواکوئی راستہ نہیں، تمام جماعتوں کو کوشش کرنی چاہئے الیکشن متنازع نہ ہوں ورنہ سلیکشن کے نتیجے میں بننے والی حکومت ڈیلیور نہیں کر پائے گی، الیکشن کمیشن نے ہر حال میں خود کو غیر جانبدار رکھنا ہے، پاکستان ہم سب کا ہے کسی ایک جماعت کا نہیں، سب کو لیول پلیئنگ فیلڈ دینا ہوگی ، اگر کسی کو زبردستی روکا جا رہا ہے تو وہ عدالتوں میں جائے۔
ایم کیو ایم پاکستان بھی سندھ میں حلقہ بندیوں سے متعلق تحفظات کو لیکر الیکشن کمیشن پہنچ گئی ہے۔ کنوینر متحدہ پاکستان ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی اور سینءر ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ انتخابات کا جانبدارانہ ہونا بہت واضح ہوتا جارہا ہے، اگر صاف شفاف انتخابات نہیں ہوئے تو بہت بڑا مسئلہ بن جائیگا، پیوند کاری کے ذریعے پیپلز پارٹی کو فائدہ پہنچا یا گیا۔ خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر سے بڑی امید ہے تاہم یقین نہیں آرہا۔ سکندر سلطان راجہ کے نیچے ٹیم کمپرومائزڈ ہے، نسل پرستانہ حلقہ بندیاں الیکشن کمیشن سندھ اور پیپلز پارٹی کے گٹھ جوڑ کا نتیجہ ہے، ہمارے اعتراضات اتنے واضح تھے کہ سب نے اتفاق کیا۔ نگران حکومتیں آگئی ہیں مگر سندھ میں ہم نگران حکومت کے منتظر ہیں۔ الیکشن کمیشن نے سندھ سے متعلق کسی اعتراض پر غور نہیں کیا، انتخابی طور پر سندھ کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ، صرف اعلان باقی ہے۔ سندھ میں تمام معاملات سندھ کے سابق وزرا دیکھ رہے ہیں ، وزیر اعلیٰ ہائوس سندھ پیپلز پارٹی کے مفادات کے نگران کا مرکز ہے۔ سندھ میں پیپلز پارٹی نے جو اعتراضات کئے ،انہیں الیکشن کمیشن نے درست کر لیا، باقی کسی جماعت کے اعتراض کو درست نہیں کیا گیا۔ سندھ میں نگراں وزیراعلیٰ سندھ کے بعد یکدم دو ماہ کے لیے ایک نئے نگراں وزیراطلاعات کی تقرری بھی
اسی تناظر میں دیکھی جارہی ہے ۔ فنون لطیفہ کے فروغ سے متعلق ادارے میں طویل عرصے سے براجمان ہونے کی وجہ سے ان کے تعلقات پیپلز پارٹی اور اس کی قیادت سے کافی مضبوط ہیں۔ اسی لیے ان کے حوالے سے یہ تاثر دیا جارہاہے، ویسے ہم بھی انور مقصود صاحب کی طرح شاہ کو وزیر بنانے کے حق میں نہیں کیونکہ اس طرح بڑی خوبصورتی سے شاہ کی تنزلی کردی گئی اور انہیں اب ایک وزیر بنادیاگیا اب وہ بہت سے نگرانوں کے ماتحت آگئے ۔پاکستان مسلم لیگ ن سندھ کے رہنمائوں نے بھی سندھ میں حالیہ حلقہ بندیوں کو مسترد کرتے ہوئے عدالت جانے کا اعلان کیا ہے۔ مسلم لیگ ن سندھ کے صدر بشیر میمن و دیگر رہنمائوں نے آگے بڑھ کر صوبائی الیکشن کمشنر پر عدم اعتماد کردیا ہے۔ جی ڈی اے نے صوبائی الیکشن کمشنر نے پر الزام ہی عائد کر دیا کہ انہوں نے حلقہ بندیاں پیپلز پارٹی کے ایما پر کیں ، اس طرح سندھ میں پیپلز پارٹی کے سوا تمام جماعتوں نے صوبائی الیکشن کمشنر پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے ، جی ڈی اے رہنما صفدر عباسی و دیگر نے کہا کہ سندھ میں یکطرفہ انتخابات ہونے جارہے ہیں نگراں صرف زرداری مافیا کو انتخابات جتوانے کے لئے بیٹھے ہیں ، بیوروکریٹ سیٹ اپ پرانا والا ہی چلایا جارہا ہے یہ بیوروکریٹ سیٹ اپ وہی ہے جو انگریز چھوڑ کر گئے اور ہم نے اسے بہت ہی سنبھال کر ملکی امور کا حصہ بنا رکھا ہے، جس نظام کے خلاف ہمارے آبائو اجداد نے قربانیاں دیں آج ہم اسی نظام پر فخر کرتے ہیں ۔ جتنا حصہ ملک کو اس حال میں پہنچانے میں سیاستدانوں کا رہا ہے اتنا ہی بیوروکریٹ بھی اس کارخیر میں شامل ہے۔موجودہ صورتحال میں الیکشن کمیشن اور خصوصا صوبائی الیکشن کمشنر متنازعہ ہوتے دکھائی دیتے ہیں ، الیکشن کمیشن اور صوبائی الیکشن کمشنر کو اپنی غیرجانبداری ثابت کرنے کے لئے سیاسی جماعتوں کے تحفظات کو دور کرنا ہوگا ورنہ الیکشن پر پھر سوالیہ نشان اٹھ جائے گا۔ امید ہے حلقہ بندیوں کے حوالے سے خدشات کا اظہار کرنے والی جماعتوں کو الیکشن کمیشن اور عدالتوں سے انصاف ملے گا اور ہم یہ بھی امید کرتے ہیں کہ اب سرکاری ملازمین کے ساتھ مل کر پری پول دھاندلی نہیں ہوگی۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن کے مسائل ہیں کہ وہ بھی کم ہونے کا نام نہیں لے رہے، گزشتہ دنوں الیکشن کمیشن نے حکومت نے فنڈز کا مطالبہ کیا جو کہ خیر سے پورا کر دیا گیا اب انکو سیکیورٹی اور شفاف پولنگ کے لیے فوج اور کوئیک رسپانس فورس کی ضرورت ہے جس کے لئے انہوں نے متعلقہ وزارت سے رجوع کرلیا ہے۔ ویسے یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ہمارے سیاستدان اور ایک مائنڈ سیٹ ہمیشہ پاک فوج کے کردار پر انگلیاں اٹھاتا رہتا لیکن حقیقت یہ ہے کہ الیکشن ہوں، سانحات ہوں ، امن و امان کے مسائل ہوں ، دہشت گردوں سے لڑنا ہوں تو ہمیں یہی فوج سہارا فراہم کرتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button