Editorial

آرمی چیف کی تعیناتی کیلئے بڑی پیش رفت

 

وزارت دفاع نے آرمی چیف اور جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی تقرری کے لیے جی ایچ کیو سے سینئر افسران کے ناموں کی سمری مانگ لی ہے اور ذرائع ابلاغ کے مطابق سینئر افسران کے نام جی ایچ کیو کی جانب سے وزارت دفاع کو بھیجے جائیں گے ۔ وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے تصدیق کی ہے کہ وزارت دفاع کو وزیراعظم کا خط موصول ہو گیا ہے، جس کے بارے میں جی ایچ کیو کو آگاہ کر دیا گیا ہے، ایک سے تین روزتک سارا مرحلہ تکمیل تک پہنچ جائے گا، سارا ہیجان ختم ہوجائے گا۔وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ میڈیا جو اس وقت چلا رہا ہے وہ درست نہیں ۔ آرمی چیف کی تقرری کے حوالے سے طریقہ کار کا آغاز ہوگیا ہے، سمری وزارت دفاع سے آئندہ ایک دو روز میں بھجوا دی جائے گی اور 25 نومبر تک آرمی چیف کی تقرری کا عمل مکمل ہوجائے گا، سمری میں جو 5 یا 6 نام ہوں گے تو ڈوزئیر بھی ان کے ساتھ ہی آئیں گے، آرمی چیف کی تقرری سے متعلق ہمیں کوئی پریشر نہیں ہے، اتحادیوں کے ساتھ تبادلہ خیال ہر سطح پر ہورہا ہے اور آرمی چیف کی تقرری کے عمل پر کوئی ڈیڈلاک نہیں۔ وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کی تفصیلی وضاحت کے بعد ایک طرف سیاسی حلقوں میں اِس معاملے پر برپا ہیجان ختم ہوجانا چاہیے دوسرا ذرائع ابلاغ کو بھی ملک و قوم کا مفاد اور اِن اہم تقرریوں کے معاملے پر بے حد احتیاط کرنی چاہیے، وطن عزیز کے اہم ادارے کے اہم مناصب پر تقرریاں سب سے اہم کام ہیں لہٰذا اہمیت کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ جنرل قمر جاوید چیلنجز سے بھرپور مدت ملازمت پوری کررہے ہیں اِن کی جگہ لینے والے سربراہ پاک فوج کو بلاشبہ اُنہی چیلنجز کاسامنا ہوگا جن کا جنرل قمرجاوید باجوہ کو اپنے دور میں رہا ہے، جنرل قمر جاوید باجوہ کے دور میں پاک فوج نے دہشت گردی کے خلاف دنیا کی سب سے بڑی اور خطرناک جنگ لڑی اور فخر کے ساتھ اِس جنگ میں فتح حاصل کی، چونکہ پاکستان دشمن بالخصوص بھارت اور افغانستان کی سرزمین پر موجود بعض عناصر ہمارے لیے اچھی سوچ نہیں رکھتے اِس لیے پاک فوج کو ہمیشہ اِن دونوںمحاذوں پر ڈٹ کر رہنا پڑتا ہے مگر یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ بھارت نے جتنی بار پاکستان پر حملہ کرنے کی کوشش کی، پاک فوج نے بھرپور طاقت کے ساتھ اِس حملے کو بھارت کی غلطی ثابت کیا، محاذ جو بھی بھارت نے منتخب کیا سامنے قوم کے بیٹے تھے جنہوں نے پہاڑوں، ریگستانوں، سمندروں اور فضائوں میں بھارتی عزائم کو خاک میں ملایا لہٰذا اب بھارت کے پاس واحد حربہ یہی ہے کہ وہ سرحد پار کرنے کی جسارت تو کرنہیں سکتا اِس لیے شرپسند عناصر کی بھرپور پشت پناہی پاکستان میں دہشت گردی کا بازار گرم کرے، مگر یہ جنگ بھی وہ ہار چکا ہے کیونکہ وطن عزیز اب دہشت گردی سے پاک ہوچکا ہے اور اب ہر پاکستانی بارود کی بُو کی بجائے ایک بار پھرتازہ ہوا محسوس کرتا ہے مگر اِس کامیابی کے پیچھے پاک فوج، سکیورٹی فورسز اور عوام کی قربانیوں بالخصوص عوام کی حوصلہ افزائی اور ثابت قدمی ہے، عوام نے دہشت گردی کی اِس جنگ میں پاک فوج کا ہمیشہ حوصلہ بڑھایا اور دہشت گردوں کے کسی بھی حملے کے بعد کمزور نہیں پڑے بلکہ زیادہ طاقت کے ساتھ دہشت گردوں کو للکارا ، جبھی وہ اپنے انجام کو پہنچے، لہٰذا اب بھی پاکستان دشمن قوتیں اِس محاذ پر گرم ہیں لیکن شکست کے سوا کچھ بھی ان کا مقدر نہیں ٹھہرے گا۔ پاک فوج میں نئی تقرریاں آئین و قانون کے مطابق ہونے جارہی ہیںمگر اِس اہم معاملے میں ہمارا رویہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے کیونکہ اِس لایعنی بحث کا نقصان تو ہوسکتا ہے اِس کا فائدہ نہیں ہوگااور ہی ہورہا ہے، بلاشبہ آئندہ چند روز میں نئے افسران اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں گے اور یہ بحث بھی بالآخر ختم ہوجائے گی، ہم سمجھتے ہیں کہ بلاضرورت بحث ہو یا کوئی کام، وہ ہمیشہ لاحاصل ہوتا ہے اور ہمیں حتی المقدوراِس سے گریز کرنا چاہیے مگر ہم ہر معاملے کو نجانے کیوں متنازع بنانے کے درپے رہتے ہیں اور بالآخر اِس نہج تک پہنچ جاتے ہیں کہ لوگ دن کو دن اور رات کو رات نہیں سمجھتے، کیونکہ کج بحثی کا سامان اب ہر ہاتھ اورہر دسترس میں ہے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے مختلف مواقعوں پر واضح کیا کہ وہ اپنی مدت پوری کرنے کے بعد ریٹائر ہوجائیں گے، مگر بحث اور دعوے کرنے والوں کی زبانیں پھر بھی ہلتی رہیں، اب جبکہ وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے بھی واضح کہہ دیا ہے کہ ذرائع ابلاغ کی اطلاعات حقائق کے مطابق نہیں ہیں ، پس ہمیں محسوس کرنا چاہیے کہ ہم اِس اہم حساس معاملے کو آئین و قانون کے مطابق طے پانے دیں اور اُن معاملات پر لب کشائی کریں جو اگرچہ دلچسپی کاساماں نہیں لیکن ملک و قوم کے حقیقی ایشوز ہیں، وطن عزیز کو درپیش داخلی و خارجی چیلنجز پر ہمیں بات کرنی چاہیے اورماہرین سے رہنمائی لینی چاہیے تاکہ ہمیں درست معلومات ملیں ، مہنگائی تاریخ ساز ہے، زرمبادلہ کے ذخائر ہیں، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات بالخصوص حالیہ سیلاب سے متاثرہ افراد اِس وقت کس حال میں ہیں اور ان کو دوبارہ کیسے آباد کرنا ہے، یہی وہ تمام ایشوز ہیں جن پر ہم بارہا بات کرکے حکمرانوں کو اِن معاملات پر متوجہ کرسکتے ہیں تاکہ وہ اِن اہم معاملات کو دیکھیں اور اِن بڑے مسائل کو حل کریں اس کے برعکس ہماری روش قطعی مناسب نہیں، ہم حقیقی مسائل کو چھوڑ کر اُن معاملات کو زیر بحث لاتے ہیں اور لابھی رہے ہیں جن کو زیر بحث لانا قطعی مناسب نہیں اور جن اہم شخصیات کا کام اِن معاملات کو آئین و قانون کے مطابق دیکھنا ہے اُن کو دیکھنے دیں، ہم اِس موقعے پر جنرل قمر جاوید باجوہ کی کامیابیوں اور نئے افسران کو درپیش متوقع چیلنجز پر ماہرین کے ساتھ بات بھی کرسکتے ہیں مگر کیا کریںایک سمت ہے اورسبھی اُس جانب دوڑے چلے جارہے ہیںحالانکہ ذمہ داری کا تقاضا اِس کی قطعی اجازت نہیں دیتا، شاید ہمیں کسی بھی معاملے پر کبھی اجازت کی ضرورت محسوس ہی نہیں ہوئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button