Editorial

معیشت اور سکیورٹی پر تین اہم اجلاس

 

قومی سلامتی کمیٹی، کور کمانڈرز کانفرنس اوروفاقی کابینہ کے ایک ہی دن میں ہونے والے تین اہم اجلاسوں میں معیشت اور سکیورٹی کی صورت حال کا جائزہ لیاگیا ہے۔ تحقیقاتی اداروں نے قومی سلامتی کمیٹی کو بریفنگ دی، آڈیو لیک کے معاملے پر اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی بنانے کی منظوری ، سائبر سکیورٹی کے لیے لیگل فریم ورک کی تیاری اور سرکاری کمیونی کیشنز کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے مکمل جائزہ لینے کا بھی فیصلہ ہوگیا۔ وزیراعظم شہبازشریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں تین لاکھ میٹرک ٹن یوریا کھاد درآمد کرنے کی منظوری دی گئی۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر صدارت کور کمانڈرز کانفرنس میں عزم کا اعادہ کیاگیا کہ دہشت گردی کو دوبارہ پنپنے نہیں دیں گے، آرمی چیف نے آپریشنل تیاریوں پر اظہار اطمینان کرتے ہوئے سکیورٹی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا اور کہا کہ تمام فارمیشن کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے چوکس رہیں۔ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں سائبر سکیورٹی کے لیے لیگل فریم ورک کی تیاری اور سرکاری خط و کتابت کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے مکمل جائزہ لینے کا فیصلہ کیاگیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ دور حاضر میں یہ اقدامات بہت پہلے کئے جانے چاہئیں تھے، جو اب کرنے کافیصلہ کیاگیا ہے۔ دنیا کے بڑے ممالک نے اِس سلسلے میں پہلے ہی محفوظ نظام تشکیل دیا ہوا ہے تاکہ کوئی بھی چیز غیر محفوظ نہ ہو، لیکن اس کے باوجود مخصوص مقاصد کے لیے سائبر سکیورٹی کو توڑنے کی کوشش بھی کی جاتی ہے اور دوسری طرف سے اُن کی کوشش کو ناکام بھی بنایا جاتا ہے اس لیے ہمیں بھی بہت پہلے سائبر سکیورٹی پر خصوصی توجہ دینی چاہیے تھی اور اگر کہیں کمی محسوس کی جارہی ہے تو اِس کو فوراً ہی دور کیا جانا چاہیے تاکہ مستقبل میں ایسی پریشان کن صورت حال پیدا نہ ہو مگر لازم ہے کہ دور جدید کے مطابق اپنا سائبر دفاع بھی مضبوط کیا جائے، جس رفتار سے سائنس ترقی کررہی ہے اور دنیا گلوبل ویلج بن چکی ہے، ہمیں تسلیم کیاجانا چاہیے کہ ہم اِس دوڑ میں کافی پیچھے ہیں، لیکن ہمیں خصوصی توجہ اور ترجیح دیتے ہوئے اِس دوڑ میں لازماً شامل ہونا چاہیے کہ ہم غار کے دور میں تو نہیں رہ رہے۔ آج ہر چیز سائبر ٹیکنالوجی کے ذریعے انجام دی جارہی ہے، اِس لیے سائبر کے معاملے پر ہمیں مزید آگے بڑھنے کی ضرورت ہے اور ایسا کیا جانا بے حد ضروری ہے تاکہ ہمارے ریاستی معاملات اور دستاویزات محفوظ رہیں اور کسی غیر متعلقہ فرد کی اُن تک رسائی ممکن نہ ہوسکے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہم ایٹمی طاقت ہیں، ہمارے ارض پاک کی خطے میں خاص اہمیت ہے اور پوری دنیا کی نظریں ہم پر مرکوز ہیں، اِس لیے ہمیں زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ وفاقی کابینہ نے آڈیو لیکس کے معاملے پر تحقیقات کے لیے اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی کی تشکیل کی منظوری دی ہے اور وزیرداخلہ رانا ثناء اللہ خان اس کمیٹی کے سربراہ ہوںگے، لہٰذا ہم سمجھتے ہیں کہ اِس اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی کو سکیورٹی نظام کو مزید موثر بنانے کے لیے خصوصی طور پر توجہ دینی چاہیے تاکہ آئندہ کوئی رخنہ اندازی نہ کرسکے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر صدارت جی ایچ کیو میں 251 ویں کور کمانڈرز کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں بیرونی اور داخلی سلامتی کی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ کانفرنس میں خاص طور پر سیلاب کی صورتحال اور ملک بھر میں آرمی فارمیشنز کی جانب سے جاری امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا۔ فورم نے سیلاب متاثرین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ان کی امداد اور بحالی کے لیے زیادہ سے زیادہ مدد فراہم کرنے کا عزم کیا۔ فورم نے سرحدوں کی صورتحال، داخلی سلامتی اور فوج کے دیگر پیشہ ورانہ امور پر خصوصی توجہ مرکوز کرتے ہوئے سلامتی کے ماحول کا ایک جامع جائزہ لیا اور فورم نے عزم کیا کہ دہشت گردی کی بحالی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔آرمی چیف نے فارمیشنز کی آپریشنل تیاریوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فارمیشن کو تمام سکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑنی چاہیے، تمام فارمیشنز کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت چوکس رہیں۔بلاشبہ پاک فوج حالیہ دنوں میں دیگر چیلنجز کے ساتھ ساتھ تاریخ کے بدترین سیلاب کے شکار ہم وطنوں کی جان بچانے سے ان کی ازسرنوبحالی اور انفراسٹرکچر کے کاموں میں مصروف ہے، متاثرین کے لیے عطیات بھی اکٹھے کیے جارہے ہیں اور انہیں ہر ممکن مدد بھی فراہم کی جارہی ہے جس پر پاک فوج کے جوان اور قیادت بے حد لائق تحسین ہے، جنہوں نے اِس مشکل وقت میں کسی کے رحم و کرم پر قوم کو نہیں چھوڑا اسی لیے ہم پہلے بھی کہتے آئے ہیں کہ ایسی فوج دنیا میں کسی کو میسر نہیں جو نہ صرف ملک کے چپے چپے کی حفاظت کرتی ہے بلکہ قدرتی آفات کی صورت میں بھی قوم کی مدد کے لیے سب سے پہلے پہنچتی ہے۔ حالیہ دنوں میں ملک کے اندر سکیورٹی فورسز پر حملوں کے بعض افسوس ناک واقعات رونما ہوئے ہیں، دو روز قبل ہی میرعلی سب ڈویژن میںسکیورٹی فورسز کے کانوائے پر خودکش حملے میں اکیس جوان زخمی ہوگئے، یہ حملہ اس وقت کیاگیا جب فوجی کانوائے بنوں سے میرانشاہ جارہاتھا۔ایسے ہی کئی واقعات میں جوانوں نے شہادت کے رُتبہ بھی حاصل کیا ہے مگر ہمیں یقین ہے کہ دہشت گرد جلد ازجلد اپنے انجام کو پہنچ جائیں گے، خواہ انہیں کسی کی بھی ملک دشمن کی مدد حاصل ہو، وہ دہشت گرد اِس پاک فوج سے شکست ہی کھائیں گے جس نے دہشت گردی کے خلاف دنیا کی سب سے بڑی اور طویل جنگ میں کامیابی حاصل کی ہے اورجو ہمہ وقت ملک و قوم کے دفاع کے لیے چوکنا رہتی ہے۔
بدھ کے روز تیسرا اہم اجلاس وفاقی کابینہ کا منعقد ہوا جس میں وفاقی کابینہ نے تین لاکھ میٹرک ٹن یوریا کھاد درآمد کرنے کا فیصلہ کیا اور ہم اس فیصلے کو بروقت اور احسن فیصلہ سمجھتے ہیں کیونکہ سیلاب کی وجہ سے ملک کا وسیع زرعی رقبہ تباہ ہوچکا ہے اور اِس کو قابل کاشت بنانے کے لیے یقیناً وقت درکار ہوگا اور تب تک ہمیں اجناس کے معاملے پر پریشان کن صورت حال کا سامنا بھی کرنا پڑے گا اِس لیے بہت ضروری تھا کہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے محفوظ زرعی رقبے کے کاشتکاروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے تاکہ انہیں کاشتکاری میں کوئی مسئلہ نہ ہو اور ہر ممکن حد تک ہم زیادہ سے زیادہ اجناس اِس رقبے سے حاصل کرسکیں۔ جہاں تک یوریا کھاد کی درآمد کا معاملہ ہے تو پچھلے سال پورے ملک میں یوریا کھاد کی قلت کا سامنا کرنا پڑا، حالانکہ تب حکومت کا خیال تھا کہ ملک میں کھاد اور خاص طور پر یوریا کھاد کی کمی ہو ہی نہیں سکتی کیونکہ سال 2021 میں یوریا کی ریکارڈ پیداوار ہوئی ہے اور معمول میں بھی روزانہ پچیس ہزار ٹن یوریا پیدا ہورہی تھی لیکن اس کے باوجود ملک بھر میں یوریا کھاد کی قلت پیدا ہوئی، کھاد کمپنیوںنے موقف اختیار کیا کہ کھاد بیرون ملک سمگل ہونے کی وجہ سے مقامی منڈیوں میں قلت پیدا ہوئی اور کسان بھی کھاد کے حصول کے لیے پریشان ہوئے ۔ یوریا کھاد کے بحران کی وجہ سے نہ صرف کسانوں کو بلیک میں کھاد خریدنا پڑی بلکہ کاشت اور پیداوار بھی متاثر ہوئی جبکہ حکومت مسلسل کہتی رہی کہ کھاد تیار کرنے والوں کو سستی گیس فراہم کرنے کے باوجود بحران اسی لیے پیدا ہوا کہ کھاد یا تو ذخیرہ کرلی گئی یا پھر بیرون ملک سمگل کردی گئی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یوریا برآمد کرنے کا فیصلہ بروقت ہے، کیونکہ آنے والے دنوں میں موسم سرد ہوگا اور گیس بحران کابھی خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے ایسے میں یوریا تیارکرنے والے کارخانوں کو شاید گیس فراہم کرنے بھی ممکن نہ رہے اور ایک بار پھر یوریا کی قلت پیدا ہو، اس لیے یوریا درآمد کرنا اور بروقت درآمدکرنااحسن فیصلہ ہے، مگر ارباب اختیار کو ماضی کی صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے یقینی بنانا ہوگا کہ کھاد کی ذخیرہ اندوزی نہ ہو اور نہ ہی کوئی مصنوعی قلت پیدا کرے بلکہ کسانوں کو اُن کی ضرورت کے مطابق آسانی سے سرکاری نرخوں پر کھاد دستیاب ہو ، کیونکہ موجودہ مہنگائی کے اثرات سے ہمارے کسان بھی محفوظ نہیں رہے ، انہیں کھاد، زرعی ادویات اورڈیزل سمیت دیگر مدات میں بھاری اخراجات کرنا پڑتے ہیں لیکن اِس کے بدلے میں زیادہ تر اور چھوٹے کسان یہی شکوہ کناں ملتے ہیں کہ انہیں کاشتکاری کے باوجود نفع نہیں مل رہا کیونکہ اتنی شدید محنت کے باوجود بھی دن بہ دن پیداواری لاگت میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے اوردوسری طرف مختلف وجوہ کی بنا پر پیدا وار میں کمی ہورہی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button