Editorial

معاشی بحران میں سعودی عرب سے خوش خبری

 

آفات کے دور میں سعودی عرب سے اچھی خبر آئی ہے۔ سعودی عرب نے تین ارب ڈالر ڈپازٹ کی میعاد ایک سال بڑھا نے کا اعلان کیا ہے اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اس خوشخبری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ تین ارب ڈالر ڈپازٹ کی میعاد رواں سال پانچ دسمبر کوپوری ہو رہی ہے اور اس وقت سعودی ڈپازٹس ملکی ذخائر کا حصہ ہیں۔اس ضمن میں بتانا ضروری ہے کہ رواں سال مارچ میں پاکستان اور سعودی فنڈ برائے ترقی کے درمیان قرضےمؤخر کرنے کے لیے معاہدے طے پائے تھے۔معاہدے کے تحت مئی 2020 تا دسمبر 2021 تک کا قرضہ 6 سال میں ادا ہو گا۔ رقم 2022 سے آئندہ 6سال میں سالانہ 2اقساط میں اداکی جائےگی۔ پاکستان مجموعی طور پر 3ارب 68 کروڑ ڈالر کی رقم قسطوں میں ادا کرے گا۔پھر پاکستان کو آئی ایم ایف کی قسط سعودی عرب کی فنڈنگ سےمشروط کی گئی تھی اور ایم ایف سے قسط کے لیے پاکستان کو سعودیہ سے 4 ارب ڈالر فنڈنگ یقینی بنانا تھی۔اِس کے ساتھ ہی آئی ایم ایف کی طرف سے بھی ہوا کا خوش گوار جھونکا آیا ہے اور آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ پاکستان کے سیلاب متاثرین کے لیے ریلیف اور تعمیر نو کی کوششیں کی جائیں گی، پاکستان میں موجود آئی ایم ایف کی نمائندہ ایسٹر پیریز روئز نےکہا کہ ہم موجودہ پروگرام کے تحت حکام کی امداد اور بحالی کی کوششوں اور خاص طور پر پائیدار پالیسیوں اور میکرو اکنامک استحکام کو یقینی بناتے ہوئے سیلاب سے متاثرہ افراد کی امداد کے لیے ان کی جاری کوششوں کی حمایت کے لیے عالمی برادری کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اس ضمن میں معاہدے طے پاگیا ہے۔ اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ ہم عالمی برادری کے دیگر لوگوں کیساتھ مل کر موجودہ پروگرام کے تحت پاکستان کیساتھ تعاون کریں گے، سیلاب زدگان کی ریلیف اور بحالی کی کوششوں کے ساتھ ساتھ مستحکم پالیسیوں اور معاشی استحکام کو یقینی بنانے میں مدد دیں گے۔سعودی عرب کی طرف سے تین ارب ڈالر ڈپازٹ کی میعاد بڑھانے اور آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستانی سیلاب متاثرین کے لیے ریلیف اور تعمیر نو کی کوششوں کا عزم بلاشبہ دونوں ہی اچھی خبریں ہیں اور یقیناً ان خوشخبریوں کے ہماری معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے اورشدید معاشی بحران میں حکومت کو دونوں جانب سے قدرے ریلیف ملے گا۔بدقسمتی سے پاکستان کو تاریخ کے بدترین سیلاب اور تباہی کا اِس وقت سامنا کرنا پڑ رہا ہے جب ملک معاشی بحران سے دوچار ہے اور ڈیفالٹ کے خطرے سے بچنے کے لیے حکومت کی معاشی ٹیم ہر ممکن کوشش کررہی تھی تو دوسری طرف آئی ایم ایف کی مشکل ترین شرائط مانتے ہوئے معیشت کے حوالے سے مشکل فیصلے کرنے پر مجبور تھی، یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس کے سیاسی لحاظ سے منفی اثرات مرتب ہوں گے لیکن ملک کو ڈیفالٹ سے
بچانے کے لیے اورکوئی راہ نہیں تھی تاہم برادری اسلامی ملک نے اِس صورت حال میں ہمیشہ کی طرح پہل کی اور اسی کے بعد آئی ایم ایف نے بھی فنڈز جاری کیے۔ معاشی حالات کی وجہ سے ابھی حکومت کی سانس بحال بھی نہ ہوئی تھی کہ سیلاب کی صورت میں ایک نئی آزمائش سامنے آگئی جس نے بلاشبہ حکومت کی کمر توڑ دی ہے اور ہم عالمی سطح پر مدد لینے پر مجبور ہیں۔ ماضی قریب میں آئی ایم ایف نے فنڈز کے اجرا کو سعودی عرب سے مدد کے ساتھ مشروط کیا تھا پس سعودی عرب نے نہ صرف خود پاکستان کی مدد کی اور اس کے نتیجے میں آئی ایم ایف سے فنڈز کا اجرا ممکن ہوا بلکہ ایک بار پھر سعودی عرب نے ڈپازٹ کی میعاد بڑھاکر ہماری مدد کی ہے کہ سیلاب کی وجہ سے ہم جتنے بڑے نقصان سے دوچار ہوئے ہیں ہمیں دوبارہ سنبھالا دینے کے لیے یہ فیصلہ انتہائی ضروری اور احسن ہے۔ سیلاب زدگان کی مدد اور بحالی کے لیے برادر اسلامی ممالک میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے خصوصی تعاون پر پاکستانی قوم اُن کی بے حد مشکور ہے خصوصاً خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی ہدایات پرپاکستان کے سیلاب زدگان کی مدد کے لیے قومی عطیات مہم کا آغاز کیا گیا ہے جس کی نگرانی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کر رہے ہیں۔یہ بالکل اسی طرز کی مہم ہے جیسی ان دنوں ہمارے ملک میں بھی جاری ہیں تاکہ سیلاب متاثرہ افراد کی دوبارہ آبادکاری کی جاسکے اور ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ سعودی عرب نے ہماری بڑھ چڑھ کر مدد کی اور سعودی عرب میں عام شہریوں سے متاثرہ پاکستانیوں کی بحالی کے لیے عطیات اکٹھے کیے بلکہ جب بھی ہم قدرتی آفات کا شکار ہوئے، سعودی عرب نے سب سے پہلے قدم بڑھاکر ہمارا ساتھ دیا ۔ سیلاب ہو یا قیامت برپا کرنے والے زلزلے، کسی بھی موقعے پر ہمیں سعودی عرب سے مدد مانگنے کی نوبت پیش نہیں آئی بلکہ سعودی عرب نے ہماری مشکلات کا ادراک کیا اور سب سے پہلے مدد کو پہنچا۔ یہی نہیں کسی بھی عالمی مسئلے پر سعودی عرب نے پاکستان کو تنہا نہیں چھوڑا اور ہر خارجی معاملے پر پاکستان کی حمایت کی ہے یہی وجہ ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے عوام ایک عقیدے اور روادار اسلامی شریعت کے گہرے رشتے سے جڑے ہوئے ہیں۔ دونوںملکوں کی قیادت ہی نہیں بلکہ دونوں ملکوں کے عوام بھی زمانہ قدیم سے قریبی دوستانہ تعلقات نبھاتے آئے ہیں اس لیے ہم سمجھتے ہیں کہ حالیہ چند سالوں میں سعودی عرب نے جس طرح پاکستان کا ہر مشکل وقت میں ساتھ دیا ہے اس سے نہ صرف دونوں حکومتوں کے درمیان تعلقات مزیدمضبوط ہوں گے بلکہ دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان بھائی چارے کا رشتہ بھی مزید مضبوط ہوگا۔ آج سعودی عوام پاکستانی سیلاب متاثرہ افراد کی مدد کے لیے پیش پیش ہے اور اس سے پتا چلتا ہے کہ دونوں برادر ملکوں کے عوام ایک دوسرے کے لیے کس قدر محبت اور بے لوث پیار کا جذبہ رکھتے ہیں اس لیے پاکستانی حکومت اور یہاں کے عوام اس لازوال جذبے اور قربانی کو کبھی فراموش نہیں کریںگے ۔دوسری طرف آئی ایم ایف نے بھی پاکستان کے سیلاب متاثرین کے لیے ریلیف اور تعمیر نو کی کوششوں کا اعلان کیا ہے ، لہٰذا توقع کی جانی چاہیے کہ آئی ایم ایف اِس صورت حال کا ادراک ضرور کرے گا جن سے پاکستان ان دنوں دوچار اور مدد کا منتظر ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button