22 فروری 2019
تازہ ترین

ترجمان پاک فوج مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ میں ہونے والے حملے پر پاکستان کے ردعمل سے متعلق نیوز بریفنگ دے رہے ہیں۔ راولپنڈی میں پریس بریفنگ دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے  کہ مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے واقعے کے فوری بعد بھارت نے پاکستان پر الزامات کی بارش کردی لیکن پاکستان کی جانب سے پلوامہ واقعے کا جواب فوراً نہیں دیا گیا بلکہ ہم نے اس بار جواب دینے کے لیے تھوڑا سا وقت لیا جس کا مقصد بھارت کی جانب سے لگائے گئے بے بنیاد الزامات کی اپنے طور پر تحقیق کرنا تھا اور وہ کرنے کے بعد وزیراعظم پاکستان نے بھارت کو جواب دیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ 1947 میں پاکستان آزاد ہوا اور اس حقیقت کو بھارت آج تک تسلیم نہیں کرسکا، جب بھی پاکستان میں کوئی اہم وقت ہو یا ملک میں استحکام ہو تو بھارت یا پھر مقبوضہ کشمیر میں کوئی نہ کوئی واقعہ ہوجاتا ہے، بھارت نے کشمیر پر حملہ بھی کیا اور 70 سالوں سے کشمیر پر قابض ہے اور 1965 میں ایل او سی پرکشیدگی ہوئی، بھارت اسے بارڈر پر لے آیا، بھارت سے 65 کی جنگ کے ہمارے ملک پراثرات ہوئے۔ میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ 71 سے 1984 تک مشرقی سرحد پر کوئی واقعہ نہیں ہوا، 1971 میں پاکستان کو دولخت کیا گیا، 1998 میں ہم نے جوہری طاقت اپنے دفاع کے لیے حاصل کی، ممبئی حملے کے وقت بھی بھارت میں عام انتخابات ہونے تھے، 2008 میں ہم دہشت گردی کے خلاف بھرپور جنگ لڑرہے تھے اور بھرپور کامیابیاں مل رہی تھیں کہ بھارت اپنی فوجیں سرحد پر لے آیا، 2 جنوری 2016 میں پٹھان کوٹ کا واقعہ ہوا۔ ترجمان پاک فوج نے کہا کہ پلوامہ واقعے کے وقت بھی پاکستان میں 8 اہم ایونٹس ہونا تھے، سعودی ولی عہد کا پاکستان کا دورہ تھا، پاکستان میں انویسٹمنٹ سے متعلق کانفرنس ہورہی تھی، افغانستان میں امن عمل کا سلسلہ چل رہا تھا، یورپی یونین کی تنظیم نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کرنا تھی، عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن کا کیس چل رہا تھا، کرتارپو ربارڈر پر دونوں ملکوں میں ملاقات ہونا تھی، ایف اے ٹی ایف کی رپورٹ پر ڈسکشن ہونی تھی اور ایک اہم فیصلہ ہونا تھا ، پاکستان سپر لیگ بھی ہورہی ہے جس کے کچھ میچز پاکستان میں بھی ہونا ہیں اور سب سے اہم یہ کہ بھارت میں بھی آج کل الیکشن کا سیزن چل رہا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ بھارت میں متعدد افراد اس حملے کی پیشگوئی کررہے تھے اور یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ پاکستان کی طرف کوئی ایل او سی  کراس کرے، لائن آف کنٹرول پربھارتی فورسزکا لیئرڈیفنس ہے، واقعہ اس علاقے میں ہوا جہاں مقامی آبادی سے زیادہ فوج بیٹھی ہے اور جس نے حملہ کیا وہ مقبوضہ کشمیر کا مقامی نوجوان تھا۔ میجرجنرل آصف غفور نے کہا کہ کیا پاکستان ڈپلومیٹک آئسولیشن میں ہے، اگر ایسا ہوتا تو کیسے سربراہان مملکت یہاں کے دورے کررہے ہیں، پاکستان بدل رہا ہے، ایک نیا مائنڈ سیٹ آرہا ہے، آنے والی نسلوں کو بہتر مستقبل دینے کی سوچ پاکستان میں پنپ رہی ہے، ہم خطے میں امن کی کوشش کررہے ہیں، معاشی استحکام کی کوشش کررہے ہیں، ہمارے وزیراعظم نے بھارت کو وہ پیش کش کی جو پہلے نہیں کی گئیں۔ ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ سائبر وار چل رہی ہے جسے ہائبرڈ وار بھی کہا جاتا ہے اور نوجوان نسل کو ہدف بنایا جارہا ہے ، بھارت میں یہ بات چیت ہورہی ہے کہ پاکستان جنگی تیاریاں کررہا ہے لیکن جنگ اور بدلے کی دھمکی بھارت کی طرف سے آئی ہے، ہم جنگ کی تیاریاں نہیں کررہے، تاہم دفاع کرنا ہمارا حق ہے اور اس بار فوجی ردعمل مختلف قسم کا ہوگا، لائن آف کنٹرول پر ہم نے 5 کراسنگ پوائنٹ بھی قائم کیے ہیں، وزیراعظم  نے موجودہ حالات کے پیش نظر ہمیں اختیار دیا، اپنی مسلح افواج پر مکمل اعتماد کریں، اگر جنگ مسلط کی گئی تو پہلا ردعمل اپنا دفاع ہوگا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان کی سالمیت کی بات ہو تو 20 کروڑ عوام اس کےمحافظ ہیں، بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے اور جمہوری ملکوں میں جنگ نہیں ہوتی، مسئلہ کشمیر خطے کے امن  کیلیے سب سے بڑا خطرہ ہے آئیے اسے حل کریں اور آپ ہمیں حیران نہیں کرسکتے ہم آپ کو حیران کریں گے۔ میجر جنرل آصف غفور  نے کہا کہ جنرل  ر  اسد درانی کی ملٹری کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی پر انکوائری ہورہی تھی،  فوجی ضابطہ کی خلاف ورزی پر اسد درانی کی پنشن اور دیگر مراعات روک دی گئی جب کہ دو سینیر افسران کے خلاف قانونی کارروائی کی جارہی ہے، دونوں افسران  کا کورٹ مارشل کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں
ویڈیوز

عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟