05 جولائی 2020
تازہ ترین

 ملک میں کورونا کے مریض تیزی سے صحتیاب ہورہے ہیں اور گزشتہ 24 گھنٹوں میں ریکارڈ 11 ہزار 469 مریض اس وبا سے شفا یاب ہوگئے۔ایک جانب کورونا کے وار جاری ہیں تو دوسری جانب مریضوں کی صحتیابی بھی تیزی سے جاری ہے اور اب اس وبا سے صحتیاب افراد کی تعداد فعال مریضوں سے زیادہ ہوگئی ہے۔نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر سے 3 ہزار 387 نئے کیسز رپورٹ ہوئے جب کہ 11 ہزار 469 مریض  صحت یاب ہوگئے۔ اس طرح شفایاب کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 25 ہزار 95 ہوگئی ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ایک روز میں کورونا سے 68 افراد جان کی بازی ہار گئے جس کے بعد جاں بحق ہونے والوں کی مجموعی تعداد 4 ہزار 619 ہوگئی ہے۔گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کے 22 ہزار 50 ٹیسٹ کئے گئے اور 3 ہزار 387 نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔ اس طرح مجموعی مریضوں کی تعداد 2 لاکھ 25 ہزار 283 ہوگئی ہے جبکہ اب تک مجموعی طور پر 13 لاکھ 72 ہزار 825 ٹیسٹ کئے جاچکے ہیں۔سب سے زیادہ مصدقہ مریض صوبہ سندھ میں ہیں جہاں ان کی تعداد 90 ہزار 721 ہے، پنجاب میں 80 ہزار 297 ، خیبرپختونخوا میں27 ہزار 506، بلوچستان 10 ہزار 717، اسلام آباد میں 13 ہزار 292، آزاد کشمیر میں ایک ہزار 214 اور گلگت میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک ہزار 536 ہوگئی ہے۔ہم اپنے قارئین کو یہ بات بتاتے چلیں کہ دی یونیورسٹی آف لاہور نے پاکستان کی پہلی تھرڈ جنریشن کوویڈ 19پی سی آر کٹ تیارکرلی ہے۔ اس کٹ کی مدد سے کرونا وائرس کی درست تشخیص کی جاسکے گی۔ تھرڈ جنریشن کوویڈ 19پی سی آر کٹ رواں ماہ کے آخر تک مارکیٹ میں دستیاب ہوگی۔ چیئرمین بورڈ آف گورنرز دی یونیورسٹی آف لاہور اویس رؤف کا تھرڈ جنریشن کوویڈ 19پی سی آر کٹ کی تیاری پر کہنا ہے کہ دی یونیورسٹی آف لاہور کی تیار کی گئی کٹ سے 3جینز ٹارگٹ ہوں گی جبکہ اس سے پہلے موجود کٹس میں 2جینز ٹارگٹ استعمال کیاجاتا تھا۔ اس کے متعلق دیگر لیبارٹریز سے بھی فیڈ بیک لیا جائے گا۔ یہ پاکستان کی پہلی تھرڈ جنریشن کوویڈ 19پی سی آر کٹ ہے جو بین الاقوامی معیار پرپورا اترے گی۔ دی یونیورسٹی آف لاہورکی اپنی بھی پی سی آر لیب ہے جبکہ دیگر لیب کے ساتھ اس کٹ پر ٹرائل کیے جارہے ہیں، جو اسی مہینے میں مکمل ہوجائیں گے۔دی یونیورسٹی آف لاہور کرونا وائرس سے صحت مند ہونے والے افراد کا پلازما لینے کی بجائے صرف اینٹی باڈیز کو الگ کرے گی اس سے نقصانات نہ ہونے کے برابر ہوں گے۔ مریض کے اندر ایک سرنج کے برابر اینٹی باڈیز داخل کیے جائیں گے جس سے اس کی ریکوری کا بہت زیادہ امکان ہے۔ علاوہ ازیں دی یونیورسٹی آف لاہور کرونا وائرس کی تشخیص کے لئے مکمل پیکیج بھی فراہم کررہی ہے۔ جس میں وائرس کی سمپلنگ کا طریقہ کار، وائرس کا آر این اے نکالنا اور اس کی تشخیص شامل ہے۔ اگر عوام ان احتیاطی تدابیر پر عمل پیرا ہوتی ہے تو امید ہے کہ جولائی کے آخر تک ہم اس نامرادبیماری سے جان چھڑا سکتے ہیں۔ اس کیلئے آپ کو درج ذیل احتیاطی تدابیر اپنانی ہوں گی۔ کورونا وائرس اور احتیاطی تدابیر: کورونا وائرس کے خلاف یہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے سے اس وبا کے خلاف جنگ جیتنا آسان ہوسکتا ہے۔ صبح کا کچھ وقت دھوپ میں گزارنا چاہیے، کمروں کو بند کرکے نہ بیٹھیں بلکہ دروازہ کھڑکیاں کھول دیں اور ہلکی دھوپ کو کمروں میں آنے دیں۔ بند کمروں میں اے سی چلاکر بیٹھنے کے بجائے پنکھے کی ہوا میں بیٹھیں۔سورج کی شعاعوں میں موجود یو وی شعاعیں وائرس کی بیرونی ساخت پر ابھرے ہوئے ہوئے پروٹین کو متاثر کرتی ہیں اور وائرس کو کمزور کردیتی ہیں۔ درجہ حرارت یا گرمی کے زیادہ ہونے سے وائرس پر کوئی اثر نہیں ہوتا لیکن یو وی شعاعوں کے زیادہ پڑنے سے وائرس کمزور ہوجاتا ہے۔ پانی گرم کرکے تھرماس میں رکھ لیں اور ہر ایک گھنٹے بعد آدھا کپ نیم گرم پانی نوش کریں۔ وائرس سب سے پہلے گلے میں انفیکشن کرتا ہے اوروہاں سے پھیپھڑوں تک پہنچ جاتا ہے، گرم پانی کے استعمال سے وائرس گلے سے معدے میں چلا جاتا ہے، جہاں وائرس ناکارہ ہوجاتا ہے۔

مزید پڑھیں
ویڈیوز

عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟