طلوع سحر

طلوع سحر
محمد مبشر انوار
قارئین کرام! موضوع سے یہ گمان مت ہو کہ راقم آج بھی ملکی سیاسی صورتحال پر رنجیدہ ہے یا وطن عزیز کے حالات پر افسردہ ہے، فضائوں میں چھائی تاریکیوں کے عقب میں کہیں مجھے سپیدہ سحر کے آثار دکھائی دے رہے ہیں اور اس مناسبت سے میں نے اپنی تحریر کا عنوان منتخب کیا ہے۔ بدقسمتی سے ملکی حالات کا رونا کیا روئوں کہ وہ سرزمین جسے خالق کائنات نے ہر نعمت سے نواز رکھا ہے لیکن اس کے باوجود اس کے حالات مسلسل تنزلی کا شکار ہیں، اس کی معیشت ہے کہ سنبھلنے کا نام نہیں لے رہی، مالی سال کا تخمینہ لگانے کے لئے ہونے والی مشق میں، سوائے اعداد و شمار کے گورکھ دھندے کے کچھ دکھائی نہیں دیتا ہے۔ قرضوں کا وہ بوجھ اس ملک پر لاد دیا گیا ہے گہ الامان الحفیظ، اس کے باوجود، ارباب اختیار کی خوش گمانیاں ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی اور ہنوز ان کی آنکھیں چارسو ہریالی کا نظارہ کر رہی ہیں، دعوے ایسے ہیں کہ سامنے نظر آنے والے حقائق بھی ان کو نظر نہیں آتے اور اتنی ابتری میں بھی معاشی بہتری کا ڈھنڈورا، ڈھٹائی کے ساتھ پیٹتے نظر آتے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ اگلے مالی سال کا تخمینہ لگانے کے لئے، اخراجات کے لئے، عالمی مالیاتی ادارے سے قرض لے کر بجٹ بنایا جائیگا، اسی پر بس نہیں بلکہ شنید یہ ہے کہ عالمی مالیاتی ادارہ بجٹ بنانے میں تعاون کے نام پر، پورا بجٹ بنا کر دے گاتا کہ اپنے قرضوں کی وصولی کے لئے عوام کا خون نچوڑا جا سکے، ان کی نچڑی ہڈیوں سے رہا سہا گودا بھی نکال لیا جائے تا کہ عالمی مالیاتی ادارے کے قرض کی واپسی ہو سکے۔ اس ضمن میں شنید ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے کی جانب سے گیارہ انتہائی سخت شرائط عائد کی گئی ہیں، اور عوام پر 430ارب روپے کے نئے ٹیکس لگانے کی تجویز بھی دی گئی ہے، عالمی صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے انتباہ بھی کیا گیا ہے کہ آئندہ سال بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں استحکام دکھائی نہیں دیتا بلکہ اس کے مزید مہنگا ہونے کا امکان ہے، جس کے باعث نہ صرف عالمی شرح نمو میں کمی ہو گی بلکہ اس کمی کے باعث مہنگائی میں اضافہ بھی متوقع ہے۔ جبکہ اس ساری صورتحال میں صنعتی پہیہ بھی مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے اور ان مشکلات کے باعث، ممکنہ طور پر روزگار کے مسائل بھی درپیش ہوں گے، جس سے صارفین کی قوت خرید مزید متاثر ہو سکتی ہے۔ اس پس منظر میں ایف بی آر نے اگلے مالی سال کے لئے ٹیکس ہدف 15267ارب رکھنے کی تجویز دی ہے لیکن یہ ہدف ان مسائل کے ساتھ کیسے پورا کیا جائیگا، اس کے متعلق سوال اپنی جگہ ہے کہ جب ملک میں پیداوار ہی نہیں کہ پیداواری لاگت اس قدر بڑھ چکی ہے کہ سرمایہ کار یہاں سے سرمایہ کاری سمیٹ کر دوسرے ممالک کا رخ کر رہا ہے کہ اس کا سرمایہ محفوظ بھی ہوسکے اور اس پر منافع بھی کما سکے، کئی ایک بین الاقوامی کمپنیاں ، پاکستان سے اپنا کاروبار سمیٹ کر جا چکی ہیں اور کئی ایک اس عمل میں مصروف ہیں۔ دوسری طرف آئی ایم ایف، انتہائی ہلکے سروں میں اشرافیہ کی لوٹ مار پر تنبیہ کرتا ہے، مشورے دیتا ہے لیکن اس کی آنکھوں کے سامنے اشرافیہ پاکستانی وسائل سے کھلواڑ بھی کرتی ہے، لوٹ مار بھی کرتی ہے، آئی ایم ایف کے مشوروں کو درخور اعتنا بھی نہیں سمجھتی لیکن ان تمام تر خلاف ورزیوں کے باوجود آئی ایم ایف، اسی اشرافیہ سے نہ صرف گفتگو کرتی ہے، بلکہ ان کو مزید قرضے بھی دیتی ہے البتہ پاکستانی عوام کے کندھوں پر ان تمام قرضوں کا بوجھ لاد دیا جاتا ہے، کہ قرض کی یہ رقم بظاہر پاکستانی عوام کی بہتری کے لئے لی جاتی ہے لیکن جاتی اشرافیہ کی تجوریوں میں ہے۔
دوسری طرف عوام کا یہ حال ہے کہ نہ ان کے پاس روزگار ہے اور نہ ہی ایسی کوئی صنعت ہے کہ جس میں وہ اپنی ہنر مندی آزما سکیں بلکہ پاکستان کو ایک بتدریج ایک صارف منڈی میں تبدیل کیا جارہا ہے کہ جہاں مقامی صنعت کی کوئی پراڈکٹ ہی میسر نہ ہو اور تمام تر زرمبادلہ درآمدی اشیاء پر صرف ہو۔ ماضی میں پاکستانی صنعت، عالمی منڈی میں اپنا ایک مقام رکھتی تھی اور دنیا بھر میں پاکستانی مصنوعات برآمد کی جاتی تھی لیکن صد افسوس کہ اشرافیہ کے اللوں تللوں نے اس کی مقامی صنعت کو نگل لیا ہے، ٹیکسٹائل کی صنعت بھی آخری سانسوں پر چلتی نظر آتی ہے کہ پاکستان جن ممالک کو ٹیکسٹائل برآمد کرتا ہے، ان کی جانب سے پاکستان کو خصوصی سٹیٹس دیا گیا ہے ، جس کے متعلق شنید یہی ہے کہ پاکستان ان معاہدوں کی بھی خلاف ورزی کر رہا ہے اور یورپی یونین کا وفد اس حوالے سے بہت حد تک غیر مطمئن رہا ہے۔ نجانے وہ اپنی کیا رپورٹ مرتب کرتے ہیں اور یورپی یونین کو کیا تجویز کرتے ہیں، اس کا کیا نتیجہ نکلتا ہے یا حکومت پاکستان ان کو مطمئن یا رام کرنے میں کامیاب ہوتی ہے یا نہیں، واللہ اعلم لیکن ایک حقیقت ہے کہ اگر مطمئن یا قائل کرنے میں ناکامی ہوئی، تو یہ صنعت بھی کھلی عالمی منڈی میں قیمتوں کا سامنا نہیں کر پائے گی اور خدانخواستہ یقینی طور پر منڈی سے باہر ہو جائیگی۔ دوسری طرف عوام کی صورتحال کس قدر کسمپرسی کا شکار ہے، اس کا اندازہ آئے روز ہونے والے خودکشی کے واقعات سے لگایا جا سکتا ہے کہ حکومت کوئی ایسا شعبہ چھوڑنا نہیں چاہتی کہ جہاں سے
وہ عوام کا خون نچوڑ سکے۔ آج کل بالخصوص ٹریفک کا شعبہ پر مشق ستم جاری ہے اور بیک جنبش قلم ایسے ایسے قوانین لاگو کئے جارہے ہیں کہ جن سے متعلق، پاکستانی عوام کو پہلے کبھی آگاہ ہی نہیں کیا گیا، پیدل چلنے والوں کے لئے قوانین اور ان پر جرمانوں کے حوالے سے دیکھا کہ اب زیبرا کراسنگ سے ہٹ کر سڑک پار کرنے والوں پر بھی جرمانہ لگایا جارہا ہے۔ گو کہ مہذب معاشروں میں اس کی باقاعدہ تربیت دی جاتی ہے اور عوام کو اس حوالے سے آگاہی فراہم کی جاتی ہے، ان کو نظم و ضبط اور قوانین کا پابند بنایا جاتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ حکمران خود بھی اس کا عملی نمونہ پیش کرتے ہیں، اعلیٰ ترین عہدیدار بھی کسی ’’ استثنیٰ‘‘ کا حقدار نہیں ٹھہرتا اور کسی بھی قانونی خلاف ورزی پر خود کو قانون کے سامنے سرنڈر کر کے، قانون کی بالادستی کا عملی اظہار کرتا ہے۔ پاکستان میں اشرافیہ کا رویہ اس کے بالکل برعکس ہے، ملک میں دو قانون رائج ہیں، عوام اور اشرافیہ کا مختلف قانون ہے، پسندیدہ اور نا پسندیدہ کے لئے مختلف قانون ہے، جس کا عملی اظہار آج کل ایک کوکین کوئین کی گرفتاری پر دیکھنے میں آرہا ہے کہ کس طرح قانون نافذ کرنے والے اس کوکین کوئین کے آگے پیچھے پورے پروٹوکول کے ساتھ دکھائی دیتے ہیں، ایسی ہی تصاویر ماضی کی ماڈل گرل، ڈالر سمگلر ایان علی کی بھی دکھائی دیا کرتی تھی جبکہ اس کو گرفتار کرنے والا کسٹم انسپکٹر اعجاز، جس کو نشان عبرت بنا دیا گیا کہ اس نے اپنے فرائض منصبی ادا کرنے کی جرات کیونکر کی؟ ایسی ایک نہیں بہت سی مثالیں اس ملک میں موجود ہیں خواہ ماڈل ایان علی ہو یا کوکین کوئین ہو، ان کی اسیری کی جھلک سے یہ اندازہ لگانا قطعا مشکل نہیں کہ یہ ملزمان بہرطور ’’ پسندیدہ‘‘ ہیں جبکہ نا پسندیدہ ملزمان کے لئے، قانون جو حق دیتا ہے، ہم انہیں وہ دینے کے لئے بھی تیار نہیں، وہ خواہ ملک کا سابق وزیر اعظم ہی کیوں نہ ہو؟ اس کی مثال بھی ہمیں تاریخ اور حالیہ دنوں میں مل رہی ہے کہ ماضی میں ذوالفقار علی بھٹو ایک ’’ ناپسندیدہ‘‘ ملزم تھے، ان کو بھی قوانین میں موجود حقوق بھی نہیں دئیے گئے اور آج سابق وزیر اعظم عمران خان اس ’’ ناپسندیدگی‘‘ کا شکار ہو کر، اسیری میں اپنی ایک آنکھ ضائع کروا چکے ہیں مگر موجودہ حکمرانوں کی طرح ’’ پسندیدہ‘‘ بننے کو تیار نہیں۔ بہرکیف بات ہو رہی تھی عوام کی ہڈیوں سے گودا نچوڑنے کی، مشرق وسطیٰ کی جنگ میں پاکستان گو براہ راست شریک نہیں اور نہ ہی پاکستان کو تیل کی ترسیل میں کسی مشکل کا سامنا ہے کہ وزیر اطلاعات کہہ چکے ہیں کہ ہمارے پاس تیل کی کمی کا کوئی مسئلہ نہیں لیکن اس کے باوجود، اس جنگ کے دوران، پاکستانیوں کو تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کا سامنا کرنا پڑا ہے اور حکومت پہلے ہی، عوام کی جیبوں پر ڈاکہ مار چکی ہے جو آئندہ بجٹ میں مزید مارنے کی تیاری ہے کہ پٹرولیم مصنوعات میں لیوی کی مد میں 1727ارب روپے وصول کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
قارئین معذرت کہ آج کا عنوان پاکستان ڈاکٹرز گروپ ریاض کی نئی شائع شدہ کتاب کا نام ہے، جس کی تقریب رونمائی آج سفارت خانہ پاکستان میں ہوئی۔ اس کتاب میں پاکستان ڈاکٹرز گروپ ریاض کی کاوشوں کو دستاویزی شکل دی گئی ہے،1987ء سے قائم ہونے والی اس تنظیم نے کیسے مرحوم ڈاکٹر ریاض جواد خواجہ سی اپنے سفر کا آغاز کیا، کیسے مستحق تارکین وطن کی مدد کی، کن مراحل سے گزرے، سفارت خانہ پاکستان نے کیسے سرپرستی کی اور آج پاکستان ڈاکٹرز گروپ کس مقام پر ہے اور کیا کیا کارہائے نمایاں سر انجام دے چکا ہے۔ مرحوم ڈاکٹر ریاض خواجہ اور ڈاکٹر اسد رومی کو حکومت پاکستان تمغہ امتیاز سے نواز چکی ہے جبکہ کیسے گروپ کے دیگر ارکان، ذاتی اور اجتماعی حیثیت میں خدمت خلق کر رہے ہیں، اس کتاب ’’ طلوع سحر‘‘ پر اگلے کالم میں لکھوں گا، ان شاء اللہ۔







