CM RizwanColumn

پنکی کو پہنایا سسٹم نے عبایا 

پنکی کو پہنایا سسٹم نے عبایا

تحریر : سی ایم رضوان

عالمی شہرت یافتہ جس کوکین کوئین انمول عرف پنکی کی مبینہ طور پر ابتدا میں یہ آڈیو سامنے آئی تھی کہ اس کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ اب گزشتہ روز اس نے سٹی کورٹ کراچی میں حال دہائی دیتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ اسے بیس روز قبل لاہور سے پکڑ کر لایا گیا۔ اس پر تشدد کیا گیا اور بنی گالا کے ایک شخص پر الزام لگانے کے لئے دبا ڈالا گیا۔ جج کے سامنے شور شرابہ کرتے ہوئے پنکی نے کہا کہ مجھ پر بوری بھر بھر کر منشیات ڈالی گئی اور کہا جا رہا ہے کہ سب کچھ قبول کرے ورنہ اس کی فیملی کو اٹھا لیا جائے گا۔ تاہم عدالت نے ملزمہ کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ آپ آرام سے بیٹھ جائیں اور پانی پئیں۔ یہ سٹی کورٹ ہے۔ یہاں آپ کو کوئی ہراساں نہیں کرے گا، عدالت آپ کا اور آپ کے وکیل کا مکمل موقف سنے گی۔ عدالت نے ملزمہ کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔ اس سے قبل ملزمہ انمول عرف پنکی کو عبایا میں چہرہ ڈھانپ کر سخت سکیورٹی میں عدالت لایا گیا اور ملزمہ نے عدالت کو اہم باتیں بتائیں۔ ڈیوٹی مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں پولیس نے بھی اپنا موقف بیان کیا۔ ملیر کورٹ میں ایک دوسرے کیس میں پیشی کے دوران بھی پنکی کے رونے دھونے اور اس کے چہرے پر ایک پولیس اہلکار کی جانب سے زبردستی چادر ڈالنے کے مناظر دیکھنے کو ملے۔ جس کو وہ بار بار ہٹا دیتی تھی اور پولیس والا بار بار اس کا منہ ڈھانپنے کی کوشش کرتا تھا تاہم تفتیشی افسر نے کہا کہ پنکی کے آٹھ سو گاہکوں کے نمبرز اور اس کی نشاندہی پر بھاری مقدار میں منشیات برآمد ہوئی ہیں اور ملزمہ یونیورسٹیوں میں منشیات سپلائی کر کے قوم کے مستقبل سے کھیل رہی تھی۔ سچل پولیس کی مزید ریمانڈ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ملیر کورٹ نے پنکی کو جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔ ادھر سندھ اسمبلی کا ایوان جو کہ اکثر و بیشتر سیاسی جملے بازیوں، طنز و مزاح اور تیکھے لفظی حملوں کا مرکز بنا رہتا ہے۔ آج کل اس روایت میں پنکی نیٹ ورک کے نت نئے انکشافات کے باعث مزید تیز ہو گئی ہے۔ اس اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر کی جانب سے سندھ کے حکمرانوں پر پنکی نیٹ ورک کے حوالے سے کڑی تنقید، طعنے بازی اور اس کے جواب میں صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کے جوابی وار نے ایوان کے ماحول کو کافی گرما دیا اور تشویش کے ساتھ مزاح بھی جھلکیاں دکھاتا رہا۔ ایم کیو ایم سے اپوزیشن لیڈر نے سندھ حکومت کی کارکردگی، مبینہ بدعنوانی، انتظامی امور پر سخت تنقید کرتے ہوئے پنکی نیٹ ورک کی اصطلاح استعمال کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سندھ کے اصل فیصلے اور محکموں کو چلانے کے پیچھے کوئی قانونی کابینہ نہیں بلکہ بیک ڈور سے چلنے والا ایک مخصوص ’’ پنکی نیٹ ورک‘‘ ہے، جو صوبے کے وسائل پر قابض ہے۔ حکمران عوام کو ریلیف دینے میں تو ناکام ہیں لیکن ’’ نیٹ ورک‘‘ کے ذریعے من پسند افسران کی تعیناتیوں اور فنڈز کی بندر بانٹ میں بے حد چست ہیں۔ ان الزامات کے جواب میں پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے بھی اپنے مخصوص جارحانہ انداز میں زبردست جوابی وار کیے۔ بہر حال پنکی نیٹ ورک کو ملنے والی حالیہ شہرت نے پیپلز پارٹی قیادت کو دفاع پر مجبور کر دیا ہے۔ یہ نیٹ ورک اس وقت سندھ، پنجاب اور وفاقی سکیورٹی اداروں اور بعض سیاسی شخصیات اور ایلیٹ کلاس کے لئے واقعی ایک دردِ سر اور چیلنج بن چکا ہی۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی مبینہ آڈیوز اور تفتیش سے یہ بھی اشارہ ملتا ہے کہ اس نیٹ ورک کو مبینہ طور پر قانون نافذ کرنے والے کچھ عناصر کی سرپرستی، چشم پوشی حاصل رہی ہے، سکیورٹی اداروں کے لئے سب سے بڑا چیلنج اس نیٹ ورک کے چلنے کا انداز تھا۔ اس حوالے سے سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ پنکی کا شناختی کارڈ بلاک ہونے کے باوجود وہ بے نامی بینک اکائونٹس اور دوسروں کے نام پر جاری کردہ سمز کے ذریعے کروڑوں روپے کا روزانہ کا کاروبار چلا رہی تھی۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے پنکی اور اس کے مبینہ ساتھیوں کے مبینہ بیانات اور وائس نوٹس میں ملزمہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چیلنج کرتی سنائی دی کہ اس کی گرفتاری یا موت کے بعد بھی اس کا نیٹ ورک بند نہیں ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ اب سندھ حکومت نے اسے ’’ عبرت کا نشان‘‘ بنانے کا اعلان کیا ہے، جبکہ پنجاب پولیس بھی لاہور میں اس کے خلاف درج پرانے مقدمات کھول کر اس کی کسٹڈی لینے کی تیاری کر رہی ہے۔ یوں یہ نیٹ ورک اب محض روایتی کیس

نہیں، بلکہ وفاق اور صوبوں ( سندھ و پنجاب) کے لئے ایک ایسا آرگنائزڈ کرائم سنڈیکیٹ بن چکا ہے جس نے بے نامی اکانٹس اور بااثر حلقوں میں منشیات کے پھیلائو پر سنگین سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔ چونکہ اس نیٹ ورک کے تانے بانے غیر ملکی ( افریقی) اسمگلرز اور بین الاقوامی منشیات کے گروہوں سے بھی ملتے ہیں، اس لئے یہ معاملہ محض مقامی نہیں رہے گا۔ اگر عالمی اداروں جیسے اینٹی نارکوٹکس فورسز یا بین الاقوامی مانیٹرنگ اداروں کی نظر اس پر پڑی، تو وفاق پر دبائو مزید بڑھے گا۔ کل کلاں اگر یہ ثابت ہو گیا کہ پوش علاقوں کے بڑے تعلیمی اداروں میں منشیات کی سپلائی اس نیٹ ورک کے ذریعے انتہائی گہرائی تک پہنچ چکی ہے، تو عوامی رائے اور میڈیا کا دبائو اس حد تک بڑھے گا کہ اداروں کے لئے معاملے کو دبانا ناممکن ہو جائے گا۔ تاہم اگر پاکستان میں ماضی کے اس نوعیت کے بڑے کرائم اسکینڈلز اور ان کے انجام کو دیکھا جائے تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ وقت کے ساتھ اس معاملے سے بھی جان چھڑا لی جائے گی اور روایتی ’’ مٹی پائو‘‘ پالیسی کام دکھائے گی۔ اگر اس نیٹ ورک کے تانے بانے واقعی بہت بااثر شخصیات تک جاتے ہوئے دکھائی دیئے، تو ممکن ہے کہ تفتیش کا رخ موڑ دیا جائے۔ مرکزی ملزمہ تک ہی کارروائی کو محدود رکھ کر بڑے ناموں کو پسِ پردہ رکھا جا سکتا ہے تاکہ ’’ سسٹم‘‘ کو دھچکا نہ لگے۔ شاید اسی لئے سسٹم نے پنکی کو عبایا پہنا دیا ہے۔ ہمارے ہاں اکثر ہائی پروفائل کیسز میں میڈیا پر تو بہت شور مچتا ہے، لیکن عدالتوں میں کمزور چالان اور ٹھوس شواہد کی کمی کی وجہ سے ملزمان بچ نکلتے ہیں یا معاملہ برسوں لٹکا رہتا ہے۔ یہ بھی عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ پاکستان کا سیاسی منظر نامہ بہت تیزی سے بدل جاتا ہے۔ جیسے ہی کوئی نیا سیاسی بحران یا بڑا واقعہ رونما ہو گا، میڈیا اور عوام کی توجہ پنکی نیٹ ورک سے ہٹ جائے گی اور اس معاملے کو خاموشی سے نمٹانے یا پسِ پشت ڈالنے کا موقع مل جائے گا۔ پنکی نیٹ ورک کے حوالے سے بھی موجودہ اشارے یہ بتاتے ہیں کہ شروع میں یہ معاملہ سکیورٹی اداروں کے لئے گلے کا پھندا ہی رہے گا کیونکہ سندھ اور پنجاب کی حکومتیں اس وقت شدید دبا میں ہیں اور خود کو متحرک دکھانے کے لئے سخت کارروائی پر مجبور ہیں۔

تاہم، بالآخر گلو خلاصی کا امکان زیادہ نظر آتا ہے، بشرطیکہ تفتیش کو ایک خاص حد سے آگے بڑھنے سے روک دیا جائے جہاں بڑے مگرمچھوں پر ہاتھ ڈالنا ناگزیر ہو جائے۔ جہاں تک یہ سوال ہے کہ کیا ملک میں پنکی نیٹ ورک جیسے دیگر گروہ بھی کام کر رہے ہیں۔ اس بات کے واضح ثبوت ریکارڈ پر ہیں کہ یہ کوئی اکیلا یا الگ تھلگ نیٹ ورک نہیں۔ یہ نیٹ ورک بالکل پنکی نیٹ ورک کی طرح کام کرتے ہیں۔ ان کا ہدف بڑے شہروں کے ڈی ایچ اے، بحریہ ٹائون اور گلبرگ جیسے پوش علاقے ہوتے ہیں۔ یہ ہائی کلاس پارٹیز، کلبز اور تعلیمی اداروں کو ٹارگٹ کرتے ہیں۔ ان کے کارندے عام طور پر ایلیٹ کلاس کے پڑھے لکھے لڑکے لڑکیاں یا ماڈلز ہوتے ہیں تاکہ کسی کو شک نہ ہو۔ اینٹی نارکوٹکس فورس نے اسلام آباد اور لاہور کے نامور نجی تعلیمی اداروں سے ماضی میں کئی ایسے طلبہ اور گروہ گرفتار کیے گئے جن کے قبضے سے کروڑوں روپے کی کوکین اور آئس برآمد ہوئی ہے۔ ان گروہوں کے انٹرنیشنل افریقین اور افغان کنکشنز بھی سامنے آ چکے ہیں۔ پنکی کیس کی تفتیش میں بھی کم از کم یہ بات تو سامنے آ چکی ہے کہ اس کے تار لاہور میں موجود افریقی باشندوں سے جڑتے تھے۔ افغانستان سے خام مال ( افیون؍ میتھ) تفتان یا کے پی کے کے راستے داخل ہوتا ہے، جبکہ نائجیرین اور دیگر افریقی گروہ بین الاقوامی فلائٹس یا اسمگلنگ کے ذریعے کوکین پاکستان لاتے ہیں۔ اس کا کھلا ثبوت یہ ہے کہ کراچی اور لاہور کے ایئر پورٹس پر آئے روز غیر ملکی شہریوں خصوصاً افریقی ممالک سے تعلق رکھنے والے مرد و خواتین کی گرفتاریاں ہوتی رہتی ہیں، جن کے پیٹ سے یا سامان کے خفیہ خانوں سے ہیروئن اور کوکین کے کیپسول برآمد ہوتے ہیں، یہ پکڑ دھکڑ اس امر کا تو ناقابلِ تردید ثبوت ہیں کہ اس نوعیت کی منشیات پاکستان میں آتی ہیں مگر ان پکڑے جانے والے افراد یا منشیات کا بعد ازاں کیا بنتا ہے یہ کسی کو نہ بتایا جاتا ہے اور نہ ہی کوئی خبر اس حوالے سے سامنے آتی ہے۔ آج کے ڈیجیٹل اور ’’ ڈارک ویب‘‘ نیٹ ورکس دور کے منشیات فروش بھی اب گلی محلوں میں نہیں کھڑے ہوتے۔ پنکی کی طرح، یہ پورا نیٹ ورک ورچوئل ہو چکا ہے۔ واٹس ایپ کے خفیہ گروپس، ٹیلی گرام، اور ڈارک ویب کا استعمال۔ ادائیگیاں کرپٹو کرنسی یا بے نامی ایزی پیسہ، جیز کیش اکائونٹس کے ذریعے ہوتی ہیں۔ منشیات کی ڈیلیوری بائیکیا، رائیڈر سروسز یا آن لائن ہوم ڈیلیوری بوائز کے ذریعے کی جاتی ہے۔ جنہیں خود بھی نہیں معلوم ہوتا کہ وہ کیا سپلائی کر رہے ہیں۔ ایف آئی اے کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سالانہ اربوں روپے کا منشیات کا پیسہ ہنڈی، حوالہ اور بے نامی اکائونٹس کے ذریعے روٹیٹ ہوتا ہے۔ ماضی میں سینیٹ اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں میں بھی انکشافات ہو چکے ہیں کہ منشیات کے بڑے مگر مچھوں کو بعض بااثر افراد کی پشت پناہی حاصل ہوتی ہے۔ اے این ایف نے بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے سرحدی علاقوں میں درجنوں ایسی خفیہ لیبارٹریز سیل کی ہیں جہاں جدید منشیات تیار کی جا رہی تھیں۔ پاکستان میں ایسے نیٹ ورکس کی تعداد سینکڑوں میں ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ کوکین اور آئس کی قیمت لاکھوں روپے فی کلو گرام میں ہوتی ہے۔ ایک چھوٹا سا نیٹ ورک بھی چند مہینوں میں کروڑ پتی بن جاتا ہے۔ یہی لالچ نئے گروہ پیدا کرتا رہتا ہے۔ بدقسمتی سے بڑے شہروں کی جدید لائف اسٹائل اور پارٹیز کلچر میں ان منشیات کی مانگ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ شواہد بتاتے ہیں کہ پاکستان کے ہر بڑے شہر میں اس وقت کم و بیش 5 سے 10بڑے ’’ ایلیٹ کارٹلز‘‘ اور سیکڑوں چھوٹے ڈسٹری بیوٹرز کام کر رہے ہیں، جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لئے ایک مستقل اور بڑھتا ہوا کمائی کا ذریعہ اور چیلنج دونوں موجود ہیں۔ اس کیس کی پس منظر میں تفتیش اور سندھ حکومت کے ردعمل کو مزید گہرائی سے سمجھا اور دیکھا جائے تو امید کی جا سکتی ہے کہ پنکی نیٹ ورک جیسے تمام نیٹ ورک نہ صرف بی نقاب بلکہ سزا یافتہ ہو جائیں گے لیکن امید نام کا پرندہ جتنا پاکستان میں جھوٹا ثابت ہوا ہے دنیا میں کہیں نہیں ہوا۔ ناامیدی کی وجہ یہ ہے کہ سٹی کورٹ کراچی نے بھی پنکی کو جیل بھیجنے کا حکم جاری کیا ہے۔

سی ایم رضوان

جواب دیں

Back to top button