ضعیف العمری اور اولاد کی بے حسی

ضعیف العمری اور اولاد کی بے حسی
تحریر رانا اعجاز حسین چوہان
بچے کی پیدائش سے لے کر اس کی تعلیم و تربیت اور معاشرے کا بہترین فرد بننے تک ماں باپ اہم ترین کردار ادا کرتے ہیں۔ بچے کی قدم قدم پر رہنمائی کرتے ہیں، اسے زمانے کے ہر سرد و گرم سے بچاتے ہیں، بولنا ، چلنا دوڑنا اور سنبھلنا سکھاتے ہیں۔ بچے کی خوشی میں خوش ہوتے ہیں اور اس بیماری میں ٹوٹ کر رہ جاتے ہیں۔ بچے کے سائبان بننے کی خاطر خود سارا سارا دن کڑی دھوپ میں جلتے ہیں ، مشقتیں اٹھاتے ہیں۔ گویا اس کے لیے اپنی زندگیوں کو وقف کر دیتے ہیں، لیکن صد افسوس کہ جب وہی بچے بڑے ہوجاتے ہیں تو والدین کو اکیلا چھوڑ دیتے ہیں ۔ حالانکہ اس وقت ان کو اولاد کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے ، اس وقت وہ خدمت اور سکون کے محتاج ہوتے ہیں۔ ہمارے معاشرے کی بے حسی کا اندازہ اس واقعہ سے لگایا جاسکتا ہے۔ ایک بار ہمارے ملک کی عظیم ہستی عبدالستارایدھی ( مرحوم) سے پوچھا گیا، آپ نے ہزاروں لاوارث لاشیں دفن کی ہیں کیا کبھی کسی لاش کی بگڑی حالت یا اس پرتشدد دیکھ کر رونا آیا تو انہوں نے آنکھیں بند کرکے گہری سوچ میں غوطہ زن ہوتے کہا منفرد انکشاف کیا کہ’’ تشدد یا لاش کی بگڑی حالت تو نہیں ، ہاں البتہ ایک مرتبہ میرے رضاکار ایک صاف ستھری لاش لے کر آئے جو تازہ انتقال کئے بوڑھے شخص مگر کسی پڑھے لکھے اور کھاتے پیتے گھرانے کی لگ رہی تھی۔ اس کے سفید چاندی جیسے بالوں میں تیل لگا ہوا تھا اور سلیقے سے کنگھی کی ہوئی تھی دھوبی کے دھلے ہوئے سفید اجلے کلف لگے سوٹ میں اس کی شخصیت بڑی باوقار لگ رہی تھی مگر تھی وہ اب صرف ایک لاش۔ ایدھی صاحب پھر کچھ سوچتے ہوئے گویا ہوئے، ہمارے پاس روزانہ سیکڑوں لاشیں بھی لائی جاتیں، مگر ایسی لاش جو اپنے نقش چھوڑ جائے کم ہی آتی ہیں اس لاش کو میں غور سے دیکھ رہا تھا کہ میرے رضاکار نے جیسے بم پھوڑ دیا، اس نے کراچی کے ایک پوش ایریا کا نام لے کر کہا کہ یہ لاش اس کے بنگلے کے باہر پڑی تھی، ہم جونہی بنگلے کے سامنے پہنچے تو ایک ٹیکسی میں سوار فیملی جو ہمارا ہی انتظار کر رہی تھی، اس میں سے ایک نوجوان برآمد ہوا، اور جلد بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک لفافہ ہمیں تھماتے ہوئے بولا یہ تدفین کے اخراجات ہیں، پھر وہ خود ہی بڑ بڑایا یہ میرے والد ہیں، ان کا خیال رکھنا، اچھی طرح غسل دے کر تدفین کر دینا۔ اتنے میں ٹیکسی سے آواز آئی تمہاری تقریر میں فلائٹ نکل جائے گی جانو پلیز۔۔۔! یہ سنتے ہی نوجوان پلٹا اور مزید کوئی بات کئے، ٹیکسی میں سوار ہو گیا اور ٹیکسی فراٹے بھرتی ہوئی آنکھوں سے اوجھل ہوگئی۔ ایدھی صاحب بولے اس لاش کے متعلق جان کر مجھے بہت دکھ ہوا اور میں ایک بار پھر اس بدقسمت شخص کی جانب دیکھنے لگا تو مجھے ایسے لگا جیسے وہ بازو وا کئے مجھ سے درخواست کر رہا ہو کہ ایدھی صاحب ساری لاوارث لاشوں کے وارث آپ ہوتے ہیں مجھ بدقسمت کے وارث بھی آپ بن جائیں۔ میں نے فوراً فیصلہ کیا کہ اس لاش کو غسل بھی میں خود دونگا اور تدفین بھی خود کرونگا پھر جونہی غسل دینے لگا تو اس اجلے جسم کودیکھ کر میں سوچ میں پڑگیا جو شخص اپنی زندگی میں اس قدر معتبر اور حساس ہوگا کہ اس نے اپنی اولاد کی پرورش میں کیا کیا ناز و نعم نہ اٹھائے ہونگے، مگر بیٹے کے پاس تدفین کا وقت بھی نہ تھا، اسے باپ کو قبر میں اتارنے سے زیادہ فلائٹ نکل جانے کی فکر تھی۔ اور یوں اس لاش کو غسل دیتے ہوئے میرے آنسو چھلک پڑے پھر وہ اپنے کندھے پر رکھے کپڑے سے آنسو پونچھتے ہوئے بولے اس دن ایدھی انسانیت کی ڈوبتی اقدار پر، اور بڑھتی معاشرتی بے حسی پر رو پڑا تھا‘‘۔
آج کے معاشرے میں دیکھا گیا ہے کہ بہت سی جگہوں پر اولاد والدین کے معاملہ میں بڑا سخت رویہ رکھتی ہے، ماں باپ اگر نصیحت کریں تو قطعاً نہیں مانا جاتا۔ ایسے نافرمانوں کو اپنی پیدائش کے مراحل کو یاد کرنا چاہیے اور یہ بھی کہ والدین نے کس طرح اسے چلنا سکھایا، بولنا سکھایا، اس کی پرورش کی اور والدین کی عظیم خدمات کی بدولت آج اسے یہ مقام و مرتبہ ملا ہے۔ انسان کے لیے سب زیادہ مخلص اس کے والدین ہوتے ہیں جو کہ خود سارے دکھ اور پریشانیاں جھیلتے ہوئے نہ صرف اولاد کی پرورش کرتے ہیں بلکہ اسے ترقی کی اعلیٰ منازل پر دیکھنا چاہتے ہیں، ان کی یاد میں محض ایک دن منانا کافی نہیں ہوتا۔ آج ہمیں اپنی ٹھاٹھ کے ساتھ ساتھ اپنی آخرت اور انجام کو بھی یاد رکھنا چاہیے ، بلاشبہ آج جو ہم بوئیں گے کل وہی کاٹنا ہے، وہ نفرتیں ہوں یا محبتیں، احساس ہو یا بے حسی !۔





