
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کے درمیان نئے دفاعی معاہدے پر اسرائیل نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے اپنے لیے خطرناک پیش رفت قرار دیا ہے۔
اسرائیلی وزیر برائے امورِ تارکین وطن نے مکہ معاہدے کو "خطرناک اور پریشان کن” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے اسرائیل کے لیے سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
اسرائیلی وزیر کے مطابق پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ پہلے ہی دفاعی معاہدہ موجود ہے، تاہم اب ترکیے کی شمولیت سے صورتحال مزید اہم ہو گئی ہے، کیونکہ اسرائیل اور ترکیے کے درمیان براہِ راست اختلافات موجود ہیں۔
واضح رہے کہ دو روز قبل مکہ مکرمہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کے درمیان دفاعی معاہدے پر دستخط ہوئے تھے۔ معاہدے کے تحت کسی ایک ملک کے خلاف جارحیت کو تینوں ممالک کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔
اس سے قبل پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان بھی دفاعی معاہدہ طے پا چکا ہے، جس کے تحت ایک ملک پر حملہ دونوں ممالک پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔







