ColumnImtiaz Aasi

امریکہ، ایران کشیدگی اور آبنائے ہرمز

امریکہ، ایران کشیدگی اور آبنائے ہرمز
نقارہ خلق
امتیاز عاصی
ایرانی قوم نے امام خمینی کے افکار پر عمل پیرا ہو کر پہلوی خاندان کی سو سالہ بادشاہت کا خاتمہ کیا اور اب دنیا کی سپر پاور کے ساتھ چالیس روزہ جنگ کرکے دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ ایرانی قوم کا سیدنا حسینؓ کی طرح میدان میں نکلنا اور اسلام کی بقاء کے لئے جنگ آیت اللہ خمینی نے جائز قرار دیا تھا۔ ایرانی قوم دنیا کی سب سے بڑی سیاسی اور فوجی قوت کے سامنے سینہ تان کر کھڑی ہو گئی ۔ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے بعد پاکستان کے ذریعے ثالثی کا جو سلسلہ جاری تھا اس کے نتیجہ میں امریکی صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان تو کیا مگر دونوں ملکوں میں کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔ اس کے ساتھ ایران کا یہ بھی اعلان ہے کہ آبنائے ہرمز سے اسرائیلی جہازوں کو گزرنے نہیں دیا جائے گا۔ ایران کے ناءب اسپیکر رضا رضائی کے مطابق اس ضمن میں قانون بنایا جا رہا ہے لیکن آبنائے ہرمز جوہری ہتھیاروں سے زیادہ اہم ہے۔ امریکہ ایران کی اس جنگ سے نہ صرف خطے کے ملک بلکہ پوری دنیا متاثر ہوئی ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک جس کے معاشی حالات پہلے ہی بہت خراب تھے حالیہ جنگ سے مہنگائی میں پہلے سے زیادہ اضافہ ہو گیا ہے۔ قطری میڈیا کے مطابق آبنائے ہرمز کے سلسلے میں ایران کو قانون سازی کر رہا ہے اس میں دشمن ملکوں کے جہازوں کو اس وقت تک گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی جب تک وہ اس سلسلے میں ایران سے پیشگی اجازت اور ہرجانہ ادا نہیں کریں گے۔ ایرانی پارلیمان کے ایک رکن کے مطابق آبنائے ہرمز سے ایران کسی صورت پیچھے نہیں ہٹے گا۔ ایرانی حکومت نے ہرمز صوبے کے حکام اور وہاں تعینات فورسز کو دیا ہے۔ اس کے ساتھ ان کا یہ بھی کہنا ہے امریکہ سمیت اس کے اتحادیوں کو بھی آبنائے ہرمز کی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جب کہ جہازوں سے وصول کی جانے والی فیس کا تیس فیصد فوجی انفرا سٹرکچر کو مضبوط بنانے پر خرچ کیا جائے گا۔ دوسری طرف امریکہ نے ایران کی طرف سے چودہ نکاتی تجاویز کا جواب دے دیا ہے جس کا ایران جائزہ لے رہا ہے۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے ان چودہ نکاتی تجاویز میں جوہری ہتھیاروں کا معاملہ شامل نہیں ہے۔ امریکہ نے تیس روزہ جنگ بندی کی تجویز دی تھی لیکن ایران نے تیس دن کے اندر تمام معاملات کو حل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ایران کا کہنا ہے امریکہ کے پاس دو ہی راستے ہیں یا تو وہ ایران کے خلاف ناممکن فوجی کارروائی کا انتخاب کرے یا پھر اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ ایک بڑی ڈیل کرے۔ تازہ ترین خبروں کے مطابق ایران نے متحدہ عرب امارات پر حملوں کا سلسلہ شروع کر دیا اور بحری جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔ جبکہ دوسری طرف امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے اگر ایران نے امریکی جہازوں پر حملہ کیا تو ایران کو دنیا کے نقشے سے مٹا دیا جائے گا۔ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے سے تیل کی قیمتوں میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا ہے جس کی وجہ سے مہنگائی میں اضافی قدرتی امر ہے۔ اس کے برعکس امریکہ نے ایران کے گرفتار بحری عملے کے بائیس ارکان کو پاکستان کے حوالے کر دیا ہے جہاں سے وہ بلوچستان کے راستے ایران روانہ ہو گئے ہیں۔ جہاں تک آبنائے ہرمز زمانہ قبل از مسیح نہ صرف علاقائی بلکہ اس وقت بھی دنیا کے معاملات خصوصا تجارت میں اہم کردار ادا کرتی آئی ہے۔ خلیج فارس میں ایرانی ساحل پر واقع بندرگاہ بندر عباس سے چند کلومیٹر دور جزیرے ہرمز کی نسبت سے مشہور ہے۔ ماضی میں یہ سارا علاقہ سلطنت فارس کا حصہ تھا جزیرہ ہرمز اس زمانے میں خلیج فارس کے راستے ہندوستان، مشرق وسطیٰ اور اس سے آگے یورپ اور افریقہ کے درمیان مختلف اشیاء خصوصا مسالہ جات پر مشتمل تجارت کا مرکز تھا کیونکہ یہ عین آبنائے ہرمز کے دہانے پر واقع تھا۔ اس دور میں بہت سی قومیں ہرمز اور اس کے گردونواح میں اپنی بحری موجودگی اور اثر و نفوذ قائم کرنے کی جدوجہد کرتی تھیں۔ جن میں قدیم مصر، سلطنت روم، عرب اور سلطنت عثمانیہ بھی شامل رہیں۔ چنانچہ جب ترکوں نے قسطنینہ پر قبضہ کرکے جبرالٹر تک بحیرہ روم پر اپنا غلبہ قائم کر لیا تو یورپی ملکوں نے مشرق اور مغرب کے مابین منافع بخش تجارت کو بحال رکھنے کے لئے ہندوستان کے لئے متبادل بحری راستہ تلاش کرنے کی جدوجہد شروع کر دی۔ وقت گزرنے کے ساتھ برطانیہ اور ایران نے باہم ملکر جزیرہ آبناءے ہرمز پر قبضہ کر لیا تو انگریزوں نے جزیرہ ہرمز کے بجائے باب المندب کے کنارے پر واقع عدن کے مقام پر ایک مضبوط بحری اڈہ قائم کر لیا۔ دیکھا جائے تو جزیرہ آبنائے ہرمز سے دنیا کے ملکوں میں تیل کا اکیس فیصد اسی راستے گزر کر جاتا ہے جب کہ این ایل جی بھی اسی راستے بھیجی جاتی ہے۔ امریکہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول جما کر ایران کو زیر کرنے کی جدوجہد میں ہے مگر ایرانی قوم امریکہ کے خلاف خون کے آخری قطرے تک لڑنے کے لئے تیار ہے۔ امریکہ ایران کشیدگی اسی صورت ختم ہو سکتی ہے جب دونوں ملکوں میں سے کوئی ایک اپنے مطالبات سے دستبردار ہو۔ جیسا کہ میں اس سے قبل اپنے کالموں میں لکھ چکا ہوں ایران آبنائے ہرمز اور جوہری ہتھیاروں سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگا۔ دوسری طرف صدر ٹرمپ کو کانگریس کے علاوہ اپنے ملک کے عوام سے جنگ کے خلاف ردعمل کا سامنا ہے۔ ایران کی طرف سے متحدہ عرب امارات کی طرف میزائل داغنے کی خبروں نے خطے میں ایک مرتبہ کشیدگی کی فضا قائم کر دی ہے۔ دراصل ایران کی اسلامی حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی مشرق وسطیٰ سے امریکی اڈوں کے خاتمے کا مطالبہ شروع کر دیا تھا۔ حالیہ جنگ کے دوران امریکیوں کی طرف سے ان اڈوں سے ایران پر حملوں کے بعد ایران مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں کے خاتمے کے مطالبے سے کبھی دستبردار نہیں ہوگا جس امریکہ کے لئے کڑوے گھونٹ سے کم نہیں ہے۔ اگر ہم ماضی میں جائیں تو انقلاب ایران کے بعد ہی اسلامی حکومت نے مشرق وسطی سے امریکی اڈوں کے خاتمے کا مطالبہ کر دیا تھا۔ دونوں ملکوں کے درمیان گزشتہ 47برس سے اقتصادی پابندیاں ہیں، تاہم اس کے باوجود ایرانی قوم زندہ ہے اور اس طویل عرصے میں وطن کے دفاع کو مضبوط کیا۔

جواب دیں

Back to top button