شہیدکی ماں وصیت پر عمل کیوں نا کر سکی

شہید کی ماں وصیت پر عمل کیوں نا کر سکی
تجمّل حسین ہاشمی
کئی سال پہلے کراچی پریس کلب میں کالم نگار بھائیوں کا اکٹھ ہوا، جس میں مجھے بھی دعوت دی گئی، سب کا تعارف ہوا، جب میری باری آئی تو میزبان دوست نے بولا کہ ہاشمی بھائی کی اسٹیبلشمنٹ والوں سے بڑی قربت ہے۔ سب لوگ میری طرف متوجہ ہوئے جیسے کوئی انوکھی بات کر دی ہو۔ میں خاموش رہا، کیونکہ ایسے فورم پر بات کرنا مناسب نہیں تھا، لیکن میں نے کہا ملک کے شہیدوں کا ہمارے سر پر قرضہ ہے۔ یقین کریں ہماری مائیں بڑی بہادر ہیں ۔ جن کے جوان بچے ان کے سامنے شہید کر دئیے گئے۔ آپ 1988ء کے بعد سے کراچی کے حالات دیکھے ہوں گئے ، کتنے جوان بوڑھے اور مزدور لسانی جنگ کا شکار ہوئے، مہاجر ، پنجابی ، پٹھان ، سندھی کوئی بھی زبان بولنے والا ہو ، سب کی ماں کا دکھ تو ایک جیسا ہی ہوتا ہے۔ بلوچستان کے حالات بھی سب کے سامنے ہیں ، وہاں کی ماں کئی کئی دن اپنے بچوں کی حفاظت کیلئے سرگرداں رہتی ہے۔ دہشت گردوں کے ہاتھوں قتل ہونے والے عام شہری کو بھی شہید کہا جائے، ان کے خاندان کو بھی حکومتی مراعات دیں، ہم اجتماعی احساس کی کمی کا شکار ہیں ، تفریق نے ہمیں دماغی طور پر کمزور کر دیا ہے ۔ آج ایک دوسرے کی نفرت میں جل رہے ہیں ۔ میں حیران ہوں کہ اسکولوں میں محبت بھائی چارے کا درس ملتا تھا، مدرسوں میں دین اسلام ملتا تھا، آج ٹیچر معصوم بچوں کو اپنی منفی سیاست کا شکار بنا رہے ہیں ، ایسا معاشرہ کیسے آگے بڑھ سکتا ہے، جب استاد نفرت ، تقسیم کا شکار ہو جائیں۔
آج میں مالاکنڈ کے سابقہ کمشنر محمد جاوید کی سلامتی کے محافظوں سے منافقت اور طالبان سے محبت کی سٹوری پڑھ رہا تھا۔ کمانڈو کیپٹن نجم ریاض کو آرڈر ملا کہ اسے سوات آپریشن کو جانا ہے، اس نے آپریشن میں حصہ لینے سے پہلے ماں سے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا ۔ چھ فٹ تین انچ کا خوبصورت چوبیس سالہ کمانڈو گھر آیا تو ماں نے کہا یہ کیسا آپریشن جو آپ اپنے مسلمان بھائیوں کے خلاف لڑنے جا رہے ہو۔ وہ بولا ماں آپ بھی ان لوگوں کے جھانسے میں آ گئی ہیں جو ملک دشمن طالبان کو اپنا بھائی سمجھتے ہیں ۔ ماں جی اگر یہ ہمارے بھائی ہوتے تو ہمارے ملک کے خلاف نہ لڑتے ۔ پاکستان کے وجود کو خطرے میں نہ ڈالتے۔ ماں نے بیٹے کو گلے لگایا، پیار کیا ۔ بیٹے نے ماں باپ کے قدموں کو چوما اور ماں کے کان میں سر گوشی کی کہ اماں جب میں شہید ہو کر گھر آئوں تو آپ نے رونا نہیں ہے ، بیٹے نے ماں باپ کے قدموں پر ہاتھ رکھا، بہنوں کو گلے لگایا ۔ گاڑی میں بیٹھ کر گائوں کے کچے راستے سے نکل گیا ۔ میں آپ کو بتانا چاہتا ہو اس کپتان کے گاں جانے والا روڈ بھی کچا تھا ۔ جب گھر سے نکلا تو اتنی دیر میں ماں چھت پر چلی گی اس کو معلوم تھا کہ ماں اسے چھت سے دیکھ رہی ہے ، اس نے موڑ کر ماں کو ہاتھ ہلایا اور ماں کی نظروں سے دور چلا گیا ۔ چند دن بعد آپریشن کے دوران نجم ریاض اور منڈی بہائو الدین سے تعلق رکھنے والے تین اور کمانڈو بد قسمتی سے طالبان کے گھیرے میں آگئے، یعنی گھیر لیا گیا ۔ کیپٹن راجہ نجم ریاض ، کیپٹن جنید ایاز خان ، نائیک شاہد رسول اور شکیل کو طالبان نے 22دن قید میں رکھا ، ان کو ایک گھر میں لے جایا گیا جہاں پر ان پر تشدد شروع ہوا ، کچھ دن تو طالبان نے ان کو اپنے خاندان کے ساتھ رابطے کی اجازت دے دی، تاہم اس دوران کمشنر مالاکنڈ محمد جاوید جو طالبان کے گاڑ فادر سمجھے جاتے تھے ۔ ان کو کمانڈوز کی رہائی کے لیے طالبان کے پاس بھیجا گیا ۔ کمشنر جاوید نے ان کمانڈوز کے سامنے طالبان سے کہا کہ ان کا اسلحہ واپس کر دو اور ان چاروں کو بے شک اپنے پاس رکھ لو ، چاروں کمانڈو سمجھ گئے تھے کہ ان کے ساتھ کھیل کھیلا جا رہا تھا ۔ کمشنر جاوید کے جانے کے بعد آٹھ طالبان کمرے میں آئے، وہ کمانڈوز کے سر کاٹنے کے لیے تیار تھے، انہوں نے کمانڈوز کی ویڈیو انٹر نیٹ پر ڈالنی تھی۔ کمانڈوز نے ان آٹھ کو ایک ہی جھٹکے میں مار دیا، لیکن بد قسمتی سے کمرے کے باہر اسلحہ کے ساتھ کھڑے طالبان نے شور سنتے ہی سیدھی فائرنگ کر کے کمانڈوز کو شہید کر دیا اور ان کی گردنیں کاٹ کر لاشیں پھینک دی۔ ایک بوڑھا باپ فوج سے ریٹائرڈ حوالدار ڈاکٹر بابر اعوان کو کہ رہا تھا کہ کمشنر مالاکنڈ جاوید کیلئے ان کمانڈوز سے زیادہ اہم لوہے کی بنی چار بندوقیں تھیں۔ اس سوال کا جواب ڈاکٹر بابر اعوان کے پاس نہیں تھا۔ بابر اعوان کو کچھ نہ سوجا اور کہا آپ بتائیں حکومت آپ کیلئے ذاتی طور پر کیا کر سکتی ہے ۔ کمانڈو نجم ریاض کے والد بولے ہمیں اپنے لئے کچھ نہیں چاہئے ۔ کوئٹہ میں ایک کیڈٹ کالج ، ہسپتال اور ٹوٹی ہو ئی سڑک بنا دیں، جس پر دو گھنٹے آپ چل کر آئے ہیں ۔ ڈاکٹر بابر اعوان نے ہمت نہیں ہاری اور دوبارہ پوچھا کہ ذاتی کوئی مسئلہ ، کوئی امداد یا کچھ اور چاہئے تو بتائیں ۔ شہید کمانڈو کی ماں نے آنسوئوں کے ساتھ سر اٹھایا اور بابر اعوان کو دیکھ کر کہا ایک بیٹے سے زیادہ قیمتی چیز اور کیا ہو سکتی ہے وہ بھی میں نے اپنے ملک کے نام قربان کر دی ہے۔ شہید کمانڈو نجم ریاض کی ماں روکی اور کہنے لگی یہ میرا ایک بیٹا تھا اگر میرے دس بیٹے ہوتے تو وہ بھی میں اپنے وطن پر قربان کر دیتی ۔ اس کے بعد کوئی بھی حکومتی فرد گھر میں نہ رک سکا ، گھر کے صحن میں بیٹے کی چند روز قبل سر کٹی لاش پڑی تھی ، ماں کی ہمت کو سلام ، باپ کی عظمت کو سلام ، جنہوں نے اپنے لیے کچھ نہیں مانگا، بلکہ اپنے لوگوں کیلئے تعلیم صحت اور سہولت کے فریادی تھے۔ اس وقت وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی تھے ، جب ان سے سینئر کالم نگار و صحافی رئوف کلاسرا نے سابقہ کمشنر محمد جاوید سے متعلق سوال پوچھا تو وزیر اعظم نے فرمایا کہ ہائی لیول پر انکوائری چل رہی ہے ، حکومتی انکوائری میں جاوید کو قصور وار ٹھہرایا گیا ۔ جناب رئوف کلاسرا کی کتاب ’’ آخر کیوں سے لیا گیا اقتباس ‘‘۔
آج قوم کی مائیں اپنے بچوں کی لیے بہتر مستقبل مانگ رہی ہیں، لیکن ہمارے حکمرانوں کی ترجیحات میں عوامی سہولتیں کا صفحہ پھٹ چکا ہے، ان کی ترجیحات میں مال سمٹنا ہے اور قوم کو مسائل میں الجھائے رکھنا ہے ۔ سکیورٹی اداروں سے متعلق منفی نظریہ رکھنا چھوڑ دیں گے ، وہ ہمارے ہیں اور ہم ان سے ہیں ، وہ بھی اسی معاشرہ کا حصہ ہیں ، ان کمانڈوز کے گھروں میں بھی بجلی نہیں آتی ، وہ بھی وہی راشن خریدتے ہیں جو عام فرد خریدتا ہے ، ان کی تنخواہ سے بھی ٹیکس کاٹا جاتا ہے، جو عام بندے کی تنخواہ سے کاٹا جاتا ہے ، نفرت نہیں محبت کو راستہ دیں ، یہ گھٹن مزید تقسیم کر دے گی ، یقین رکھیں پاکستان ہمارا ملک ہے اور سب اس کے محافظ ہیں ۔ دن رات ملکی سلامتی اور ہمارے سکون کے محافظ ہیں ، ذاتی مفادات میں آئین میں ترمیم اور سہولتوں کے ذمہ دار ایوانوں میں بیٹھے فیصلہ ساز سیاست دان ہیں ، جن کو آگے بڑھ کر سہولیات دینی ہیں لیکن کئی برس سے حکومتی بادشاہت میں ہیں۔







