عیدالاضحی: ایثار، قربانی

عیدالاضحی: ایثار، قربانی
اور اتحادِ اُمت کا پیغام
پاکستان سمیت دُنیا بھر کے مختلف ممالک میں آج عیدالاضحیٰ مذہبی جوش و جذبے، عقیدت اور احترام کے ساتھ منائی جارہی ہے۔ جہان فیملی کو عید کی بہت بہت مبارک باد۔ یہ عظیم دن حضرت ابراہیمٌ اور حضرت اسماعیلٌ کی لازوال قربانی، اطاعت اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے کی یاد تازہ کرتا ہے۔ مسلمان اس دن جانوروں کی قربانی دے کر نہ صرف سنتِ ابراہیمیٌپر عمل کرتے ہیں بلکہ ایثار، محبت، ہمدردی اور اخوت کا عملی مظاہرہ بھی کرتے ہیں۔ عیدالاضحیٰ محض ایک مذہبی تہوار نہیں بلکہ یہ انسانیت، مساوات اور قربانی کے جذبے کو فروغ دینے کا ایک عظیم پیغام بھی ہے۔ اس سال بھی لاکھوں مسلمانوں نے منگل کو میدانِ عرفات میں وقوفِ عرفہ ادا کیا اور فریضہ حج سرانجام دیا۔ دنیا کے کونے کونے سے آنے والے مسلمانوں کا ایک ہی لباس میں، ایک ہی رب کے حضور جھک جانا اسلامی اخوت اور اتحاد کا بے مثال منظر پیش کرتا ہے۔ حج دراصل امتِ مسلمہ کے اتحاد، مساوات اور بھائی چارے کا عملی مظہر ہے جہاں نسل، زبان، رنگ اور قومیت کی تمام تفریق مٹ جاتی ہے۔ اُن خوش نصیب عازمینِ حج کو دلی مبارک باد پیش کی جانی چاہیے، جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے گھر کی حاضری اور حج کی سعادت عطا فرمائی۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اُن کا حج قبول فرمائے اور پوری امتِ مسلمہ کو امن، خوش حالی اور اتفاق نصیب کرے۔ عیدالاضحیٰ کا اصل فلسفہ قربانی ہے، لیکن قربانی صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں بلکہ اپنی خواہشات، انا، لالچ اور نفرتوں کو اللہ کی رضا کے لیے قربان کرنے کا درس بھی دیتی ہے۔ آج جب معاشرہ خود غرضی، مادہ پرستی اور بے حسی کا شکار دکھائی دیتا ہے، ایسے میں عیدالاضحیٰ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اصل کامیابی دوسروں کے لیے جینے اور ضرورت مندوں کی مدد کرنے میں ہے۔ اگر قربانی کے بعد بھی ہمارے رویوں میں تبدیلی نہ آئے، غریب اور محروم طبقہ ویسے ہی مشکلات کا شکار رہے اور ہم صرف رسم پوری کرنے تک محدود رہیں تو قربانی کی روح ادھوری رہ جاتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں آج بھی لاکھوں ایسے خاندان موجود ہیں جن کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول ایک مشکل مرحلہ ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی دبائو نے متوسط اور غریب طبقے کی زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔ ایسے حالات میں عیدالاضحیٰ کا سب سے اہم تقاضا یہی ہے کہ قربانی کے گوشت میں مستحقین، یتیموں، بیواں اور نادار افراد کا خصوصی خیال رکھا جائے۔ اسلام نے قربانی کے گوشت کو تقسیم کرنے کی جو خوبصورت تعلیم دی ہے، اُس کا مقصد یہی ہے کہ خوشیوں میں سب شریک ہوں اور کوئی شخص محرومی محسوس نہ کرے۔ اگر صاحبِ حیثیت لوگ اپنے اردگرد موجود ضرورت مندوں کا خیال رکھیں تو عید کی حقیقی خوشیاں کئی گنا بڑھ سکتی ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں بعض اوقات عیدالاضحیٰ کے موقع پر نمود و نمائش، فضول خرچی اور مقابلے بازی کا رجحان بھی دیکھنے میں آتا ہے۔ مہنگے جانوروں کی نمائش، سوشل میڈیا پر غیر ضروری تشہیر اور دکھاوے کی دوڑ قربانی کی اصل روح کے منافی ہے۔ اسلام سادگی، اخلاص اور اعتدال کا درس دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک قربانی کا گوشت یا خون نہیں بلکہ انسان کا تقویٰ اور نیت اہم ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اس عبادت کو ریاکاری کے بجائے خلوصِ دل اور عاجزی کے ساتھ ادا کریں۔ عیدالاضحیٰ کے موقع پر صفائی اور ماحول کا خیال رکھنا بھی ہماری اجتماعی ذمے داری ہے۔ شہروں اور محلوں میں آلائشیں مناسب طریقے سے ٹھکانے لگانا، صفائی ستھرائی برقرار رکھنا اور شہری نظم و ضبط کا خیال رکھنا ایک مہذب قوم کی نشانی ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہر سال کئی مقامات پر صفائی کے ناقص انتظامات کے باعث تعفن، آلودگی اور بیماریوں کے خدشات پیدا ہوجاتے ہیں۔ اس سلسلے میں بلدیاتی اداروں کے ساتھ شہریوں کو بھی ذمے داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا تاکہ عید کی خوشیاں کسی پریشانی میں تبدیل نہ ہوں۔ یہ عید ہمیں باہمی اختلافات بھلا کر محبت، برداشت اور اتحاد کو فروغ دینے کا بھی درس دیتی ہے۔ آج امتِ مسلمہ مختلف مسائل اور چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔ فلسطین، کشمیر اور دنیا کے کئی خطوں میں مسلمان ظلم و ستم کا شکار ہیں۔ ایسے وقت میں ضروری ہے کہ ہم اپنے کمزور اور مظلوم بھائیوں کو اپنی دعاں میں یاد رکھیں اور اتحاد و یکجہتی کا عملی مظاہرہ کریں۔ عید کی حقیقی خوشی اسی وقت مکمل ہوتی ہے جب ہم اپنی ذات سے نکل کر پوری انسانیت کے لیے خیر اور بھلائی کا جذبہ اپنائیں۔ والدین، رشتہ داروں، ہمسایوں اور دوستوں کے ساتھ حسنِ سلوک بھی عید کی خوبصورتی ہے۔ جدید دور کی مصروفیات نے خاندانی اور سماجی تعلقات کو کمزور کیا ہے، لیکن عید جیسے مواقع دلوں کو قریب لانے کا بہترین ذریعہ بنتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ناراضیوں اور اختلافات کو ختم کریں، ایک دوسرے کو معاف کریں اور محبت و اخوت کے رشتوں کو مضبوط بنائیں۔ یہی اسلامی تعلیمات کا حسن اور عیدالاضحیٰ کا اصل پیغام ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم عیدالاضحیٰ کو صرف ایک رسم یا تہوار کے طور پر نہ منائیں بلکہ اس کے حقیقی پیغام کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں۔ قربانی کا جذبہ اگر ہماری سوچ، کردار اور معاشرتی رویوں میں شامل ہوجائے تو معاشرے سے نفرت، حسد، خودغرضی اور محرومیوں کا خاتمہ ممکن ہوسکتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اس مبارک موقع پر اللہ تعالیٰ کے حضور اپنے گناہوں کی معافی مانگیں، دکھی انسانیت کی مدد کریں، مستحقین کا سہارا بنیں اور اپنے وطن کی ترقی، امن اور خوش حالی کے لیے خصوصی دعائیں کریں۔ عیدالاضحیٰ دراصل انسان کو انسان سے جوڑنے، دلوں میں محبت پیدا کرنے اور اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط کرنے کا نام ہے۔ اگر ہم نے اس عظیم پیغام کو سمجھ لیا تو یقیناً ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگیوں میں مثبت تبدیلی آ سکتی ہے۔ یہی اس مقدس تہوار کا اصل مقصد اور حقیقی روح ہے۔
تجارتی خسارہ اور معاشی چیلنجز
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ کے اجلاس میں پیش کی گئی پری بجٹ بریفنگ نے ایک بار پھر ملکی معیشت کی نازک صورت حال کو واضح کر دیا ہے۔ 9ماہ کے دوران 32ارب ڈالر سے زائد کا تجارتی خسارہ، بڑھتی مہنگائی، بے روزگاری اور گردشی قرضوں میں اضافہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ معاشی استحکام کے دعوں کے باوجود زمینی حقائق اب بھی تشویش ناک ہیں۔ چیئرمین کمیٹی سید نوید قمر کا یہ کہنا کہ ’’ ایک وقت تھا جب کہا جاتا تھا نیب اور پاکستان ساتھ نہیں چل سکتے، اب ایف بی آر اور پاکستان ساتھ نہیں چل سکتے‘‘، دراصل کاروباری طبقے اور ٹیکس نظام کے درمیان بڑھتے ہوئے عدم اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔ پاکستان کی معیشت اس وقت کئی محاذوں پر دبائو کا شکار ہے۔ اگرچہ زرِمبادلہ کے ذخائر میں کچھ بہتری آئی ہے اور مالی خسارے میں کمی ریکارڈ کی گئی، مگر عام آدمی کو اس کے ثمرات منتقل نہیں ہوسکے۔ مہنگائی دوبارہ ڈبل ڈیجیٹ میں داخل ہورہی ہے، نوجوانوں میں بے روزگاری بڑھ رہی ہے جب کہ غربت کی شرح خطرناک حد تک اوپر جاچکی ہے۔ ایسے حالات میں معاشی ترقی کے اعداد و شمار عوامی زندگی میں بہتری لانے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ تجارتی خسارہ دراصل اس حقیقت کی علامت ہے کہ پاکستان کی درآمدات اب بھی برآمدات سے کہیں زیادہ ہیں۔ مقامی صنعتیں توانائی کی بلند قیمتوں، ٹیکسوں کے پیچیدہ نظام، اسمگلنگ اور جعلی مصنوعات کے باعث مشکلات کا شکار ہیں۔ جب صنعت کمزور ہوگی تو برآمدات نہیں بڑھیں گی، روزگار پیدا نہیں ہوگا اور حکومت کا ٹیکس ہدف بھی متاثر ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ ایف بی آر کا 610ارب روپے کا شارٹ فال بھی سامنے آیا ہے۔ گردشی قرضوں کا 5.1ٹریلین روپے تک پہنچ جانا بھی انتہائی تشویش ناک ہے۔ توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے بغیر معیشت کو مستحکم کرنا ممکن نہیں۔ حکومت کو ایسے اقدامات کرنا ہوں گے جو صنعت، زراعت اور کاروباری سرگرمیوں کو حقیقی سہارا دیں۔ ملک کو اس وقت وقتی اعلانات نہیں بلکہ مستقل معاشی اصلاحات، شفاف ٹیکس نظام، برآمدات کے فروغ اور نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ بصورت دیگر تجارتی خسارہ اور معاشی مشکلات آنے والے دنوں میں مزید سنگین صورت اختیار کرسکتے ہیں۔







