تازہ ترینخبریںدنیاسیاسیاتپاکستان

ابراہیمی معاہدہ، ٹرمپ کی شرط نے علاقائی مسلم اتحاد کو ہلاکر رکھ دیا

ابراہیمی معاہدہ، ٹرمپ کی ایران معاہدہ میں اچانک اسرائیل شرط نے اتحاد کو ہلا کر رکھ دیا۔ غزہ جنگ اور انسانی بحران نے عرب ممالک کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کو مشکل بنا دیا۔

 

پاکستان سمیت اہم مسلم ممالک اسرائیل سے متعلق ٹرمپ کی شرط پر خاموش، سفارتی حیرت بڑھ گئی۔ سعودیہ ابراہیمی معاہدے میں شمولیت سے تاحال انکاری، فلسطینی شرط برقرار، قائل کرنے کی کوششیں مسلسل ناکام ہوگئی۔

 

ایران معاہدے کی سفارت کاری میں اسرائیل کا معاملہ مرکزی رکاوٹ کے طور پر سامنے آگیا، بیانات غیر حقیقت پسندانہ، خطے میں کشیدگی برقرار، امریکی نیوز سائیٹ ایکسسویس، نیو یارک ٹائمز، یرو شلم پوسٹ، القدس کے تجزیے۔

 

مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کی سفارتکاری نے اس وقت غیر متوقع اور حساس رخ اختیار کر لیا جب ٹرمپ نے علاقائی حمایت حاصل کرنے کے لیے آٹھ ممالک کے رہنماؤں سے رابطہ کیا، مگر اسی دوران اسرائیل کو تسلیم کرنے سے متعلق اچانک شرط نے نہ صرف ماحول کو کشیدہ بنا دیا بلکہ اہم مسلم ممالک کی واضح خاموشی نے اس سفارتی کوشش کی پیچیدگی اور غیر یقینی کو بھی نمایاں کر دیا۔

 

ایکسسویس کے مطابق 23 مئی کو امریکی صدر نے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے پر بات چیت کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کانفرنس کال کی، جس میں پاکستان سمیت آٹھ ممالک کے رہنما شامل تھے۔ اس کال کا بنیادی مقصد ایران سے متعلق مجوزہ معاہدے کے لیے ان ممالک کی حمایت حاصل کرنا تھا۔

 

گفتگو کے دوران ٹرمپ نے اچانک ایک غیر متوقع شرط پیش کی کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے بعد وہ توقع کرتے ہیں کہ وہ ممالک جو اب تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتے، وہ ابراہیمی معاہدے میں شامل ہوکر اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لائیں۔

جواب دیں

Back to top button