امن کیلئے پاکستان کی کامیاب سفارت کاری

اداریہ۔۔۔
امن کیلئے پاکستان کی کامیاب سفارت کاری
گزشتہ روز ایرانی بحری جہاز توسکا کے عملے کی پاکستان کے ذریعے بحفاظت وطن واپسی ایک ایسا اہم واقعہ ہے جس نے نہ صرف خطے میں پاکستان کے مثبت کردار کو اجاگر کیا ہے بلکہ عالمی سطح پر اس کی سفارتی اہمیت کو بھی نمایاں کیا ہے۔ امریکا کی تحویل میں جانے والے اس جہاز کے عملے کو پاکستان کے راستے ایران منتقل کرنا محض ایک انتظامی عمل نہیں بلکہ ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان مشکل حالات میں بھی متوازن اور ذمے دارانہ کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا جب خطہ پہلے ہی کشیدگی اور بے یقینی صورتحال کا شکار ہے۔ امریکا اور ایران کے تعلقات گزشتہ کئی برسوں سے تنائو کا شکار رہے ہیں اور کسی بھی چھوٹے واقعے کے بڑے بحران میں تبدیل ہونے کا خدشہ ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ حالیہ عرصے میں دونوں کے درمیان کشیدگی عروج پر پہنچی ہوئی تھی۔ جنگ جاری تھی، پاکستان کی کوششوں سے جنگ بندی ہوئی اور امن آہستہ آہستہ دونوں طرف برف پگھلنے کی امید موجود ہے۔ ایسے ماحول میں پاکستان کا یہ کردار کہ اس نے دونوں ممالک کے درمیان ایک پل کا کام کیا، قابلِ تحسین ہے۔ ایرانی عملے کی بحفاظت واپسی نہ صرف انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ایک مثبت قدم ہے بلکہ یہ اس بات کی بھی علامت ہے کہ پاکستان خطے میں امن کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کر رہا ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ایک اہم ستون ہمیشہ سے توازن اور اعتدال رہا ہے۔ ایک جانب پاکستان کے امریکا کے ساتھ تاریخی اور اسٹرٹیجک تعلقات ہیں، تو دوسری طرف ایران کے ساتھ جغرافیائی، مذہبی اور ثقافتی روابط بھی نہایت مضبوط ہیں۔ ان دونوں اہم ممالک کے درمیان توازن قائم رکھنا ایک مشکل کام ہے، مگر پاکستان نے اس موقع پر یہ ثابت کیا کہ وہ نہ صرف اس توازن کو برقرار رکھ سکتا ہے بلکہ اسے مثبت نتائج میں بھی بدل سکتا ہے۔ اس معاملے میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا بیان بھی قابلِ غور ہے، جس میں انہوں نے واضح کیا کہ یہ اقدام ایران اور امریکا دونوں کی حمایت سے کیا گیا۔ یہ بات اس امر کی نشان دہی کرتی ہے کہ پاکستان پر دونوں ممالک کو اعتماد ہے اور یہی اعتماد کسی بھی کامیاب سفارت کاری کی بنیاد ہوتا ہے۔ جب ایک ملک دونوں متحارب یا کشیدہ تعلقات رکھنے والے فریقین کے لیے قابلِ قبول ہو، تو وہی ملک ثالثی کے لیے بہترین پوزیشن میں ہوتا ہے۔ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ اس نے ہمیشہ علاقائی اور عالمی سطح پر امن کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کیا ہے۔ چاہے وہ افغانستان میں امن عمل ہو، سعودی عرب اور ایران کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کی کوششیں ہوں، یا حالیہ برسوں میں مختلف عالمی تنازعات میں سفارتی سہولت کاری، پاکستان نے ہر موقع پر ذمے دارانہ کردار ادا کیا ہے۔ توسکا کے عملے کی واپسی بھی اسی تسلسل کا حصہ ہے۔اس واقعے کا ایک اہم پہلو انسانی ہمدردی بھی ہے۔ 22رکنی عملے کی بحفاظت واپسی اس بات کی یاد دہانی ہے کہ سیاست اور تنازعات کے درمیان بھی انسانیت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ پاکستان نے اس موقع پر یہ ثابت کیا کہ وہ صرف سیاسی مفادات نہیں بلکہ انسانی اقدار کو بھی اہمیت دیتا ہے۔ یہی وہ پہلو ہے جو کسی بھی ملک کو عالمی سطح پر عزت اور وقار دلاتا ہے۔ مزید برآں، یہ اقدام خطے میں اعتماد سازی کے عمل کو بھی تقویت دیتا ہے۔ جب ممالک ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہیں اور مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کرتے ہیں، تو اس سے نہ صرف کشیدگی میں کمی آتی ہے بلکہ مستقبل میں بہتر تعلقات کی راہ بھی ہموار ہوتی ہے۔ پاکستان کا یہ کردار اس بات کا واضح پیغام ہے کہ وہ محاذ آرائی کے بجائے مکالمے اور تعاون پر یقین رکھتا ہے۔ یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان کی جغرافیائی حیثیت اسے خطے میں ایک اہم مقام فراہم کرتی ہے۔ جنوبی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے سنگم پر واقع ہونے کی وجہ سے پاکستان ایک قدرتی پل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر اس جغرافیائی اہمیت کو موثر سفارت کاری کے ساتھ جوڑ دیا جائے تو پاکستان نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک اہم ثالث بن سکتا ہے۔ تاہم، اس کامیابی کے ساتھ یہ ضروری ہے کہ پاکستان اپنی سفارتی پالیسی کو مزید مضبوط بنائے اور ایسے مواقع کو مستقل بنیادوں پر استعمال کرے۔ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے اور ایسے میں وہی ممالک آگے بڑھتے ہیں جو نہ صرف اپنے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں بلکہ عالمی امن کے لیے بھی کردار ادا کرتے ہیں۔ آخر میں، توسکا کے عملے کی واپسی ایک مثبت پیش رفت ہے جو اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ پاکستان ایک ذمے دار، بااعتماد اور امن پسند ملک ہے۔ یہ واقعہ ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ طاقت کا اصل مظاہرہ جنگ میں نہیں بلکہ امن قائم کرنے میں ہوتا ہے۔ اگر پاکستان اسی طرح اپنے سفارتی کردار کو جاری رکھتا ہے، تو وہ نہ صرف خطے میں بلکہ دنیا بھر میں ایک اہم اور باوقار مقام حاصل کر سکتا ہے۔ پاکستان کا پیغام واضح ہے۔ ہم تنازعات نہیں، حل چاہتے ہیں، ہم محاذ آرائی نہیں، مکالمہ چاہتے ہیں اور سب سے بڑھ کر، ہم ایک پُرامن اور مستحکم دنیا کے خواہاں ہیں۔
۔ شذرہ۔۔۔۔
عالمی اصول اور بھارتی خلاف ورزیاں
کینیڈا کی انٹیلی جنس ایجنسی کی حالیہ رپورٹ نے ایک نہایت سنجیدہ اور تشویش ناک حقیقت کو بے نقاب کیا ہے۔ ایک خودمختار ملک کی سرزمین پر بیرونی مداخلت اور جاسوسی کی منظم کوششیں۔ رپورٹ میں بھارت کو ان ممالک میں شامل کیا گیا ہے جو کینیڈا میں سیاسی و سماجی عمل پر اثرانداز ہونے کے لیے خفیہ سرگرمیوں میں ملوث رہے۔ یہ محض ایک الزام نہیں بلکہ شواہد پر مبنی موقف ہے، جسے نظرانداز کرنا عالمی اصولوں سے انحراف کے مترادف ہوگا۔ بین الاقوامی تعلقات کی بنیاد باہمی احترام، خودمختاری اور عدم مداخلت پر قائم ہوتی ہے۔ اگر کوئی ریاست دوسرے ملک کے اندرونی معاملات میں اثرانداز ہونے کے لیے خفیہ نیٹ ورکس قائم کرے، سیاست دانوں اور صحافیوں سے پسِ پردہ روابط بڑھائے یا کمیونٹیز کو دبا میں لانے کی کوشش کرے تو یہ سفارتی آداب کی صریح خلاف ورزی ہے۔ کینیڈین سیکیورٹی انٹیلی جنس سروس (CSIS)کی رپورٹ میں انہی پہلوں کی نشان دہی کی گئی ہے، جو اس معاملے کی سنگینی کو واضح کرتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق بھارتی ریاستی عناصر نے کینیڈین سیاست دانوں، میڈیا اور بھارتی نژاد شہریوں کے ساتھ خفیہ روابط کے ذریعے اپنے مفادات کو آگے بڑھانے کی کوشش کی۔ مزید برآں، نگرانی، دبا اور تنقیدی آوازوں کو خاموش کرنے جیسے حربوں کا ذکر اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ یہ سرگرمیاں محض سفارتی روابط تک محدود نہیں رہیں، بلکہ انہوں نے ایک منظم مداخلتی شکل اختیار کرلی۔ اگر ایک جمہوری ملک کے اندر اختلافِ رائے کو دبانے کے لیے بیرونی قوتیں سرگرم ہوں تو یہ صرف ایک ملک کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ عالمی جمہوری اقدار کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔ خالصتان تحریک کے حوالے سے کینیڈا کا موقف بھی واضح ہے کہ یہ ایک قانونی اور پُرامن سیاسی سرگرمی ہے۔ اس تناظر میں کسی بیرونی ریاست کی جانب سے اس سرگرمی کو دبانے یا اس سے وابستہ افراد کو ہدف بنانے کی کوششیں ناقابلِ قبول ہیں۔ جمہوری معاشروں میں اختلافِ رائے اور سیاسی مطالبات کو طاقت کے ذریعے نہیں بلکہ مکالمے اور قانون کے ذریعے حل کیا جاتا ہے۔ یہ معاملہ اس وسیع تر رجحان کی بھی عکاسی کرتا ہے جہاں کچھ ریاستیں اپنے جغرافیائی حدود سے باہر جاکر اثرورسوخ قائم کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ مگر جدید عالمی نظام میں ایسے اقدامات دیرپا نتائج نہیں دیتے؛ الٹا اعتماد کو مجروح کرتے اور تعلقات کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ بھارت، جو خود کو ایک بڑی جمہوریت کے طور پر پیش کرتا ہے، اس پر لازم ہے کہ وہ ان الزامات کا سنجیدگی سے جواب دے اور شفاف تحقیقات میں تعاون کرے۔ کینیڈا اور بھارت کے تعلقات اہم ہیں، مگر ان کی بنیاد شفافیت اور قانون کی پاسداری ہونی چاہیے۔ اس لیے ضروری ہے کہ کینیڈا اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لیے موثر اقدامات جاری رکھے اور عالمی برادری بھی ایسے معاملات پر واضح موقف اختیار کرے۔ خاموشی یا مصلحت پسندی ایسے رویوں کو مزید تقویت دیتی ہے۔ آخر میں، یہ واقعہ ایک واضح پیغام دیتا ہے۔ عالمی نظام میں عزت اور وقار اسی کو ملتا ہے جو دوسروں کی خودمختاری کا احترام کرے۔ مداخلت، دبا اور خفیہ کارروائیاں وقتی فائدہ تو دے سکتی ہیں، مگر طویل مدت میں یہ اعتماد کو ختم کر دیتی ہیں۔ دنیا کو آج ایسی سیاست کی ضرورت ہے جو شفاف ہو، اصولوں پر قائم ہو اور باہمی احترام کو فروغ دے، نہ کہ خفیہ مداخلت اور دبائو کی بنیاد پر کھڑی ہو۔







