Columnمحمد مبشر انوار

ترکش کے تیر 

ترکش کے تیر

تحریر : محمد مبشر انوار(ریاض)

عمران خان کی سیاسی جدوجہد سے کوئی بھی ذی فہم انکار نہیں کر سکتا، البتہ اس کے اقتدار میں آنے کے حوالے سے مختلف آراء ہو سکتی ہیں کہ آیا وہ مروجہ نظام کے مطابق اقتدار نشیں ہوا، یا اپنے زور بازو پر، یا ملے جلے ماحول میں، اقتدار حاصل کیا۔ عمران کے اندھے پیروکار، اس کی اقتدار میں آمد کو کلی طور پر اس کی اپنی جدوجہد سمجھتے ہیں تو کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ وہ مروجہ نظام یعنی مقتدرہ کی آشیرباد، نظام کی سہولت کاری سے اقتدار کا حصہ بنا، یہاں اس امر کو واضح کرنا ضروری ہے کہ کیا مروجہ نظام کی آشیرباد سے مراد، وہ تمام اوچھے ہتھکنڈے ہیں، جو نظام نے دیگر سیاسی جماعتوں کو مہیا کئے یا عمران ان ہتھکنڈوں کے علاوہ اقتدار میں آیا؟ ان ہتھکنڈوں میں ایک اہم ترین اور حالیہ ہتھکنڈہ فارم 47کی صورت ہے، جبکہ ماضی میں ایسی کئی ایک مثالیں موجود رہی ہیں جن کا حوالہ زرداری نے 2013کے انتخابات میں بھی دیا تھا جبکہ 2018کے انتخابات میں بھی اس کا قصہ سنا گیا تھا، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں ہونیوالے ہر انتخاب کو ہمیشہ شک و شبہ سے دیکھا گیا ہے اور اپوزیشن نے ہمیشہ دھاندلی کا الزام لگایا ہے۔ بہرکیف،2018کے انتخابات کے حوالے سے میرا شروع میں یہ موقف رہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مقتدرہ نے عمران خان کی مدد کی، لیکن بعد کے واقعات اور بالخصوص شہباز شریف کے اعتراف کہ ان انتخابات سے قبل ہی ان کی جنرل باجوہ سے کابینہ کے حوالے سے گفت و شنید ہو چکی تھی مگر ’’ پائی جان‘‘ نہیں مانے، نے مجھی اپنی رائے تبدیل کرنے پر مجبور کر دیا۔ رہی بات سسٹم بیٹھنے کی ،تو سسٹم بیٹھنے سے قبل تک واقعتا تحریک انصاف بڑی واضح برتری کے ساتھ، عام انتخابات میں دیگر پارٹیوں سے کہیں آگے تھی مگر سسٹم بحال ہونے کے بعد کے نتائج نے تحریک انصاف کی کامیابی کو ایسے کوزے میں بند کیا کہ اسے حکومت بنانے کے لئے کئی ایک آزاد امیدواروں کی ضرورت پڑی۔ اولا تو ان آزاد اراکین کو بھی بخوبی احساس تھا کہ ان کی اپنی کامیابی کس کی مرہون منت ہے اور دوسرا انہیں یہ بھی علم تھا کہ اعدادوشمار کے مطابق بہرطور تحریک انصاف ہی حکومت بنانے والی ہے اور اسی پس منظر میں جہانگیر ترین کی بہترین جوڑ توڑ بلکہ سودے بازی کی صلاحیت نے، ان اراکین کو تحریک انصاف کی صف میں لاکھڑا کیا اور تحریک انصاف نے اپنی پہلی وفاقی حکومت بنا لی کہ اس سے قبل تحریک انصاف کے پی میں حکومت بنا چکی تھی۔ حکومتی معاملات آگے کیا چلتے، حکومت پرواز کیا کرتی کہ مختصر ترین عرصہ میں ہی دنیا بھر کو کورونا جیسی وبا کا سامنا کرنا پڑا اور دنیا بھر میں کاروبار زندگی بری طرح متاثر ہو گیا، صنعتی پہیہ تو ایک طرف، سماجی تعلقات تک محدود ہو گئے ،ایسے ماحول میں جب ساری دنیا لاک ڈائون سے گزر رہی تھی، پاکستان وہ واحد ملک تھا، جس نے سمارٹ لاک ڈائون کی پالیسی اپنائی، جس کی بعد ازاں نہ صرف ساری دنیا نے تقلید کی بلکہ دنیا نے اس کو سب سے بہترین طریقہ کار قرار دیا۔ بعد ازاں عمران خان کی چند انتہائی غیر ضروری و غیر سفارتی جسے ضرورت سے زیادہ خود اعتمادی کہا جا سکتا ہے، زبان کے استعمال نے ہمارے ان دوست ممالک کو ناراض کر دیا جو حقیقتا پاکستان کے آج بھی خیر خواہ ہیں لیکن ذاتی تکریم کے معاملے میں انتہائی سے زیادہ حساس بھی ہیں، علاوہ ازیں! عمران خان کے جلد بازی کے ایسے اقدامات کہ جن سے ان ممالک کی مخالفت کا تاثر ابھرتا تھا، نے عمران خان سے متنفر تو نہیں البتہ دلوں میں گرہ ڈال دی اور جو جوش و خروش عمران خان کے اقتدار میں آنے سے ان حکمرانوں کا تھا، وہ کم ہو گیا۔ بعد کے معاملات بھی کسی سے ڈھکے چھپے نہیں کہ کس طرح عمران خان نے عالمی میڈیا میں، مخالفین اس کو بیوقوفی سے تعبیر کرتے ہیں جبکہ عمران خان سے محبت کرنے والے اور اس کو ایک غیرت مند لیڈر تسلیم کرنے والے، اس کی جرات سے تعبیر کرتے ہیں۔ عمران خان کا عالمی میڈیا میں امریکہ کو اڈے دینے کے حوالے سے دوٹوک Absolutely Notکہنا بھی عمران خان کا ناقابل معافی جرم ٹھہرا۔

ان سخت حالات میں، دورہ روس نے عمران خان کے اقتدار میں آخری کیل ٹھونک دی کہ دوسری طرف آرمی چیف باجوہ بھی، اپنی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے فکرمند تھے اور اولا عمران خان نے اس پر آمادگی ظاہر نہیں کی تھی البتہ جب معاملات ہاتھ سے نکل گئے، تب جنرل باجوہ کو مدت ملازمت میں توسیع کی پیشکش کی گئی تھی، جو بے سود رہی۔ اسی دوران یہ حقیقت بھی اب کھل کر سامنے آ چکی ہے کہ عمران خان کی حکومت گرانے کے لئے، جنرل باجوہ کی امریکی حکام سے سازباز اور سائفر کا آنا، اس امر کا غماز تھا کہ مقتدر حلقوں میں عمران خان کو گھر بھیجنا طے پا چکا ہے لہذا اس مقصد کے لئے عدم اعتماد کا جو کھیل رچایا گیا، جس طرح وزیر اعظم ہائوس میں قیدیوں کی گاڑیاں بھیجی گئی، آدھی رات کو عدالتیں کھلوائی گئی، وہ اب کوئی راز نہیں رہا۔ سائفر کے حوالے سے، جو شور و غوغا مچایا گیا اور عمران خان کو جس طرح قومی مفادات سے کھلواڑ کرنے والا دکھایا گیا، اس پر قومی راز افشا کرنے کے الزامات لگائے گئے، وہ سب اب آشکار ہو چکے اور مخالفین کے تمام دعوئوں کی قلعی کھول چکے۔ افسوس تو اس امر کا ہے کہ ہم نجانے کس مٹی کے بنے ہیں کہ جہاں ہمیں قومی مفادات کا تحفظ کرنا چاہئے، وہاں ہم سجدے میں دکھائی دیتے ہیں ،آج سب کچھ طشت ازبام ہونے کے بعد، کسی میں اتنی اخلاقی جرآت دکھائی نہیں دیتی کہ اس حقیقت کو تسلیم کر لے کہ رجیم چینج میں شریک افراد نے قومی مفادات کے خلاف کام کیا تھا۔ حتی کہ اس وقت تو شہباز شریف کی وہ تقریر بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہے ، جس میں وہ سائفر کی حقیقت سے ہی انکاری ہیں اور دعویٰ کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ اگر ایسا کوئی سائفر نکل آئے تو وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر عمران خان کے ساتھ کھڑے ہوں گے، لیکن صد افسوس کہ یہ سب بس سیاسی بیان ہی ثابت ہوئے اور آج جب ڈراپ سائٹ نیوز نے یہ سائفر شائع کر دیا ہے، شہباز شریف اس پر بات کرنے کے لئے ہی تیار نہیں۔ یہ تو خیر سیاسی بونے ہیں ہی، ان سے تو یہی توقع تھی لیکن ہماری اعلیٰ ترین عدلیہ، ملک کے اعلی ترین قانونی دماغ، جنہوں نے اس سائفر کیس کی سماعت کی، کیا انہیں بھی آج کوئی شرمندگی ہو گی یا نہیں کہ جس سائفر کو بنیاد بنا کر عمران خان کو سزا دی گئی، وہ آج ایک حقیقت کی صورت دنیا کے سامنے ہے اور قاسم سوری کی وہ رولنگ، جس میں عدم اعتماد کی تحریک کو خارج کیا تھا، قاسم سوری کے اقدام کو غیر آئینی قرار دینے والے، آج کیا کہیں گے؟ اعلیٰ عدالتیں تو صرف آئین کی تشریح نہیں کرتی بلکہ آئین کی محافظ بھی ہوتی ہیں، پاکستانی عدالتیں اتنی بے وقعت کیوں ہو گئی ہیں، انہیں اپنے فرائض منصبی کا کوئی خیال نہیں یا آج سے چالیس سال بعد پھر ان عدالتوں کے سامنے کوئی ریفرنس پیش کیا جائے گا جس میں استدعا کی جائیگی کہ چالیس سال پہلے والے کیس میں انصاف کے تقاضے پورے نہیں کئے گئے تھے، لہذا آپ آج حقائق کی چھان بین کرکے اپنی رائے دیں اور پھر کوئی قاضی فائز عیسیٰ جیسی شخصیت اس پر آج کی عدالتوں کو ناانصافی پر مبنی فیصلے قرار دینے والی عدالتیں کہے گی؟ سوال مگر یہ ہے کہہ ہماری عدالتیں آج اپنے فرائض منصبی کیوں ادا نہیں کر رہی؟ آج بھی اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اپنے فیصلے یا اپنے سامنے موجود مقدمہ میں تو عمران خان سے دستخط کرانے کے لئے جیل سپرنٹنڈنٹ کو حکم دیتے ہیں مگر ایک قیدی کا حق بنیادی انسانی حق پر وہ پہلو تہی کرتے ہیں، آخر کیوں؟ صرف اس لئے کہ ناپسندیدہ شخصیت کو ابھی حراست میں رکھنا مقصود ہے کیا ہوا اگر سائفر کی حقیقت دنیا کے سامنے آ گئی، کم از کم چار سال تو گزر گئے اور اس دوران اس شخص کے کتنے حقوق سلب کئے جا چکے، اسے کتنا زچ کیا جا چکا، اس کی ایک آنکھ کی بینائی چھینی جا چکی لیکن ابھی تک نہ تو اسے قید میں رکھنے والی کی انا ٹھنڈی ہوئی اور نہ اس کی تسکین کہ قیدی نمبر 804کسی بھی صورت جھکنے، ٹوٹنے کے لئے تیار نہیں، اسے قید تنہائی میں رکھ کر بھی اسے نہیں توڑا جا سکا، اس کی اہلیہ پر تشدد کرکے بھی اسے جھکایا نہیں جا سکا، وہ آج بھی جیل کی کال کوٹھڑی سے کہہ رہا ہے کہ حقیقی آزادی یا موت! ایسے شخص کو جیل میں تو مارا جا سکتا ہے مگر تاریخ کے اوراق میں ایسی شخصیات ہمیشہ زندہ رہتی ہیں خواہ ان کے خلاف، آستین کے سانپوں کی مانند شیر افضل مروت یا علی امین گنڈا پور جیسے رفقاء ہوں، جو عدالتوں میں نئے مقدمات دائر کر کے، عمران خان کو زیر حراست رکھنے کے مزید بہانے فراہم کیوں نہ کریں۔ عمران خان کے یہ وہ رفقاء ہیں جنہیں عمران خان کے قافلے میں شامل ہونے سے پہلے کوئی جانتا بھی نہیں تھا، لیکن آج یہ لوگ ’’ کسی ‘‘ کو اپنا کندھا فراہم کرکے عمران خان پر نشانہ لگوا رہے ہیں، ’’ کسی‘‘ کی جانب سے یہ اعلان ہے کہ ’’ اس ’’ کے’’ ترکش کے تیر‘‘ ابھی ختم نہیں ہوئے، کیا ہوا اگر سائفر کی حقیقت کھل گئی، کیا ہوا اگر عدالتوں میں موجود مقدمات کمزور ہو گئے، اسیری ختم نہیں ہو گی۔

جواب دیں

Back to top button