محنت کشاں، 2026

یوم محنت کشاں، 2026
روشن لعل
شکاگو کے مزدوروں نے مئی 1886ء میں اپنے حقوق کی جدوجہد میں اپنی جانیں قربان کر کے جو تاریخ رقم کی وہ بین الاقوامی مزدور تحریک کا عظیم سرمایہ ہے۔ شکاگو کے شہیدوں کی قربانیوں کے مرہون منت یکم مئی محنت کشوں کی جدوجہد کے سفر کا اہم سنگ میل ثابت ہوا۔1886ء کے مئی میں ہونے والی مزدوروں کی جدوجہد نے مزدور تحریک کو ایک نیا موڑ دیا جس کے بعد اس جدوجہد کی وجہ سے نہ صرف محنت کشوں کے اوقات کار بلکہ حالات کار میں تبدیلی کا سفر بھی شروع ہوا۔ اس ارتقائی سفر میں رنگ، نسل، مذہب اور نام نہاد علاقائی اقدار کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مزدوروں کے حقوق کے دفاع کے لیے نہ صرف علیحدہ قوانین بلکہ علیحدہ عدالتیں بھی قائم ہوئیں۔ مزدوروں کے لیے بنائے گئے نظام قانون میں ہمیشہ بہتری کی گنجائش موجود رہی ہے ۔ مزدوروں کی جدوجہد کی وجہ سے بہتری کا سفر ہمیشہ جاری رہا ہے ۔ عالمی سطح پر اس سفر میں مزدوروں نے پیچھے ہٹنے کی بجائے ہمیشہ آگے بڑھنے کی کوشش کی ہے۔ مزدور جدوجہد کے اس بین الاقوامی سفر میں نامساعد حالات کے باوجود پاکستان کے محنت کش بھی اپنا کردار ادا کرتے رہے ہیں۔
اس دنیا میں مزدوروں کے لیے علیحدہ قوانین بنانے کا جواز اس وقت پیدا ہوا جب مزدوروں نے اپنے لیے بہتر حالات کار کا مطالبہ کرنا شروع کیا۔ مزدوروں کے مطالبات کی وجہ دراصل ان کے آجرین کی طرف سے زیادہ منافع حاصل کرنے کی کوشش میں پیداواری لاگت کم کرنے کے لیے مزدوروں کی اجرت اور بنیادی سہولتوں میں مسلسل کمی کرتے رہنا تھا ۔ کسی پیداوار ی یونٹ سے وابستہ آجر اور اجیر کے بالعکس مفادات کی وجہ سے ایسے قوانین کی تشکیل کا آغاز ہوا جو ان کے باہمی تعلق میں توازن پیدا کریں اور تنازعات نمٹا سکیں۔ اس سلسلے میں پہلی قانون سازی برطانیہ میں 1802ء میں فیکٹری ایکٹ کے نام سے کی گئی۔ برطانوی پارلیمنٹ میں بنایا گئے اس قانون کی کل 12شقیں تھیں جن میں فیکٹری مالکان کو فیکٹری میں کام کرنے والے بچوں ، عورتوں اور مردوں کے حالات کار کو ایک معیار کے مطابق رکھنے کے لیے کہا گیا اور ایسا نہ کرنے والے مالکان کے لیے جرمانے کی سزا بھی مقرر کی گئی تھی۔ جرمانہ عائد ہونے کی شقوں کے باوجود اس دور کے فیکٹری مالکان نے اس قانون کی پاسداری نہیں کی کیوں کہ اس قانون پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے کسی ادارے یا فرد کا تعین نہیں کیا گیا تھا ۔ فیکٹری مالکان نے جب اس قانون کو یکسر نظر انداز کیا تو اس کے بعد اسے ایک ناکام قانون تصور کر لیا گیا۔
گو کہ مزدوروں کے لیے بنایا گیا پہلا قانون ہی ناکام ہو گیا لیکن یہ قانون اس سلسلے میں حرف آخر ثابت نہیں ہوا بلکہ اس کے بعد مزدوروں کے مطالبات کے زیر اثر ان کے حقوق کے نام پر قانون سازی کا ایسا سلسلہ جاری ہوا جو ہنوز جاری ہے۔ برطانیہ میں آجر اور اجیر کے تعلقات کے حوالے سے 1832ء کے ماسٹر اینڈ سرونٹ ایکٹ جیسے مزدور دشمن قوانین بھی بنتے رہے جن کے مطابق مزدوروں کو اکٹھا کرنے اور انہیں یونین سازی کی ترغیب دینے والے مزدور رہنمائوں کو قید اور جرمانے کا مستحق ٹھہرا یا گیا ۔ اس کے علاوہ 1970ء میں بنائے گئے مساوی اجرت (Equal pay)ایکٹ جیسے قوانین بھی سامنے آتے ہے جنہیں مزدوروں کے حقوق کے عین مطابق سمجھا جاتا ہے۔
برطانیہ میں مزدوروں کے لیے ہونے والی قانوں سازی کا اثر دوسرے ممالک پر بھی پڑا ۔ برطانیہ کے بعد جرمنی دوسرا ملک تھا جہاں 1878ء میں مزدوروں کے لیے قانون سازی کا آغاز ہوا ۔ فرانس میں اس سلسلے کی پہلی قانون سازی والڈ روسو لاء کے نام سے 1884ء میں ہوئی ۔ امریکہ میں مئی 1886ء کے شکاگو کے واقعات کے بعد مزدوروں کے حالات تبدیل ہونا شروع ہوئے جس کے بعد 1912ء میں پہلی مرتبہ مزدوروں کے لیے دن میں آٹھ گھنٹے کے کام کے اوقات کو تسلیم کیا گیا۔
سال 1802ء میں مزدوروں کے لیے برطانیہ سے شروع ہونے والا قانون سازی کا عمل کبھی ٹھہرائو کا شکار نہیں ہوا بلکہ ہر نئے آنے والے دور کے مطابق اس کا ارتقائی سفر ہنوز جاری ہے۔ اپنے ارتقائی سفر میں مزدوروں کے لیے بنائے گئے قوانین اب کئی شعبوں پر محیط ہیں ۔ تقریباً ہر ملک میں، مستقل اور عارضی یا کنٹریکٹ ملازمین کے لیے الگ الگ قانون بنائے گئے اس کے علاوہ کم سے کم اجرت ، کام کے اوقات کی حد ، اوور ٹائم ، اوور ٹائم کے اوقات کی حد ، ہیلتھ اینڈ سیفٹی، انشورنس، اولڈ ایج بینیفٹ، غیر امتیازی رویہ، ملازمت سے برخواستگی، یونین سازی کا حق اور ہڑتال کا حق وغیرہ کے لیے بھی علیحدہ قوانین موجود ہیں، جن میں مزدوروں کے مطالبات اور وقت کی ضرورتوں کے مطابق تبدیلیاں اور ترامیم ہوتی رہتی ہیں۔
پاکستان سمیت دنیا کے تقریباً تمام ملکوں کے عدالتی نظام میں مزدوروں کی عدالتیں بھی اہم یونٹ کے طور موجود ہیں۔ کسی بھی ملک میں رائج عدالتی نظام کی بنیاد اس ملک کا آئین فراہم کرتا ہے۔ اگر کسی ملک میں اس کے عدالتی نظام پر عدم اعتماد کا اظہار شروع ہو جائے تو اسے دستور پر عدم اعتماد بھی تصور کیا جاتا ہے۔ اس وقت دنیا میں موجود کسی بھی قانون کی تشکیل اور عدالت کے قیام کے لیے اتنی جدوجہد نہیں کی گئی ہوگی جتنی جدوجہد مزدوروں نے اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے بنائے جانے والے قوانین کے لیے کی ۔قیام پاکستان کے بعد ہمارے ہاں، بمبئی میں رائج لیبر قوانین کو ماڈل کے طورپر اپنایا گیا ۔ اس کے بعد پاکستان میں مختلف حکومتوں کی تیار کردہ لیبر پالیسیوں کا نفاذ ہوتا رہا ۔ یہاں سب سے پہلی لیبر پالیسی 1955ء میں نافذ ہوئی جس کے بعد1972ء ،1969ئ،1959ء اور 2002ء کے بعد چھٹی لیبر پالیسی مئی 2008ء میں نافذ کی گئی۔ پاکستان میں اٹھارویں ترمیم کی منظوری کے بعد محنت کا شعبہ وفاق سے صوبوں کو منتقل کر دیا گیا۔ موجودہ صورتحال یہ ہے ملک میں لیبر کوڈ 2024کے نام سے تیار کیے گئے ایک مسودہ کو انیس ، بیس کے فرق کے ساتھ صوبوں میں نافذ کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ لیبر کوڈ 2024نافذ کرتے ہوئے یہاں محنت کشوں کے جذبات اور تحفظات کو کس قدر کم اہم سمجھا جا رہا ہے ، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس کے نفاذ کے سلسلے میں محنت کشوں کی سفارشات کو کوئی اہمیت نہیں دی جارہی۔ مذکورہ لیبر کوڈ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے تقریباً تمام مزدور تنظیمیں اسے مسترد کر چکی ہیں لیکن میڈیا میں کہیں بھی اس بات کا ذکر سننے اور دیکھنے کو نہیں ملتا۔وطن عزیز میں مزدوروں کے معاملات سے لاتعلقی کے مظاہر جس طرح اب دیکھنے میں آرہے ہیں ماضی میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ عالمی اور مقامی سطح پر مزدوروں کے لیے ہمیشہ اس وقت قانون سازی کی گئی جب مزدور تنظیموں نے کسی تحریک کی دوران اس کا مطالبہ کیا۔ ماضی میں مزدورں کے لیے کی گئی قانون سازی کے دوران چاہے ان کی تمام خواہشات کو ملحوظ خاطر نہ رکھا گیا ہو لیکن شاید ہی ایسی کوئی مثال ہو کہ ان کا اعتماد حاصل کرنے کی کوششیں کیے بغیر ان پر کوئی قانون مسلط کیا جارہا ہو۔







