
ایران کے نائب وزیرِ دفاع بریگیڈیئر جنرل رضا طلائی نیک نے کہا ہے کہ امریکہ اب اس پوزیشن میں نہیں رہا کہ وہ آزاد ممالک پر اپنی پالیسیاں مسلط کر سکے، اور یہ حقیقت ایران کی عوام اور مسلح افواج کی مزاحمت کے باعث دنیا پر واضح ہو چکی ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے دفاع کے اجلاس میں شرکت کے موقع پر انہوں نے کہا کہ امریکہ کو بالآخر اپنے ’غیر قانونی اور غیر معقول مطالبات‘ ترک کرنا ہوں گے۔ ان کا مؤقف تھا کہ عالمی سطح پر امریکہ اور اسرائیل کو ریاستی دہشت گردی کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
رضا طلائی نیک نے الزام عائد کیا کہ حالیہ تنازعات کے دوران ہونے والی ہلاکتوں، خصوصاً شہریوں اور بچوں کی اموات، نے مغربی دنیا کے دعوؤں کی ساکھ کو متاثر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنے دفاعی تجربات اور صلاحیتیں دیگر ممالک، خاص طور پر ایس سی او کے رکن ممالک کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ جنگ کے دوران ایران نے خطے میں امریکی اور اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنایا اور اپنی فضائی حدود کے دفاع کا عملی مظاہرہ کیا۔ ان کے مطابق یہ تجربات اب دیگر اتحادی ممالک کے ساتھ بھی شیئر کیے جا سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد جنگ بندی تو ہو چکی ہے، تاہم طویل المدتی حل کے لیے جاری سفارتی کوششیں تاحال تعطل کا شکار ہیں۔







