تازہ ترینخبریںدنیاسپورٹسپاکستان

پی ایس ایل میں کروڑوں میں بکنے والے کھلاڑی جن کی پرفارمنس شرمناک رہی

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) سیزن 11 کے لیگ مرحلے کا اختتام ہو گیا ہے اور اب ملتان سلطانز، حیدر آباد کنگز مین، پشاور زلمی اور اسلام آباد یونائیٹڈ پلے آف مرحلے میں ٹکرائیں گی۔ اس سیزن نے جہاں سنسنی خیز مقابلے پیش کیے، وہیں کئی مہنگے کھلاڑی توقعات پر پورا نہ اتر سکے جبکہ کچھ نسبتاً کم قیمت کھلاڑی غیر معمولی کارکردگی دکھا کر نمایاں رہے۔

حیدر آباد کنگز مین کی جانب سے 12 کروڑ 60 لاکھ روپے میں خریدے گئے اوپنر صائم ایوب پورے ٹورنامنٹ میں فارم بحال نہ کر سکے اور 10 میچز میں صرف 151 رنز بنا پائے۔ اسی طرح اسلام آباد یونائیٹڈ کے فہیم اشرف، جنہیں آٹھ کروڑ روپے میں خریدا گیا تھا، نہ بیٹنگ میں متاثر کر سکے اور نہ ہی باؤلنگ میں نمایاں کارکردگی دکھا سکے۔ انہوں نے نو میچز میں صرف سات وکٹیں حاصل کیں جبکہ بیٹنگ میں 53 رنز تک محدود رہے۔

راولپنڈی کی جانب سے پانچ کروڑ 40 لاکھ روپے میں شامل کیے گئے محمد عامر بھی خاص تاثر نہ چھوڑ سکے اور 10 میچز میں صرف 12 وکٹیں حاصل کر سکے۔ آخری لیگ میچ میں ان کی مہنگی باؤلنگ بھی تنقید کا باعث بنی۔

دوسری جانب ملتان سلطانز کے صاحبزادہ فرحان اس سیزن کے نمایاں کھلاڑیوں میں شامل رہے، جنہوں نے پانچ کروڑ 70 لاکھ روپے کی قیمت کے باوجود شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے نو میچز میں 365 رنز بنائے، جن میں ایک سنچری اور دو نصف سنچریاں شامل تھیں۔

لاہور قلندرز کے فخر زمان نے بھی بیٹنگ میں عمدہ کارکردگی دکھائی اور آٹھ میچز میں 401 رنز اسکور کیے، تاہم ان کی ٹیم پلے آف تک رسائی حاصل نہ کر سکی۔

پشاور زلمی کے کپتان بابر اعظم کے لیے یہ سیزن کم بیک ثابت ہوا۔ انہوں نے نو اننگز میں ایک سنچری اور تین نصف سنچریوں کی مدد سے 485 رنز بنائے اور اپنی ٹیم کو لیگ مرحلے میں سرفہرست رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔

مجموعی طور پر پی ایس ایل 11 نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا کہ صرف مہنگے کھلاڑی ہی کامیابی کی ضمانت نہیں ہوتے بلکہ فارم، تسلسل اور ٹیم ورک ہی اصل فرق پیدا کرتے ہیں، جس کا فیصلہ اب پلے آف مرحلے میں ہوگا۔

جواب دیں

Back to top button