
قطر نے آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش یا اسے دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات عالمی توانائی کے تحفظ کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔
قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ قطر کسی بھی قسم کی دھمکی یا بندش کو قبول نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز کو سودے بازی کے آلے کے طور پر استعمال کرنا غیر ذمہ دارانہ طرز عمل ہوگا جس کے عالمی سطح پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
ماجد الانصاری نے اس موقع پر پاکستان کے کردار کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے میں ثالثی کے حوالے سے بہترین کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قطر اس کوشش کی مکمل حمایت کرتا ہے اور اس معاملے پر علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ قطر پاکستان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانے کے لیے تعاون جاری رکھے گا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مذاکرات کا دائرہ غیر ضروری طور پر وسیع کرنے کے بجائے پرامن اور سفارتی حل پر توجہ مرکوز رکھنی چاہیے۔
لبنان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے قطری ترجمان نے کہا کہ ان کا ملک لبنان اور اس کی مسلح افواج کی حمایت جاری رکھے گا، جبکہ بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ پانچ رکنی کمیٹی کے فریم ورک کے تحت رابطہ اور ہم آہنگی بھی برقرار ہے۔







