Column

مصنوعی ذہانت (AI): انسان کا مددگار یا مستقبل کا خطرہ؟

مصنوعی ذہانت (AI): انسان کا مددگار یا مستقبل کا خطرہ؟
ثناء اللہ مجیدی
آج کا دور علم و ہنر، تحقیق و ایجاد اور حیرت انگیز سائنسی ترقی کا دور ہے۔ انسان نے اپنی فکری صلاحیتوں، تجربات اور مسلسل جستجو کے ذریعے ایسے ایسے میدان فتح کیے ہیں جن کا تصور ماضی میں محض ایک خواب تھا۔ انہی ترقیات میں سب سے زیادہ نمایاں اور دور رس اثرات رکھنے والی ایجاد مصنوعی ذہانت ہے۔ یہ ایک ایسی ٹیکنالوجی ہے جو مشینوں اور کمپیوٹر نظاموں کو انسانی طرزِ فکر، سیکھنے، سمجھنے اور فیصلے کرنے کی صلاحیت فراہم کرتی ہے۔ یہ سوال آج ہر باشعور انسان کی ذہن میں گردش کرتا ہے کہ آیا یہ ترقی انسان کے لیے حقیقی معنوں میں فائدہ مند ہے یا پھر مستقبل میں ایک ایسا چیلنج بن سکتی ہے جو انسان کی اپنی حیثیت کو متاثر کر دے؟ اگر ہم موجودہ دور کا مشاہدہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی انسانی زندگی کے ہر شعبے میں اپنی جگہ بنا چکی ہے۔ گھر سے لے کر دفاتر تک، تعلیمی اداروں سے لے کر اسپتالوں تک اور تجارت سے لے کر صنعت تک ہر جگہ اس کے اثرات نمایاں ہیں۔ آج بیماریوں کی تشخیص پہلے کے مقابلے میں زیادہ تیز اور درست ہو چکی ہے۔ پیچیدہ امراض کی نشاندہی میں وہ مدد حاصل ہو رہی ہی جو پہلے صرف ماہر ڈاکٹروں کے طویل تجربے سے ممکن تھی۔ اسی طرح تعلیمی میدان میں ہر طالب علم کی ذہنی سطح کے مطابق سیکھنے کے نئے طریقے سامنے آئے ہیں، جو تعلیم کو زیادہ موثر بنا رہے ہیں۔ کاروباری دنیا میں بھی یہ نظام ایک انقلاب سے کم نہیں۔ بڑے بڑے ادارے اب لاکھوں کروڑوں معلومات کو لمحوں میں پرکھ کر ایسے فیصلے کرتے ہیں جو پہلے دنوں اور ہفتوں میں بھی مشکل تھے۔ صنعتی میدان میں خودکار مشینیں انسانی محنت کو آسان بنا رہی ہیں اور خطرناک کاموں کو اپنے ذمے لے رہی ہیں۔ اس سے انسانی جانوں کا تحفظ بھی ممکن ہو رہا ہے اور پیداوار میں اضافہ بھی ہو رہا ہے۔
تاہم ہر روشن پہلو کے ساتھ کچھ تاریک پہلو بھی ضرور ہوتے ہیں۔ جیسے جیسے یہ ٹیکنالوجی ترقی کر رہی ہے، ویسے ویسے کچھ خدشات بھی جنم لے رہے ہیں۔ سب سے بڑا خدشہ روزگار کے مواقع کا کم ہونا ہے۔ بہت سے ایسے کام جو پہلے انسان انجام دیتا تھا، اب مشینیں زیادہ تیزی اور کم لاگت میں کر رہی ہیں۔ اگر یہ سلسلہ اسی رفتار سے جاری رہا تو مستقبل میں کئی شعبوں میں انسانی محنت کی ضرورت کم ہو سکتی ہے، جس سے معاشرتی مسائل پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔دوسرا بڑا مسئلہ انسان کا مشینوں پر حد سے زیادہ انحصار ہے۔ اگر انسان ہر کام کے لیے مشینوں کا محتاج ہو جائے تو اس کی اپنی سوچنے سمجھنے اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔ انسانی ذہن کی اصل خوبصورتی اس کی تخلیقی سوچ اور آزاد فکر میں ہے، لیکن اگر یہ صلاحیتیں کمزور ہو جائیں تو انسان محض ایک نظام کا تابع بن کر رہ جائے گا۔اسی طرح ذاتی معلومات کا تحفظ بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ آج مختلف نظام انسانی رویوں، عادات اور دلچسپیوں کو ریکارڈ کرتے ہیں۔ اگر یہ معلومات محفوظ نہ رہیں تو ان کا غلط استعمال بھی ممکن ہے، جو انسان کی نجی زندگی کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ صورتحال اعتماد اور تحفظ دونوں کو متاثر کرتی ہے۔ اخلاقی پہلو بھی انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ مشینوں کے پاس نہ احساس ہوتا ہے، نہ ضمیر اور نہ ہی اخلاقی شعور۔ وہ صرف دیے گئے ڈیٹا اور ہدایات کے مطابق کام کرتی ہیں۔ اگر انہیں غلط یا متعصب معلومات فراہم کی جائیں تو ان کے فیصلے بھی غلط ہو سکتے ہیں۔ اس سے معاشرے میں انصاف اور توازن متاثر ہو سکتا ہے۔ انسان کی حیثیت اس کائنات میں محض ایک مادی وجود کی نہیں بلکہ ایک ذمہ دار اور باشعور مخلوق کی ہے۔ اسے عقل، شعور، احساس اور اخلاقی معیار عطا کیے گئے ہیں۔ یہی وہ خصوصیات ہیں جو اسے دیگر مخلوقات سے ممتاز کرتی ہیں۔ اگر انسان اپنی ان خصوصیات کو ٹیکنالوجی کے سپرد کر دے تو اس کی انفرادی اور اجتماعی شناخت متاثر ہو سکتی ہے۔ اسلامی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو ہر نئی ایجاد بذات خود نہ اچھی ہوتی ہے اور نہ بری۔ اس کا حسن یا قبح اس کے استعمال میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ اگر کوئی چیز انسانیت کی بھلائی، علم کے فروغ اور معاشرتی بہتری کے لیے استعمال کی جائے تو وہ نعمت بن جاتی ہے، اور اگر اسی کو ظلم، فساد اور نقصان کے لیے استعمال کیا جائے تو وہی چیز عذاب بن سکتی ہے۔ یہی اصول اس جدید ٹیکنالوجی پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ انسان اس نظام کو سمجھداری، توازن اور اخلاقی اصولوں کے ساتھ استعمال کرے۔ ترقی کا راستہ روکنا ممکن نہیں، لیکن اس ترقی کو صحیح سمت دینا انسان کی ذمہ داری ہے۔ اگر ہم اپنی آئندہ نسلوں کو صرف ٹیکنالوجی کے استعمال کا ماہر بنائیں لیکن اخلاق، دیانت اور انسانیت سے خالی چھوڑ دیں تو یہ ترقی فائدے کے بجائے نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔تعلیمی اداروں، سائنسی مراکز اور حکومتی سطح پر اس بات کی ضرورت ہے کہ اس نظام کے مثبت استعمال کو فروغ دیا جائے اور اس کے منفی اثرات سے بچنے کے لیے واضح اصول وضع کیے جائیں۔ ساتھ ہی عام انسان کو بھی یہ شعور دیا جائے کہ وہ ٹیکنالوجی کا غلام نہ بنے بلکہ اسے اپنے تابع رکھے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایجاد ایک طاقت ہے، اور ہر طاقت کا دار و مدار اس کے استعمال پر ہوتا ہے۔ اگر اسے حکمت، اعتدال اور انسانیت کے فائدے کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ ترقی کی معراج تک پہنچا سکتی ہے۔ لیکن اگر اس میں بے احتیاطی برتی جائے تو یہی طاقت انسان کے لیے خطرے کی علامت بھی بن سکتی ہے۔
آخر میں یہ بات واضح طور پر کہی جا سکتی ہے کہ اس ٹیکنالوجی کا مستقبل انسان کے اپنے فیصلوں اور رویوں پر منحصر ہے۔ اگر انسان اپنی فکری بالیدگی، اخلاقی اصولوں اور شعوری ذمہ داری کو برقرار رکھے تو یہ دور انسانیت کے سنہرے مستقبل کی نوید بن سکتا ہے، ورنہ یہی ترقی ایک نئی آزمائش کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔

جواب دیں

Back to top button