ColumnQadir Khan

آبنائے ہرمز کی مکمل ناکہ بندی کا سراب

آبنائے ہرمز کی مکمل ناکہ بندی کا سراب

قادر خان یوسف زئی

عالمی سیاست کی بساط پر مشرقِ وسطیٰ ہمیشہ سے ایک ایسا آتش فشاں رہا ہے جس کی راکھ سے نت نئے بحران جنم لیتے ہیں۔ فروری 2026ء میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان شروع ہونے والی کھلی جنگ نے اس خطے کو ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے، لیکن اس بار جنگ کا سب سے خطرناک اور فیصلہ کن محاذ کوئی شہر یا زمینی سرحد نہیں بلکہ سمندر کا وہ تنگ سینہ ہے جسے دنیا آبنائے ہرمز کے نام سے جانتی ہے۔ اس انتہائی اہم آبی گزرگاہ پر کنٹرول کے حوالے سے دعوے جتنے بلند آہنگ ہیں، زمینی حقائق اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ، متضاد اور تشویشناک ہیں۔ واشنگٹن اور تہران دونوں ہی اس خطے میں اپنی اپنی مطلق بالادستی کے دعوے کر رہے ہیں، لیکن 22اپریل 2026ء کو پیش آنے والے پرتشدد واقعات نے ان سفارتی اور عسکری دعوں کی قلعی کھول دی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

بدھ کے روز آبنائے ہرمز اور اس کے ملحقہ پانیوں میں کم از کم تین تجارتی کنٹینر جہازوں پر ایرانی فورسز کی جانب سے براہ راست فائرنگ کی گئی۔ یہ حملے ایک ایسے نازک وقت میں ہوئے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے خطے میں جاری جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا جا چکا تھا اور سفارتی حلقوں میں کسی حد تک امید کی کرن پیدا ہوئی تھی۔ برطانوی میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی ( یو کے ایم ٹی او) اور دیگر مصدقہ ذرائع کے مطابق، لائبیریا کے پرچم بردار اور ایک یونانی کمپنی کے زیرِ انتظام چلنے والے جہاز ’’ ایپامینونڈاس‘‘ کو عمان کے شمال مشرق میں پاسداران انقلاب ( آئی آر جی سی) کی ایک گن بوٹ نے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں جہاز کے پل اور ٹرٹ کو شدید نقصان پہنچا۔ اس واقعے کا سب سے حیرت انگیز اور تشویشناک پہلو یہ ہے کہ جہاز کے کپتان کے مطابق اسے ابتدائی طور پر آبنائے سے گزرنے کی باقاعدہ اجازت دی گئی تھی، لیکن پھر بغیر کسی پیشگی ریڈیو انتباہ کے اس پر راکٹ پروپیلڈ گرنیڈ ( آر پی جی) اور چھوٹے ہتھیاروں سے اچانک حملہ کر دیا گیا۔ اسی تسلسل میں ایک اور لائبیرین جہاز ’’ ایم ایس سی فرانسسکا ‘‘ اور ایک پانامانی جہاز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد ایرانی فورسز نے قواعد کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے دو جہازوں کو قبضے میں لینے کا دعویٰ بھی کیا۔ ان واقعات نے عالمی مبصرین کو اس بنیادی سوال پر غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کیا واقعی آبنائے ہرمز دنیا کے لیے مکمل طور پر بند ہو چکی ہے، یا یہ محض ایک وسیع تر سفارتی اور نفسیاتی جنگ کا حصہ ہے؟۔

امریکی سیاسی و عسکری انتظامیہ کا مستقل دعویٰ ہے کہ انہوں نے ایرانی بندرگاہوں کی مکمل ناکہ بندی کر دی ہے اور ایران کی سمندری تجارتی سرگرمیوں کو حرفِ غلط کی طرح مٹا دیا ہے۔ تاہم، یہ دعویٰ زمینی حقائق کی روشنی میں واضح مبالغہ آرائی پر مبنی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکی بحریہ نے خلیج عمان میں ایک موثر ’’ بلاکڈ لائن‘‘ ضرور قائم کی ہے اور کئی جہازوں کو روکا بھی ہے، لیکن یہ ناکہ بندی کسی طور بھی ناقابلِ تسخیر نہیں ہے۔ ایک حالیہ مستند رپورٹ کے مطابق، کم از کم 34ایران سے منسلک ٹینکرز اس امریکی ناکہ بندی کو انتہائی کامیابی کے ساتھ بائی پاس کر چکے ہیں۔ ان میں سے کئی جہاز لاکھوں بیرل خام تیل لے کر بحفاظت نکلنے میں کامیاب ہوئے، جو اس امر کا ناقابلِ تردید ثبوت ہے کہ ایران کی ’’ تاریک جہاز رانی‘‘ ( ڈارک فلیٹ) کی جدید حکمت عملی نہایت موثر انداز میں کام کر رہی ہے۔ یہ جہاز اپنا خودکار شناختی نظام ( اے آئی ایس) بند کر کے اور جعلی لوکیشنز ( سپوفنگ) ظاہر کر کے امریکی بحریہ کی جدید ترین ٹیکنالوجی کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں تاکہ چین جیسے بڑے خریداروں تک تیل کی بلاتعطل ترسیل کو یقینی بنایا جا سکے۔

دوسری جانب، ایرانی دعوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو ان میں بھی شدید تضادات اور مبالغہ آرائی نمایاں ہے۔کہ کیا ایران نے واقعی آبنائے ہرمز کو پوری دنیا کے لیے بند کر دیا ہے؟ اس کا جواب بھی قطعی نفی میں ہے۔ آئی آر جی سی نے دراصل ایک مخصوص اور انتہائی سخت ٹرانزٹ نظام قائم کیا ہے جو بظاہر ایک ریاستی سرپرستی میں چلنے والے نظام پروٹیکشن ریکٹ کی طرح کام کر رہا ہے۔ وہ جہاز جو امریکی پابندیوں کی پرواہ نہیں کرتے، جو ایران کے اتحادیوں سے منسلک ہیں، یا جو بھاری مالی مراعات فراہم کرتے ہیں، انہیں بحفاظت گزرنے دیا جا رہا ہے۔ ایران کی یہ بحری حکمت عملی بھی دراصل انتہائی منتخب اور سٹریٹجک ہے۔ اس کی سب سے واضح مثال اس وقت سامنے آئی جب 18 اپریل کو بھارتی جہازوں پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا، تو نئی دہلی کے فوری اور سخت سفارتی احتجاج کے بعد ایران نے اپنا رویہ نرم کرتے ہوئے 10 بھارتی جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کر دیا۔

اس ساری جیو پولیٹیکل کھینچا تانی کا سب سے تاریک پہلو وہ تباہ کن عالمی معاشی بحران ہے جو اس تنازعے کے بطن سے جنم لے رہا ہے۔ آبنائے ہرمز کی جزوی بندش اور مسلسل کشیدگی کی وجہ سے عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں اور شدید بے یقینی کی کیفیت طاری ہے۔ اس وقت سینکڑوں تجارتی جہاز اور ان پر سوار ہزاروں ملاح خلیج فارس میں محصور ہیں، جن کی زندگیاں روزمرہ کی بنیاد پر دا پر لگی ہوئی ہیں۔ عالمی برادری کا نمائندہ ادارہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اس انتہائی حساس معاملے پر بڑی طاقتوں کے مفادات کے تصادم کی وجہ سے مکمل طور پر مفلوج ہو چکی ہے۔ یہ بحران اب صرف واشنگٹن اور تہران کے درمیان طاقت کی کشمکش نہیں رہا، بلکہ یہ بین الاقوامی سمندری قوانین، آزادانہ تجارت اور عالمی سپلائی چین کے لیے ایک ایسا سنگین خطرہ بن چکا ہے جس کی اثرات دہائیوں تک محسوس کیے جائیں گے۔

آبنائے ہرمز اس وقت ایک ایسے پیچیدہ اور خطرناک ’’ گرے زون‘‘ میں تبدیل ہو چکی ہے جہاں نہ تو امریکہ کا مکمل اور ناقابلِ تسخیر کنٹرول ہے اور نہ ہی ایران کا مطلق اور یکطرفہ اختیار۔ دونوں ممالک اپنے اپنے ملکی، سیاسی اور سٹریٹجک مقاصد کے حصول کے لیے بیانیے کی ایک شدید جنگ لڑ رہے ہیں اور عسکری حقائق کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں۔ کشیدگی اور دعوئوں کے باوجود تجارتی جہازوں کی مسلسل مگر محدود آمدورفت اس امر کا ناقابلِ تردید ثبوت ہے کہ معاشی مفادات اور ریاستی بقا کی اس سرد جنگ میں دعوے اور دھمکیاں محض سیاسی اور نفسیاتی کھپت کے لیے ہوتے ہیں، جبکہ اصل طاقت ان خاموش اور پوشیدہ راستوں میں پنہاں ہے جو خطرات کے باوجود عالمی تجارت کی بنیادی شریانوں کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ جب تک اس تنازع کا کوئی جامع اور پائیدار سفارتی حل تلاش نہیں کیا جاتا، یہ حساس خطہ بارود کے ڈھیر پر بیٹھا رہے گا اور عالمی معیشت یونہی ہچکولے کھاتی رہے گی۔

جواب دیں

Back to top button