محمد مبشر انوار

کرن
محمد مبشر انوار
اسلام آباد میں سجی امن مذاکرات کی میز پر سے ایک طرف فریقین مثبت پیش رفت کی نویدیں سنا رہے ہیں تو دوسری طرف مشرق وسطیٰ میں آگ کے شعلے ایک بار پھر بلند ہوتے دکھائی دے رہے ہیں کہ امریکی صدر ٹرمپ،میدان جنگ کی ناکامی و سبکی کو ہر صورت مٹانا چاہتے ہیں۔ اس مقصد کے لئے وہ نہ صرف یکطرفہ طور پر ایران کو شکست دینے کے دعوے کرتے دکھائی دیتے ہیں بلکہ اپنے ان اتحادیوں کو دعوت دے رہے ہیں کہ اس جنگ میں،جو بقول ان کے وہ جیت چکے ہیں،کے ثمرات سمیٹنے کے لئے ان کے ساتھ شامل ہو جائیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ایران جو جنگ میں نہیں ہارا،وہ مذاکرات کی میز پر کیسے ہار سکتا تھا ؟البتہ شنید یہ ہے کہ ایران کی جانب سے کئی ایک معاملات پر لچک اور نیک نیتی دکھائی گئی کہ کسی طرح خطے میں امن کو بحال کیا جا سکے لیکن امریکہ کی جانب سے مسلسل ایک ہی رٹ ابھی تک لگائی جا رہی ہے کہ ایران کو کسی بھی صورت ایٹمی ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جائیگی اور دوسرا ایران اپنا افزودہ شدہ یورینیم ،آئی اے ای اے کے حوالے کرے ،اس سے کم کسی بھی صورت ایران سے بات نہیں ہو سکتی اور نہ ہی کوئی معاہدہ طے پا سکتا ہے۔ ایران، چار دہائیوں سے زائد پابندیوں کے باوجود ، نہ ٹوٹا ہے اور نہ ہی ایسا کوئی سمجھوتہ کیا ہے ،جب اس پر جنگ کے علاوہ شدید معاشی دبائو تھا اور جنگ کا خطرہ ہمہ وقت اس کے اعصاب پر سوار رہا،تو اب جبکہ میدان جنگ بھی سج چکا اور ایران نے واضح طور پر امریکہ و اسرائیل کو شکست دے دی ہے، کس طرح اس سمجھوتے پر تیار ہو جائے؟ابھی تک کی روایتی جنگ میں ایران کی جانب سے جس ثابت قدمی اور اولوالعزمی کا مظاہرہ کیا گیا ہے، جس بہادری و جواں مردی سے جنگ لڑی گئی ہے،جس حوصلے اورصبر سے اپنی قیادت و انفراسٹرکچر کا نقصان برداشت کیا گیا ہے،اس کے بعد تو بعید ازقیاس دکھائی دیتا ہے کہ ایران ایسی شرمناک شرائط کو قبول کرے البتہ یہ حقیقت اپنی جگہ ہنوز قائم ہے کہ امریکہ کی جانب اگر غیر روایتی جنگ مسلط کی جاتی ہے،جس کا امکان بہرحال موجود ہے کہ امریکی صدر سے کچھ بھی بعید ہے،اس کے بعد اگر امریکہ یہ دعوی کرتا ہے کہ اس نے ایران کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے،تو اس وقت صورتحال دیکھ کر کوئی بات کی جاسکتی ہے بشرطیکہ اس وقت تک ہم اس قابل ہوئے کہ غیر روایتی ہتھیاروں کے مابعد اثرات سے محفوظ رہ پائے۔ تاہم ماضی کے غیر روایتی ہتھیاروں کے استعمال کے بعد،اس کا امکان بہرطور قدرے کم ہے کہ امریکہ ایسے غیر روایتی ہتھیاروں کااستعمال کرے کہ ان ہتھیاروں کی تباہ کاریوں سے صرف ایران اکیلا متاثر نہیں ہو گا بلکہ ایرانی دعوے کے مطابق پورا خطہ اس کی لپیٹ میں آئے گا اوریہاں زندگی طویل عرصے تک نا پید ہو جائیگی۔ ایران کسی بھی صورت،اسرائیل کہ جس کی خاطر امریکہ اس حد تک جا چکا ہے،جوابی کارروائی کئے بغیر نہیں رکے گا اور معاملات پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے،جو شدید ترین تباہی کی صورت ہو گا۔ سوال مگر یہ ہے کہ بطور ریاست ایران کو یہ حق حاصل ہے کہ اپنی سول ضروریات و دفاع کے لئے وہ تمام اقدامات کرے،جو اس کی بقا کی ضمانت ہوں اور ایران کو خطے میں مستقلا اسرائیل جیسی ناجائز ریاست ،جس کے توسیع پسندانہ عزائم پوری طرح عیاں ہیں اور جس کی مخاصمت ایران کے ساتھ روز روشن کی طرح عیاں ہے،کیسے اور کیونکر امریکہ محروم رکھ سکتا ہے؟کیا ایک عالمی طاقت کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ اس طرح کی جانبداری وتعصب کا مظاہرہ کرتے ہوئے،ایک ریاست کو بے دست و پا کرکے ،ایک درندے کی صوابدید پر چھوڑ دے؟یا ایک عالمی طاقت کو وہ تمام معروضی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے،منصفانہ طریقے سے یا ناجائز ریاست کی حدود وقیود متعین کرنی چاہئے یا ہر ریاست کو اپنے دفاع کا حق دینا چاہئے اور اس کی کاوشوں کو بغیر کسی قدغن کے جاری رہنے دینا چاہئے؟درحقیقت امریکہ کی یہی ناانصافی ہے،جس نے اسے آج دنیا بھر میں غیر مقبول کردیا ہے ،ایک طرف امریکہ خلیجی ممالک کو بلاوجہ ایران سے ڈراکر اپنے زیر دست رکھتا رہا ہے او ران کے وسائل کو لوٹتا کھسوٹتا رہا ہے تو دوسری طرف اپنے پرانے حلیفوں کے ساتھ ہتک آمیز روئیے نے اسے ان سے بھی دور کردیا ہے،یہی وجہ ہے کہ آج نیٹو ممالک بھی بلاوجہ امریکہ کی ہاں میں ہاں ملانے سے گریزاں اور اس سے الگ ہوناچاہ رہے ہیں۔ اس ساری مشق میں،ٹرمپ کی کاوشوں کو خصوصی سلام کہ ٹرمپ کی شخصیت ہی وہ واحد شخصیت ہے،جو عالمی برادری کو ،امریکی دہرے کردار سے اس کھلے طریقے سے آشنا کرسکتی تھی،علاوہ ازیں! ٹرمپ کی غیر سفارتی زبان نے ان دراڑوں کو مزید گہرا کرنے میں خصوصی کردار ادا کیا ہے۔
بہرحال مشرق وسطیٰ میں ،اپنی ہزیمت کو چھپانے کے لئے،امریکہ جس طرح جنگ بندی کا متلاشی تھا اور جس سرعت کے ساتھ پاکستانی وزیر اعظم کی جنگ بندی درخواست پر،ٹرمپ نے اسے قبول کیا،وہ امریکی ہزیمت کا منہ بولتا ثبوت ہے،اب ٹرمپ خواہ جو مرضی کہے کہ وزیراعظم کی ایک چھوٹی سی حماقت سے سب آشکار ہو چکا اور میڈیا کا حصہ بن چکا ہے،لہذا ٹرمپ کا یہ کہنا کہ جنگ بندی ایران کی خواہش تھی،سفید جھوٹ کے علاوہ کچھ نہیں۔بہرحال اس کے باوجود ،خوش آئند بات یہی ہے کہ خطے فی الوقت ،جنگ بندی کے باعث مزید جلنے سے بچا ہوا ہے گو کہ ٹرمپ و نیتن یاہو کی تمام تر مذموم کاوشیں بری طرح ناکام ہو چکی اور خلیجی ممالک اس جنگ میں براہ راست اترنے اور اپنے وسائل کو جھونکنے سے ،انتہائی تدبر و دانشمندی کے ساتھ،باز رہے کہ انہیں ماضی کے حوالے سے بخوبی علم ہے کہ امریکہ و اسرائیل کو ان ممالک کی ترقی و خوشحالی کسی صورت قبول نہیں اور وہ درپردہ،ان ممالک کو جنگ میں دھکیل کر،ان کی ترقی کو ملیا میٹ کرنا چاہتے ہیں۔مذاکرات میں ،اپنی خواہشات تسلیم نہ کئے جانے پر،عالمی برادری میں اپنی ساکھ کھونے پر،دنیا کو یہ دکھانے کی خاطر کہ امریکہ ابھی بھی بڑی طاقت ہے،جنگ بندی کے باوجود امریکہ نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا اعلان کیا اور کہا کہ امریکہ کسی بھی ایسے تیل بردار جہاز کو ،جو ایران کو ٹول ٹیکس ادا کرکے نکلے گا،گزرنے کی اجازت نہیں دے گالیکن بدقسمتی سے،امریکہ اپنی اس خواہش کو پورا کرنے میں بری طرح ناکام رہا ہے ۔ چین کی بیشتر تجارت چونکہ ایران کے ساتھ ہوتی ہے اور چین اپنی توانائی کی بیشتر ضروریات ایران سے حاصل کرتا ہے،علازہ ازیں ایران چین کا سٹریٹجک پارٹنر بھی ہے،اس لئے چین نے انتہائی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے، دنیا پر بالعموم جبکہ امریکہ کو بالخصوص متنبہ کیا کہ چین کے معاملات میں مداخلت نہ کی جائے ،اور اس سخت تنبیہ کے بعد چین اس ناکہ بندی کے باوجود اپنا جہاز بآسانی آبنائے ہرمز اور کھلے پانیوں سے گزار کر امریکی ناکہ بندی کو ناکام کر چکا ہے۔ اس کے بعد امریکہ کے پاس یہ جواز قطعا نہیں رہتا کہ وہ کسی اور ملک کے جہاز ،جو آبنائے ہرمز سے نکلا ہو،کھلے پانیوں میں روکے۔ تاہم امریکہ اس ناکامی کے بعد،مزید سیخ پا ہو چکا ہے اور ٹرمپ نے ایرانی بندرگاہوں کو نشانہ بنانے کا اعلان بھی کیا ہے مگر ابھی بھی امریکی بحری بیڑے،ایرانی میزائلوں کی رینج سے کہیں باہر کھڑے ہیں جبکہ ایران نے اس دھمکی کو پرکاہ کی حیثیت بھی نہیں دی بلکہ الٹا دھمکی دی ہے کہ اگر ایرانی بندرگاہوں کو نشانہ بنانے کی جرآت کی گئی تو خلیج میں کوئی بندرگاہ بھی محفوظ نہیں رہے گی۔ ٹرمپ اپنے منصوبے ،ایرانی تیل پر قابض ہونے کے خواہش ناتمام میں ناکامی کے بعد،اس خطے میں موجود تیل فروخت کرنے والے تمام ممالک سے تیل کی ترسیل کو بند کروانے پر تلا دکھائی دیتا ہے کہ اگر امریکہ ایران کی ایک بندرگاہ تباہ کرتا ہے تو ایران جواب میں خلیج کی تمام بندرگاہوں کو تباہ کر دے گا اور یوں اس خطے سے تیل کی ترسیل و فروخت بند ہو جائیگی،جو کسی حد تک چین کے لئے سب سے زیادہ نقصان دہ ہو گی۔ ایسی صورت میں امریکہ دنیا کو اپنا تیل فروخت کرنے کے اقدامات کرے گا جبکہ وینزویلا کا تیل بھی دنیا کو فروخت کرنے کی کوشش کرے گا البتہ اگر امریکہ اپنی ان مذموم حرکات کو روک لے تو خطے میں امن کی صرف یہی ایک کرن باقی بچتی ہے۔





