Column

جہیز رسم اور جائیداد میں حصہ بیٹی کا حق ہے

جہیز رسم اور جائیداد میں حصہ بیٹی کا حق ہے
تحریر: رفیع صحرائی
معاشرے کی اصل پہچان اس کے کمزور طبقات کے ساتھ برتائو سے ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں اس پیمانے پر اگر کسی کے ساتھ سب سے زیادہ ناانصافی ہوئی ہے تو وہ بیٹی ہے۔ بظاہر ہم بیٹی کی پیدائش پر خوشیاں مناتے ہیں، دعائیں دیتے ہیں، مگر جیسے جیسے وہ جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتی ہے، فرسودہ رسمیں اس کے گرد ایک ایسا حصار قائم کر دیتی ہیں جس میں اس کے حقوق دم توڑنے لگتے ہیں۔ انہی رسموں میں سب سے سنگین اور دیرینہ مسئلہ’’ جہیز‘‘ کا ہے۔ جہیز کی رسم نے معاشرے کو اس حد تک اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے کہ ہزاروں نہیں لاکھوں بیٹیاں جہیز نہ ہونے کی وجہ سے والدین کی دہلیز پر بیٹھی رہ جاتی ہیں۔
ہم نے جہیز کو محبت، عزت اور ذمہ داری کا نام دے کر ایک ایسی سماجی روایت بنا دیا ہے جو درحقیقت بیٹی کے حق پر پردہ ڈالتی ہے۔ والدین اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی، زیور، سامان، حتیٰ کہ قرض لے کر بھی بیٹی کو رخصت کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ انہوں نے اپنا فرض ادا کر دیا۔ مگر کیا واقعی یہ فرض کی ادائیگی ہے؟ یا یہ ایک ایسی روایت کی پیروی ہے جس نے انصاف کے اصل تصور کو دھندلا دیا ہے؟
اسلام نے عورت کو وہ مقام دیا جس کا تصور بھی بہت سے معاشروں میں نہیں کیا جا سکتا تھا۔ قرآنِ حکیم نے نہایت وضاحت کے ساتھ جائیداد میں بیٹی، بیوی، ماں اور بہن کے حصے مقرر کیے۔ یہ حصے کسی رعایت یا احسان کے طور پر نہیں بلکہ ایک لازمی حق کے طور پر دئیے گئے۔ مگر المیہ یہ ہے کہ ہم نے اس واضح حکم کو نظرانداز کر کے جہیز جیسی غیر شرعی روایت کو ترجیح دے دی۔ ہم بیٹی کو رخصت کرتے وقت اس کے ہاتھ میں سامان تو دے دیتے ہیں، مگر اس کا مستقل حق یعنی جائیداد میں اس کا جو حصہ بنتا ہے وہ اس سے چھین لیتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ جہیز ایک وقتی سہارا ہے جو وقت کے ساتھ ختم ہو جاتا ہے۔ چند سالوں میں فرنیچر پرانا ہو جاتا ہے، برقی آلات ناکارہ ہو جاتے ہیں اور زیور بھی اکثر حالات کی نذر ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس جائیداد میں حصہ بیٹی کو ایک مضبوط معاشی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ یہ اسے خودمختاری دیتا ہے، عزت نفس عطا کرتا ہے اور زندگی کے نشیب و فراز میں سہارا بنتا ہے۔ یہ صرف ایک مالی حق نہیں بلکہ اس کی شخصیت اور وقار کا تحفظ بھی ہے۔
جہیز کی روایت نے نہ صرف بیٹیوں کے حقوق کو پامال کیا بلکہ والدین کو بھی ایک نہ ختم ہونے والے معاشی بوجھ تلے دبا دیا ہے۔ کتنے ہی گھر ایسے ہیں جہاں بیٹی کی شادی کے لیے زمینیں بیچ دی جاتی ہیں، قرضوں کا بوجھ اٹھایا جاتا ہے اور برسوں تک اس کی قیمت چکائی جاتی ہے۔ یہ
سب صرف اس لیے کہ معاشرہ انگلی نہ اٹھائے۔ مگر یہی معاشرہ اس وقت خاموش رہتا ہے جب بیٹی کو اس کے حقِ وراثت سے محروم کیا جاتا ہے۔
یہ تضاد ہماری اجتماعی سوچ کا آئینہ دار ہے جہاں دکھاوا حقیقت پر غالب آ چکا ہے اور رسمیں انصاف کو نگل گئی ہیں ۔ ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ جہیز دراصل ایک سماجی دبا ہے، نہ کہ دینی یا اخلاقی فریضہ ہے جبکہ جائیداد میں حصہ دینا نہ صرف شرعی حکم ہے بلکہ ایک منصفانہ معاشرے کی بنیاد بھی ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے رویوں کا سنجیدگی سے جائزہ لیں۔ بیٹی کو جہیز دینے کے بجائے اس کے نام جائیداد منتقل کی جائے، اسے اس کا قانونی اور شرعی حق دیا جائے۔ یہ قدم نہ صرف ایک فرد کی زندگی بدل سکتا ہے بلکہ پورے معاشرے میں انصاف اور توازن کو فروغ دے سکتا ہے۔ اس کا سادہ سا طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ بیٹی کی شادی کے وقت زمین میں اس کا جو حصہ بنتا ہے اس کی رجسٹری تیار کروا لی جائے۔ نقد رقم جو اس کے حصے میں آتی ہے اسے چیک یا کیش کی صورت میں تیار رکھا جائے اور بیٹی کی رخصتی کے وقت جائیداد کے کاغذات اور نقدی اسے دی کر گھر سے رخصت کیا جائے۔ یہ بیٹی پر احسان نہیں بلکہ اس کے حق کی ادائیگی ہو گی۔
اگرچہ یہ فیصلہ آسان نہیں ہو گا کیونکہ یہ عمل روایت کے خلاف جانے کا حوصلہ مانگتا ہے۔ مگر یہی وہ جرات ہے جو قوموں کی تقدیر بدلتی ہے۔ ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ ہم رسموں کے غلام بن کر جیئیں گے یا انصاف کو اپنا شعار بنائیں گے۔
اگر ہم واقعی اپنی بیٹیوں سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں ان کے لیے وقتی آسائش نہیں بلکہ مستقل تحفظ کا بندوبست کرنا ہوگا۔
وقت آ گیا ہے کہ ہم سوچ بدلیں، رویے بدلیں اور ترجیحات کا ازسرِ نو تعین کریں۔
بیٹی کو جہیز نہیں، جائیداد میں حصہ دیجئے کیونکہ یہی اس کا حق ہے، یہی انصاف ہے، اور یہی ایک مہذب معاشرے کی اصل پہچان ہے۔

جواب دیں

Back to top button