ہجرت کے مقدس مقامات پر زائرین کو جانے کی اجازت

ہجرت کے مقدس مقامات پر زائرین کو جانے کی اجازت
نقارہ خلق
امتیاز عاصی
عالم اسلام کے زائرین کے لئے یہ خبر خوش آئند ہے سعودی حکومت نے ہجرت کے مقامات مقدسہ پر زائرین کو جانے کی اجازت دے دی ہے۔ یوں تو مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کا چپہ چپہ مسلمانان عرب و عجم کے لئے مقدس ہے، لیکن ہجرت کے وہ مقامات جہاں رسالت مآبؐ اور سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے مدینہ منورہ جاتے ہوئے قیام فرمایا۔ اس مناسبت سے ان مقامات مقدسہ کی زیارت زائرین کے لئے کسی اعزاز سے کم نہیں۔ اس ناچیز کو جبل ثور کے قریب سے گزرنے والی شاہرا ہ پر سفر کرنے کا کئی بار موقع ملا، مگر سعودی پابندیوں نے مجھے غار ثور کی زیارت سے محروم رکھا۔ اب سعودی حکومت نے جبل ثور تک پہنچنے تک سٹرک تعمیر کر دی ہے، ورنہ غار تک پہنچے میں کافی وقت درکار ہوتا ہے۔ جبل ثور وہی غار ہے رسالت مآبؐ نے سیدنا ابو بکر صدیق ؓ کے ہمراہ مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ ہجر ت فرمائی تو سب سے پہلے اسی غار میں قیام فرمایا تھا۔ جب ایک موقع پر کفار مکہ اس غار تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے اور ان کے پائوں کی آہٹ سن کر حضرت ابوبکر صدیق ؓنے کچھ پریشانی کا اظہار فرمایا تو نبی کریمؐ نے فرمایا تھا اے ابوبکر ؓ فکر مت کرو اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ یہ قدرتی امر ہے زائرین حج و عمرہ کی دیرینہ خواہش ہوتی ہے وہ ان مقامات مقدسہ کی زیارت سے فیض یاب ہوں جن کی کسی نہ کسی حوالے سے نسبت آقائے دو جہاںؐ سے ہے۔ صدیاں گزرنے کے باوجود یہ مقامات مقدسہ اپنی حیثیت برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ ہجرت کے راستے میں کہیں ایک مقام ایسے ہیں جہاں رسالت مآبؐ نے قیام فرمایا تھا۔ جبل ثور سے اسی کلومیٹر جدہ روڈ پر ایک مقام آتا ہے جہاں سرور کائناتؐ کی اوٹنی بیٹھ گئی اور وہیں آپؐ نے قیام فرمایا تھا۔ آگے چل کر ایک ایسا مقام آتا ہے جہاں بنی کریمؐ نے ایک خاتون سے بکری کے دودھ کی خواہش ظاہر کی تو خاتون نے بتایا بکری دودھ نہیں دیتی، جس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ والہ وسلم نے بکری پر ہاتھ پھیرا تو اس نے دودھ دینا شروع کر دیا تھا۔
تاریخ اسلام میں ہجرت مدینہ کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ ہجرت مدینہ منورہ کے فیوض و برکات تھے، جس نے انسانیت کو کفر کے گھپ اندھیروں سے نکال کر روشنی مہیا کی۔ سعودی وزارت حج و عمرہ نے پاکستان سے جانے والے حج گروپ آرگنائزروں کے ایک گروپ کو ہجرت کے راستے کے ان مقامات مقدسہ کی زیارت کرائی جہاں رسالت مآبؐ اور سیدنا ابی بکر صدیق ؓ نے قیام فرمایا تھا۔ سعودی وزارت حج نے ان تمام مقامات کی تصاویر شائع کر دی ہیں، جن کے قرب و جوار میں عالی شان ہوٹل تعمیر کئے گئے ہیں تاکہ زائرین کو قیام کرنے میں دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اگرچہ مدینہ منورہ میں روضہ اقدس کے علاوہ مقامات مقدسہ کی تزئین و آرائش عثمانی عہد میں ہوئی، جسے سعودی حکومت نے برقرار رکھا۔ مدینہ منورہ جانے والے زائرین ان مقدس مساجد پر نظر ڈالتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے جیسے چند سال قبل ہی تعمیر کی گئی ہوں، حالانکہ انہیں تعمیر ہوئے کئی سو سال گزر چکے ہیں۔ مشہور سعودی مورخ یاسین خیاری نے اپنی کتاب تاریخ معالم مدینہ منورہ قدیما و حدیثا میں بعض مقدس مقامات کی نشاندہی کی ہے، جنہیں تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے، مگر ان کے آثار موجود نہیں ہیں۔ یہ بات بہت کم لوگ جانتے ہیں نبی کریمؐ نے ہجرت کے موقع پر سب سے پہلے قباء کے مقام پر انصار مدینہ کے سردار کلثوم بن ھدم کے ہاں سات روز تک قیام فرمایا تھا۔ یہ وہی مسجد ہے جس کے بارے میں رسالت مآبؐ نے ارشاد فرمایا تھا قباء مسجد میں نوافل ادا کرنے والوں کو عمرہ کے برابر ثواب ملے گا۔ مسجد نبویؐ کے قرب میں دور نبویؐ کے ان مقدس مقامات پر مساجد تعمیر ہیں، جہاں سرکار دو عالمؐ نے بعض موقعوں پر نمازوں کی ادائیگی فرمائی تھی، جیسے کہ مسجد غمامہ، جہاں بارش کے لئے نبیؐ نے دعا کے لئے ہاٹھ اٹھائے تھے کہ بادل آگئے اور بارش شروع ہو گئی تھی۔ اسی طرح اور بھی بہت سی مساجد یہاں اپنی اصلی حالت میں موجود ہیں، جہاں عیدین کی نمازیں رسالت مآب ؐ نے ادا فرمائیں تھیں۔ شارع ستین کے دوسری طرف مسجد اجابہ واقع ہے جہاں سرکار دوعالمؐ نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے تھے دعا قبول ہو گئی تھی، یہ مسجد اب بھی موجود ہے۔ طریق امیر محسن کے قریب مسجد سبق واقع تھی جہاں سے صحابہ ؓ جنگی تیاریوں کے لئے جبل احد تک گھوڑے دوڑایا کرتے تھے، چند سال قبل یہ مسجد گرا دی گئی ہے۔ یاسین خیاری نے اس جگہ کی نشاندہی اپنی کتاب میں کی ہے، جہاں حضرت ابو ایوب انصاریؓ کا گھر واقع تھا اور بنی کریمؐ کی اونٹنی وہیں آکر بیٹھی تھی، چنانچہ اسی جگہ ہجرت کے موقع پر آنحضورؐ نے قیام فرمایا تھا۔ سعودی مورخ نے باب سلام سے متصل اس جگہ کی بھی نشاندہی کی ہے جہاں سیدنا ابوبکر صدیقؓ کا گھر واقع تھا۔ آج کل وہاں ایک تختی نصب ہے جس پر کندہ ہے ھذیہ خوخہ ابوبکر صدیقؓ یعنی یہاں حضرت ابوبکر صدیقؓ کے گھر کی کھڑکی تھی۔ سعودی حکومت کا عالم اسلام سے آنے والے زائرین کے لئے ہجرت کے ان مقامات کی زیارت کے لے اجازت دینے کا مقصد جہاں سیاحت کو فروغ دنیا ہے وہاں زائرین کو مقامات مقدسہ کی زیارات کو موقع فراہم کرنا ہے۔ سعودی مورخ نے ان تاریخی مقامات کی نشاندہی تصاویر کے ساتھ کی ہے جو اب اپنی اصلی حالت میں موجود نہیں ہیں بلکہ انہیں کسی نہ کسی وجہ سے منہدم کر دیا گیا ہے، جیسے مسجد نبویؐ کے قریب ایک مقام ہے جہاں رسالت مآبؐ کی رحلت کے بعد سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی بیعت ہوئی تھی، جسے ثقفیہ بنی ساعدہ کہا جاتا تھا، اب وہ جگہ مسجد نبویؐ کے توسیع منصوبے میں آگئی ہے۔ شاہ فہد کے منصوبے کے مطابق مسجد نبویؐ کو دور نبویؐ کی مدینہ منورہ کی کل آبادی والے رقبے پر توسیع دے دی گئی ہے، تاہم اس کے باجود سعودی حکومت نے شاہراہ ستین سے باہر بہت سی عمارات گرا دی ہیں۔





